چیڑ کا درخت - سید رحمن شاہ

ہمارے گھر سے نشیب میں اتر کر ندی کے کنارے چیڑ کا ایک تناور درخت تھا۔ اسکی شباہت ، اس کے قدیم تنے اور اسکی گھناوٹ سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ درخت زیادہ نہیں تو کم از کم سو سال پرانا ہے۔ نایاب نے بتایا کہ یہ جنگلی درخت ہے۔ میں نے اس بات میں نایاب سے کبھی اتفاق نہیں کیا۔ جتنے بھی چیڑ کےجنگلی درخت ہوتے ہیں وہ قد آور نہیں ہوتے۔ اسکا تنادیوہیکل سا نہیں ہوتا اور انکی کچھ خاص گھناوٹ نہیں ہوتی۔ جن جن درختوں کی گھناوٹ زیادہ ہوتی ہے وہ کسی شخص کے ہاتھ سے لگے درخت ہوتے ہیں اور وہ شخص کوئی اللہ والا ہی ہوتا ہے۔ شکر ہے کہ مجھے نایاب نے یہ نہیں کہا کہ یہ درخت ان کے داداجی نے لگایا تھا،کیوں کہ مجھے تو نہیں لگتا کہ نایاب کا دادا جی اللہ والا بھی ہوسکتا ہے۔

اس درخت کے نیچےاس کی گھنی چھاؤں میں ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ بھی تھا۔ندی کنارے بنے راستے پر جو بھی راہگیر گزرتے وہ اس درخت کے نیچے تھوڑی دیر سستانے کے لیے رک جاتے تھے ۔چشمے کا ٹھنڈا پانی پیتے، آپس میں چہلیں کرتے اور پھر اپنے راستے پر روانہ ہوجاتے۔میں اور نایاب اکثر ندی کنارے اس درخت کی گھنی چھاؤں بیٹھے ہوتے اور گئے زمانوں کے قصے ایک دوسرے کو سناتے۔ کبھی کبھی ہم چشمے کے قریب سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھاتے اور ندی کے پانیوں میں پھینکتے۔ ایسا کرنا ہمارے لیے بہت دلچسپی کی باعث ہوتا۔ کبھی کبھی ہم ندی کے ٹھنڈے پانیوں سے گزرتے اور سامنے خوبانیوں کے باغ سے خوبانیوں چراتے اور مزے سے اس درخت تلے بیٹھے کھاتے رہتے۔

کئی بار ہم اس بارے سوچتے کہ ندی سے مچھلیا ں پکڑ کر اس چشمے کے پانیوںمیں ڈال دیتے ہیں۔ ایک بار ہم نے ایسا کیا۔ ہم نے ندی میں مچھلیاں پکڑنے کا کانٹا ڈالا۔ کچھ دیر بعد دھاگے کے ساتھ حرکت محسوس ہوئی تو ہم نے کانٹا باہر کھینچا۔ ایک مچھلی اس کے ساتھ باہر آئی۔ جب تک ہم نے اس کے منہ سے کانٹا آزاد کرنا چاہا۔ نہ صرف مچھلی مرچکی تھی بلکہ اس کے منہ سے بہت سارا خون بہہ گیا تھا۔ اب میں اس حرکت کے بارے سوچتا ہوں تو میرے قہقہے پھوٹتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ نایاب کو یہ احمقانہ حرکت یاد بھی ہوگی یا نہیں اور میں اس سے پوچھ بھی نہیں سکتاکہ کوئی راستہ ہی نہیں پوچھنے کا۔ ایک بار ہم نے یہ بھی سوچا کہ ندی سے زندہ مچھلی کیسے پکڑی جائے۔ جب کوئی راستہ نظر نہ آتا تو کئی خیالوں اور پرانے زمانے کے بادشاہوں کے قصے اور پریوں کی داستانیں ہمارے ذہن سے مچھلیوں کا خیال نکالتیں اور ہم بھول جاتے کہ ہم نے زندہ مچھلیاں بھی پکڑنی تھیں۔

چیڑ کے درخت سے کبھی کبھار کوئی پائن کون گرتا تو ہم اس پر جھپٹ پڑتے اور اس سے چلغوزے نکال کر مزے سے کھاتے۔ ہم اگرچہ اچھے دوست کے طور پر اس درخت کی گھنی چھاؤںمیں بیٹھے ہوتے ،لیکن پائن کون پر اگر نایاب پہلے جھپٹ گئی تو مجال ہے کہ وہ مجھے ایک چلغوزہ بھی دے، اگرچہ میں اکثر اپنے حصے کا سارا پائن کون ہی اس کے حوالے کردیتا۔
ہم اکثر گھر سے اپنے ساتھ کھانے کی کوئی چیز یا موسمی پھل وغیرہ لے جاتے۔ انہیں ندی کے شفاف پانیوں سے دھونے کے بعد چشمے کے یخ پانیوں میں رکھ دیتے اور مزے سے کھاتے۔ اس دوران میں اُسے اقبال اور حبیب جالب کے انقلابی اشعار سناتا اور وہ مچھے فضول قسم کے ڈائجسٹوں سے جادوئی کہانیاں سناتی۔

چیڑ کےاُس درخت سے ہماری کئی یادیں وابستہ تھیں۔ اب ہماری وہ تمام یادیں مٹ چکی ہیں،کیوں کہ چیڑ کا وہ درخت بھی تو وہاں سے مٹ چکا ہے اور وہ یخ پانیوں کا چشمہ بھی تو ریت اور سیمنٹ سے بھر دیا گیا ہے۔ اس کے پنسال بند ہوگئے ہیں اور اب وہاں سے پانی نہیں پھوٹتے۔ گاؤں کے زمیندار نے ندی کنارے اپنی زمینوں تک سڑک نکال لی ہے اور چیڑ کے اس درخت کو بے دردی سے کاٹ دیا گیا ہے۔ اب وہاں سے کوئی گزرتا ہے تو وہاں ٹھہرتا ہی نہیں، کیوں کہ وہاں اب چیڑ کا درخت ہی نہیں۔ شاید وہ درخت نایاب کے داد ا جی نے لگایا تھا جو مزید نہ ٹک سکا اور کٹ گیا۔ اور۔۔اور۔۔ نایاب بھی تو نہ ٹک سکی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */