ہیومن روبوٹس یا سائی بورگ دلہن - خالد ایم خان

کافی عرصہ سے دل ہی نہیں کررہا تھا لکھنے کو، لیکن کیا کروں، اس قوم کی حالت زار دیکھ کر (معذرت کے ساتھ ) دکھ ہوتا ہے ،دل جلتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آج بھی ،،اک واری فیر زرداری ،، آوے ہی آوے شیر آوے ،، آئی آئی پی ٹی آئی ،، سے باہر نکل کرہی نہیں دے رہے ،ظاہر ہے کہ ہم ان سب باتوں سے باہر نکلیں گے تو کچھ اور سوچیں گے ،دنیا کی طرف دیکھیں گے اور اُن کو دیکھ کر خودبھی جستجو کریں گے ، تجربات کریں گے ،تخلیقات کریں گے ،آئیں چھوڑیں ان سب خرافات کو اور دیکھیں دنیا کے سائنس دانوں نے سائنس کی دنیا میںکیسے اپنی کرشمہ سازیوں سے پوری دنیا کے انسانوں کو انگشت بدن داں کیا ہوا ہے ،ورطء حیرت میں ڈالا ہوا ہے انسانوں کو کہ کیا یہ سب بھی ممکنات میں سے ہے ؟

ہیومن کلوننگ پر ایک تفصیلی آرٹیکل میں نے کافی سالوں پہلے ہی لکھا تھا کہ کس طرح چند ممالک نے اقوام متحدہ کو استعمال کرکے پوری دنیا پر انسانی کلوننگ پر پابندیاں عائد کروائیں اور خود پس پُشت اس خطرناک انسانی کلوننگ کے ذریعے دنیا میں موجود حیوانی درندوں کے جینز کے ساتھ انسانی جینز کے اشتراک سے کیسے کیسے عفریت تیار کرنے کی تیاریوں میں جُتے ہوئے ہیں ،بدنام زمانہ کورین سائنسداں کیپٹن وہ لائی سک آج بھی ایک زندہ مثال کی طرح دنیا میں موجود ہے ، میرے اندازوں کے مطابق وہ لائی سک چین کی کسی خفیہ لیبارٹری میں آج بھی اپنے تجربات جاری رکھے ہوئے ہے،دوسری طرف کافی عرصہ سے دنیا کے اندر سیکس ڈول متعارف کروائی گئی ،سیکس ڈول کی تاریخ تو بہت پرانی ہے ،سترہویں صدی عیسوی میں کچھ ڈچ ملاحوں نے بہت عرصہ تک سمندر میں رہنے کی وجہ سے اسے تخلیق کیا لیکن بعد میں ایک جرمن سائنٹسٹ نے اس میں جدت پیدا کی،جس میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت پیدا کی جاتی رہی اور اب کچھ سالوں پہلے اس ڈول کو جدید سیلیکون پلاسٹک سے تیار کرکے تجارتی بنیا دوں پر اسے فروخت کے لئے دنیا میں متعارف کروا دیا گیا۔

یہ کوئی خاص بات نہیں تھی اس قسم کے بہت سے سیکس ٹوائز دنیا میں فروخت کئے جاتے رہے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب دنیا کے بعض انونٹرز نے دنیا کے اندر جدید سیکس روبوٹ متعارف کرنے شروع کردئے ہیں اور بہت جدید انداز میں ان کے اوپر کام ہو رہا ہے ،خاص کر،،ہینسن روبوٹک لمیٹڈ ،، ہانگ کانگ کی لیبارٹری جس کے بانی ڈاکٹر ڈیوڈ ہینسن اور اہم ترین چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر بن گوئیٹز نے بے پناہ تجربات کے بعد 2016ء؁ میں ،،صوفیا ،، نامی ایک فی میل روبوٹ دنیا کے سامنے متعارف کروائی اور ساؤتھ بائی ساؤتھ ویسٹ کے ایک شو جو کہ آسٹن ،ٹیکسس امریکہ میں ہر سال مارچ کے مہینے میں منعقد کیا جاتا ہے میں پیش کی جسے دیکھ کر انسانی آنکھ دنگ رہ گئی ، جس کے بعد صوفیا نامی روبوٹ ایک ورلڈ وائڈ پرسنالٹی بن گئی جس کے دنیا بھر کے مختلف چینلز نے متعدد انٹرویوز کئے ،دوسری طرف آگے بڑھتے ہوئے امریکن انوینٹرر میٹ میک میولن نے اپنی فیکٹری،، ابیس کریئشن،، میں ہارمونی کے نام سے ایک فی میل روبوٹ تیار کرلی جس کے بعد میٹ میک میولن نے تجارتی بنیادوں پر اس کی پروڈکشن کا آغاز بھی کردیا ہے۔

مقابلہ بازی کے اس رجحان میں جاپانی کہاں پیچھے رہنے والے ہیں ،جاپانی انوینٹر ہیروشی اشی گورو نے پہلے تو دنیا کے سامنے اپنا خود کا خاکہ پیش کرڈالا م،،ہو بہو دوسرا ہیروشی اشی گورو ، ،ناقابل یقین دونوں کو ساتھ کھڑا کر دیا جائے تو پہچان مشکل ہو جاتی ہے کہ ان میں سے اصل ہیروشی کون سا ہے،حتی کہ بات چیت رنگ ڈھنگ سو فیصدی ہیورشی اشی گورو ، اشی گورو کے روبوٹ اس لحاظ سے دنیا میں مختلف ہیں کہ ان کی پروگرامنگ میں اشی گورو نے اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے،اس کے علاوہ ہیروشی نے اپنے روبوٹ کو ایک کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کردیا ہے جس کی وجہ سے ہیروشی اپنے روبوٹ کی نقل وحرکت کی مکمل مانیٹرنگ کرتا ہے ، فیس امپریشن سے لے کر بات چیت تک کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اشی گورو اس سے قبل اپنی 4 سالہ بیٹی کا بھی ری میک بنا چکے تھیاس کے ساتھ ہی 2005ء؁ میں اشی گورو نے ایک جاپانی نیوز کاسٹر کا بھی ہو بہو روبوٹ تیار کیا تھا جسے دیکھ کر خود،، ایاکو فیوجی،،دنگ رہ گئیں تھیں۔اشی گورو نے حال ہی میں،، ایریکہ،، نامی ایک فی میل روبوٹ تیار کی ہے جس کی بات چیت ، حرکات اور خوبصورتی دیکھ کر لوگوں کے منہ سے برملہ نکلا ،یہ جاپان کی مزید ترقی کی جانب سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی یہ روبوٹ اینڈرائڈ ، انٹیلیجنس اور خوبصورتی کی ایک زندہ مثال ہے ،ہیروشی اشی گورو کا سفر مزید بہتری کی جانب گامزن ہے دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہیروشی دنیا کے سامنے مزید کیا پیش کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی یونیورسٹی کے طالب علموں نے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عظیم اسلامی فلاسفر اور سائنسدان ابن سینا کا روبوٹ تیار کرلیا ،دنیا جدت کی جانب محو سفر ہے لیکن کیا یہ جدت نسل آدم کو راس آئے گی ،کیونکہ اس جدت سے مسائل جنم لیں گے اصل انسانوں کی جگہ روبوٹ لے لیں گے ، اور پھر جہاں فی میل روبوٹس کی تیاری عروج پر ہے وہیں اب میل سیکس روبوٹس کی تیاری بھی شروع کی جاچکی ہے ،اب سوال یہ جنم لے رہا ہے کہ کیا ان روبوٹس میں اتنی جدت لائی جکاسکے گی جو انسانی جذبات کی صحیع عکاسی کرسکیں ،اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر ؟ سوچیں کیا مشینی دور کے آغاز کا وقت شروع ہو چکا ہے ،مشینیں تو پہلے ہی ہمارے ارد گرد بہت ہیں لیکن ایسی مشینیں جو بلکل انسان ہی کی مانند ہوں ،جن کو اگر ایسے پروگرام کردیا گیا ہو کہ انسانوں کو اپنے قابو میں کیسے رکھنا ہے تو پھر ؟جب یہاں تک ممکن ہو چکا ہے تو آگے ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہئے دیکھیںآنے والے وقتوں میں یہ کرئیشنز کیا کیا گُل کھلائیں گی ،لیکن مغربی ورلڈ میں سیکس روبوٹ ڈول کے حوالے سے مشہور اسپینش سائنسدان ،،سرگئی سنٹوس ،، کے ایک جملے نے اس دنیا کی عورتوں کو ضرور چراغ پا کردیا ہوا ہے کہ مستقبل قریب میں ، یا آنے والے چند سالوں میں دنیا کے باسی ،،سائی بورگ دُلہنیں،، ضرور دیکھیں گے۔ اور لوگ اُن سے شادیاں بھی کریں گے ۔ لمحہ فکریہ ہے یہ ہم سب کے لئے ۔سوچنا پڑے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */