کچھ ناموں کے بارے میں - معشوق احمد

کچھ نام تبرکاً لیے جاتے ہیں اور کچھ طنزً۔۔۔تبرکاً محبوبا کا نام لیا جاتا ہے اور طنزً بیوی کا۔ کچھ نام اسم بامسمّٰی ہوتے ہیں اور کچھ معنی کے لحاظ سے ضد۔ نام کا شخصیت پر کیا اور کیسا اثر ہوتا ہے فرض کئجیے اگر کسی کا نام ہمت خان ہے ضروری نہیں وہ ہمت والا اور بہادر ہو گا ۔ہمت خان نام رکھنے والا شخص بزدل اور کم ہمت بھی ہو سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمت خان ہمت کا پتلا اور بہادری کا مجسمہ ہوتا لیکن ایسے جوہر کہاں دیکھنے کو ملتے ہیں کہ نام اور کام میں مطابقت ہو۔

ایک اور نام لجئیے آزاد، ضروری نہیں جس کا نام آزاد ہے وہ واقعی آزاد ہوگا، غلام بھی تو ہو سکتا ہے۔ ہو کیا سکتا ہے غلام ہوتا ہے سوچ کا ، فکر کا اور بعض دفعہ کرتوتوں کا بھی ۔ میرے ایک انوکھے دوست کا نام بھی آزاد ہے لیکن عادت و اطوار اور حسابی طور طریقے کے اعتبار سے دیکھے تو ضد ہی نظر آئے گئی۔اب ایک نام کا آزاد کن کن کاموں اور چیزوں کا غلام ہو سکتا ہے اور ہوتاہے، پردے میں رہے تو بہتر ہے۔ ایسی بھی کوئی تشویش ناک، خوف ناک ،ہیبت ناک عادتیں اس میں نہیں جو آپ پریشان ہونے لگے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا مالک اور کسی شئے کا غلام تو ہوتا ہی ہے ۔جی ہاں بیوی کا بھی غلام ہو سکتا ہے اس میں کیا مضایقہ۔لیکن آزاد تو بیوی کا غلام نہیں میری نظر میں اس کی بڑی وجہ مجھے یہی نظر آرہی ہے کہ وہ شادی شدہ نہیں، ورنہ عادتوں اور جورو کا غلام کون نہیں ہوتا۔ایک انسان آزاد ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس کی سوچ سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تنہائی میں کن سوچوں میں گم ہوتا ہے اور اپنی دوست کی بیوی کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کن نظروں سے اسے دیکھتا ہے۔ ہر انسان محفل میں خلوص مند ، درد مند ،محبت پرور، شریف النفس اور شریف عادات و اطوار کا مالک نظر آتا ہے لیکن اصل حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔

یوں تو میرے بہت سارے رفیق دوست اور جانثار ساتھی ہیں مگر کچھ خصوصیات اور منفرد ہونے کی بنا پہ ممتاز ہوتے ہیں۔ممتاز سے یاد آیا امتیاز بھی تو بہت ساروں کا نام ہوتا ہے۔ایسا ہرگز کسی کتاب میں نہیں لکھا ہے کہ امتیاز نام صرف تمیز دار ، تفریق یا فرق کرنے والوں کا ہی نام رکھا جاتا ہے۔کچھ بد تمیز اور مساوات پہ یقین کرنے والے بھی اس نام کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں کہ یہ نام رکھنے والا شخص امتیاز ی شان رکھتا ہو۔ تمیز دار ہو یا بدتمیز امتیاز نام رکھنے کے لیے کسی سرکاری محکمے سے کوئی سند وغیرہ نہیں لینی پڑتی نا ہی اپنے محلے والوں سے باپ کی کرتوتوں کو دیکھ کر مشورہ لیا جاتا ہے کہ بیٹے کا یہ نام رکھنا چاہیے یا نہیں۔یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ امتیاز واقعی تمیز اور فرق کرتا تھا یا نہیں لیکن اتنا تو سب نے دیکھا کہ چھیڑ چھاڑ کرنے اور ہنسی مزاق میں کسی کے ساتھ امتیاز نہ کرتا تھا ۔ بدلنا انسان کی فطرت ہے بدلاؤ کے خلاف کون ہو سکتا ہے لیکن میں ریت کے ذرے برابر یہ امید تو رکھ سکتا ہوں کہ اگر امتیاز کو کبھی امتیازی حقوق حاصل ہوئے تو وہ بدل جائے گا۔

‌شکر ہے نام پیدا ہوتے ہی رکھا جاتا ہے اگر بڑے ہوکر عادات واطوار اور حرکات و سکنات کو دیکھ کر نام رکھا جاتا، میرا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ کسی کا نام شرافت نہ رکھا جاتا۔ اگر شرافت نام کا شخص کسی کو گالی دے گا اور اس تک وہ گالی کوئی درمیانی شخص پہچائے گا، ظاہر ہے وہ کہے گا شرافت نے آپ کو گالی دی۔ سننے والا شخص ضرور حیرانی اور تعجب کے ملے جلے اثرات تلے سوچے گا کہ کیا زمانہ آگیا "شرافت" بھی گالی دینے لگی ۔میں نے ایسے بہت سے شر اور عافت کے پتلے دیکھے جن میں یہ دونوں خصوصیات موجود تھیں اور اس بناپہ شرافت کہلائے۔ہو سکتا ہے بچپن میں شریف رہے ہو ۔کون بچہ شریف اور معصوم نہیں ہوتا جوں جوں بڑا ہوتا ہے جسامت بڑتی ہے اور معصومیت اور شرافت گھٹتی ہے۔ شرافت کے نام سے کسی کی نام آوری ہونا اور یہ نام بازار تک جانا یہ ثبوت کافی ہے کہ شرافت نام کے بندے میں شرافت ضرور بدرجہ اتم موجود ہوتی ہوگئی اتنا بھی کرتوتوں کو دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

‌یااللہ خیر ہمارے معاشرے میں وسیم نام کے بھی لوگ پائے جاتے ہیں۔ ظاہری شکل وصورت سے وہ حسین و جمیل ،خوبصورت اور خوش وضع ہو تو ہو دل سے کیسے اور کیا ہے خدا جانے۔دل کے بھید تو خدا ہی جانتا ہے شکل و صورت سے کوئی تھوڑی یہ بتا سکتا ہے کہ کون کیسا ہے۔کہاوت ہے کہ سونا جانے کسے اور آدمی جانے بسے۔اگر آپ کو کسی وسیم نامی شخص کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہو پھر تو اپنا حال آپ خود ہی جانتے ہوں گے، میں کیسے جان سکتا ہوں اور لکھ سکتا ہوں ہاں البتہ ڈرتے ڈرتے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔کبھی کبھی الٹ کا پلٹ اور پلٹ کا الٹ دونوں واقعہ ہوتے ہیں۔

‌رات کو چلنے والے ضروری نہیں کہ طارق ہی کہلائے۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صبحح کا ستارہ سب کو نظر آئے۔ہو سکتا ہے کچھ سخت حادثے آپ کو طارق نام کے شخص سے ملائے اور مل کر آپ کو اپنائیت کی خوشبو، حساسیت ، نرم مزاجی اور کبھی کبھار طیش اور غصے کے ملے جلے ردعمل کا سامنا رہے۔ بہت سے طارق نام کے اشخاص تار اور یار سے دور رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔مجھے کبھی اس تجربے کا سامنا نہیں رہا کہ طارق راتوں کو سوتے نہیں۔ ہوسکتا کسی علاقے کی یہ خصوصیت ہو یا آب و ہوا کا اثر ہو یا صحبت میں پڑ کر ایسے اثرات دیکھنے کو ملتے ہوں۔ ہاں البتہ یہ کہنے میں مجھے کوئی جھجک اور عار نہیں کہ یہ نام رکھنے والے سخت حادثات و حالات سے گزر کر گزر نہیں جاتے بلکہ ہمت استقلال ، نرم مزاجی ، طنزیہ ہنسی ، بھروسےاور اعتماد کے ساتھ زندگی کی بہاریں گزارتے نظر آتے ہیں۔میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ نام کا اثر ہوگا غلط فہمی میں مت رہنا۔

کوئی شخص بائیں جانب رہ کر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرےایسا شخص لوگوں میں یاسر مقبول ہوتا ہے۔ بائیں جانب دل بھی تو ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھے تو دل مشکلات کے بجائے آسانی کا سبب ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے اس کی وضاحت دل پہ چھوٹ کھانے والے ہی کر سکتے ہیں۔ یاسر نام رکھنے والا شخص پاس رہ کر "یا " نہیں رکھتا اور نہ ہی کوئی سر و بھید رکھتا ہے اور اگر وہ امین بھی ہو تو ڈر کس بات کا اور پھر وہ دور جاکر بھلے ہی بہت سارے سروں میں گیت گاتا پھرے۔محسوس کرنے کے لیے قوت حس کا ہونا ضروری ہے۔ آسان کوئی چیز تب لگتی ہے جب مشکل سے انسان واقف ہو ۔ واقفیت رکھنا ، شناخت کرنا اور پہچان کے لیے عرفان کا ہونا ضروری ہے۔ عرفان کو حق تعالی کی معرفت اور خدا شناسی کا علم ہو ضروری نہیں۔انسان اور انسانیت کی پہچان ہی کافی ہے۔ کہتے ہیں جس نے انسان کو پہچانا یا یوں کہے کہ خود شناس ہی خدا شناس ہوتا ہے۔ ہم بھی کس الجھن میں پھنس گئے خود اور خدا شناسی کی بحث کو بالائے طاق رکھ کر مختصر یہ عرض کرتا چلوں کہ کچھ لوگوں کا نام عرفان ہوتا ہے۔

نام کے عرفان کام کے بھی نکلے یہ قدغن لگانا خلاف فطرت ہے۔ایک عرفان پہ ہی کیا مقصود حق تعالی کا قرب کسی کو بھی حاصل ہو سکتا ہےشرط سخاوت ہے۔کوئی شان و شوکت والا فاتح ، خوش قسمت ،خوش نصیب اور مہذہب ہی ہوگا جس کو یہ قرب حاصل ہوگا۔ایران کی ملکہ شیریں کا قرب پرویز کو حاصل تھا۔ وہ قیمتی اور نہایت اعلی ذوق رکھتا تھا۔ گمان اور خیال ہی کیا جاسکتا ہے کہ شریں جب اپنے شریں لبوں سے پرویز کا نام لیا کرتی ہوگئی تو سات سروں کے تار خود بخود کانوں میں رس گھولتے ہوں گے۔ موجود دور میں آپ کا واسطہ بھی کسی سے نہ کسی شان و شوکت والے پرویز سے پڑا ہوگااور یہ محسوس کرنے میں کسی بھی دقت کا سامنا نہ رہا ہوگا کہ ایسے پرویز دنیا میں موجود اور زندہ ہے جو اپنے نام کی خصوصیات رکھتے ہیں مگر، اس مگر کی وجہ سے نہ جانے کتنے فتنے ، فساد برپا ہوئے اور کتنی جنگیں لڑی گئی سارے فساد کی جڑ یہ اگر مگر ہی تو ہے اگر خیال نہ آتا تو ان ناموں کے بارے میں کون لکھتا مگر خیال کو آنا تھا اور ذہن پہ دستک دے کر بہت سارے ناموں اور کاموں سے پردہ اٹھانا تھا۔ پردہ پڑا رہے تو بہتر ہے۔

ہاں اگر الطاف نامہ لکھنے بیٹھ جائے تو کچھ لوگوں کی مہربانیاں اور نوازشیش یاد آتی ہیں۔مزے اور کرم نوازی کا تو پتا نہیں ہاں البتہ لطف کو جمع کرے تو الطاف بنتا ہے اور جہاں تک میں نے دیکھا ہے لطف والےالطاف صاحب تصنیف تھے۔ سنے میں آیا ہے کہ اپنے تصانیف کا سفر جاری و ساری رکھیے ہوئے ہیں۔جن کے نام میں لطف ہو ان سے کلام کرنے میں لطف نہ آئے تو کیسے الطاف ۔اللہ اپنی نوازشیش اور مہربانیاں اگر سب پہ رکھیے تو الطاف نام عام ہوجائے گا۔ یوں بھی اللہ کے قریب منتخب افراد ہی ہوتے ہیں جو عبادت کا حظ اور اطاعت کے لطف سے سر شار ہوتے ہیں۔

کچھ نام اپنے اندر رعب ، دبدبہ ، ہمت ، وجاہت اور ایسی دہشت رکھتے ہیں کہ ہنسی تو درکنار بندہ بات کرتے ہوئے ڈر اور جھجک محسوس کرتا ہے ۔ بعض نام اتنے میٹھے ہوتے ہیں کہ شوگر کا مریض بھی بار بار دہرائے مرض میں اضافہ نہیں ہوتا۔بہرحال پیچان اور شناخت کے لیے نام رکھنا اور نام لینا ضروری ہے ورنہ کتنے اشخاص نام کے باوجود گمنام اور بدنام ہونے کے باوجود نیک ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔دنیا جب تک قائم رہے گئی انسان کی پہچان نام اور کام سے ہوتی رہے گئی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */