جناب وزیراعظم دل بڑاکریں - پروفیسر جمیل چودھری

سیاسی منظر نامے میں ہرکوئی ارتعاش پیداہوتا دیکھ رہا ہے۔اپوزیشن نے2۔کامیاب جلسے کرلئے ہیں۔حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام جوق درجوق جلسوں میں آرہے ہیں۔کئی دانشوروں کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ عوام کی جلسوں میں شرکت اپوزیشن کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کو خود ہی درپیش مسائل کی وجہ سے ہے۔نظر آرہا ہے کہ ہرجلسے میں عوام کی شرکت پہلے سے زیادہ ہوتی چلی جائیگی۔کوئی بھی طبقہ اس وقت پاکستان میں ایسا نہیں ہے جوسرکاری پالیسیوں سے تنگ نہ ہو۔غربت کی لکیر سے نیچے اگر2سال پہلے21فیصد لوگ تھے۔اب لکیر سے اوپر40۔فیصد عوام آچکے ہیں۔

مڈل مین بھی اب مارکیٹ میں جاکرحیران ہوجاتا ہے ۔گھریلو ضروری اشیاء میں کونسی کونسی خریدے اور کونسی کی خرید ملتوی کرے۔روپیہ کی قوت خریددن بہ دن ختم ہورہی ہے۔مہنگائی کی بڑی وجہ ڈالرکے ریٹ کابڑھنا بھی ہے۔ہمارے ہاں بے شمار اشیاء باہرسے آرہی ہیں۔ضروریات زندگی بھی باہرسے درآمد کی جارہی ہیں۔ڈالر3سال پہلے105روپے کاتھا اوراب165روپے کے اردگرد گھوم رہاہے۔معیشت کو3۔بڑے شعبوں زراعت،تجارت اورصنعت میں تقسیم کیاجاتا ہے۔یہ تینوں شعبے ڈالرکے بڑھتے ہوئے نرخ سے متاثر ہورہے ہیں۔جب بجلی کانرخ بڑھتا ہے ۔گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔توقدرتی طور ان دونوں Inputsسے تیار ہونے والی ہرشے کانرخ بھی بڑھ جاتا ہے۔اوریہ توہم سب جانتے ہیں کہ زراعت سے لیکرصنعت تک ہرجگہ بجلی کااستعمال ہوتا ہے۔ہماری سب سے بڑی صنعت کپڑے کی صنعت ہے۔وہاں گیس کے بغیر کام نہیں ہوسکتا ۔اب گیس توبہت کم پیداہورہی ہے۔

جوں جوں سردی بڑھے گی۔گیس کی پیداوار اورکم ہوجائے گی۔اب صنعت کاروں نے اپنے کارخانوں میں گیس کی جگہ لکڑی اورکوئلہ کااستعمال شروع کردیا ہے۔دنیا بجلی بنانے کے لئے نئے نئے صاف شفاف طریقے استعمال کررہی ہے۔ایندھن کی اعلیٰ اقسام استعمال کی جارہی ہیں۔اورہم گیس کی بجائے لکڑی اورکوئلہ کی طرف جارہے ہیں۔یہ کیفیت وہی ہے۔جسے کہاجاتا ہے۔دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔میں نے چند فقروں میں ملک کے عوام کی کیفیت اورمعاشی صورت حال کاذکر کیا ہے۔جوبہت ہی بری ہے۔اگرملک میں شروع ہونے والے جلسے اور جلوس مزید بڑھتے اورپھیلتے چلے گئے اورحکومت انہیں روکنے کے لئے انتظامیہ کواستعمال کرنے لگے گی۔توحکومت کی پوری توجہ اس کام کی طرف ہوجائے گی۔کچھ ہفتوں سے وزیراعظم صاحب اور انکے مشیر یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔اورپھر مرکزی اورصوبائی انتظامیہ کے ہوتے ہوئے نئی"ٹائیگر فورس" کاقیام۔یہ کام ذولفقار علی بھٹو نے بھی کیاتھا۔لیکن وہ فورس بھٹو کوکوئی فائدہ نہیں پہنچا سکی تھی۔قیمتوں کاکنٹرول خالصتاً ضلعی اورتحصیل سطح کی انتظامیہ کاہے۔

سرکاری انتظامیہ کے یہ لوگ آخرکس لئے بھرتی کئے ہوئے ہیں۔نچلے لیول کی اس انتظامیہ کومتحرک کیا جائے۔ذرا آپ گزشتہ دورمیں شہباز شریف کے کاموں کی طرف نظر ڈالیں۔انہوں نے پورے صوبے میں ضلعی سطح کے افسروں کے ذریعے قیمتوں کوکنٹرول کیاہواتھا۔مجھے یاد ہے کہ ہرسستے بازار میں مجسٹریٹ کے ساتھ پولیس موجود ہوتی تھی۔دوکانداروں نے نرخنامہ دوکان پرچسپاں کیاہوتاتھا۔کوئی بھی دوکاندار اس نرخ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی جرات نہیں کرسکتاتھا۔میری یہ رائے ہے کہ آپ"ٹائیگرفورس"کے کام کوختم کردیں۔ویسے بھی یہ ٹائیگر فورس جب مارکیٹوں میں جاکر کوئی کاروائی کرے گی۔کیاتاجر اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے؟۔یہ فورس مجھے مارکیٹوں میں لڑائی جھگڑے پیداکرتی نظر آتی ہے۔اس پرائیویٹ فورس سے کام لینے میں نئے مسائل پیداہونگے۔میری یہ گزارش ہے کہ اس کام کوختم کردیا جائے۔مجھے سیاسی منظرنامہ ویساہی بنتانظر آتا ہے جیسے 1977ء میں بناتھا۔تب9۔پارٹیوں نے پاکستان قومی اتحاد بنایاتھا۔کئی ماہ کی تحریک کے بعد نتیجہ مارشل لاء کی شکل میں نکلاتھا۔اب11۔پارٹیوں نے ملکرPDMترتیب دے لیا ہے۔تب PNAکی قیادت مفتی محمود کے پاس تھی اورابPDMکی قیادت مفتی صاحب کے صاحبزادے فضل الرحمن کے پاس ہے۔1977ء میں بھی الزامات دھاندلی کے تھے۔

اب بھی اپوزیشن کی طرف سے2018ء کے انتخابات پرسوال اٹھائے جارہے ہیں ۔تمام صورت حال ملتی جلتی لگتی ہے۔2کامیاب جلسوں کے بعد اب کوئٹہ،پشاور اورملتان کی طرف رخ ہوگا۔لاہورمیں بہت بڑے جلسے کے امکان کو کوئی بھی رد نہیں کریگا۔ہوسکتاہے کہ ان تمام جلسوں سے پہلے ہی اپوزیشن اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لے۔جناب وزیراعظم صاحب 2014ء میں آپ نے دھرنے کی روایت کو اونچی سطح پر جاکرمستحکم کیاہوا ہے۔یہ تمام صورت حال اپوزیشن لیڈروں کے ذہنوں میں ہے۔ابھی صرف6۔سال پہلے کی ہی توبات ہے۔سول نافرمانی اوربلوں کوآگ لگانے کے مناظر عوام حتیٰ کہ نوجوانوں کوبھی نہیں بھولے۔اس سے کئی ماہ تک معیشت کونقصان پہنچتا رہا۔سی پیک پردستخط بھی کئی ماہ کی تاخیر سے ہوئے تھے۔جلسے،جلوس،ریلیاں اوردھرنے معیشت کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔چاہے یہ کسی بھی دورمیں ہوں۔حکومتوں اورانتظامیہ کی توجہ تمام کی تمام ان سرگرمیوں کوروکنے کی طر ف ہوجاتی ہے۔باقی کام ٹھپ ہوجاتے ہیں۔2014ء میں معیشت کے حالات اتنے برے نہ تھے۔جتنے 2020ء میں ہیں۔مہنگائی کی بھی وہ صورت حال جوآجکل ہے6۔سال پہلے نہ تھی۔

اگراسلام آباد دھرنے تک بات پہنچتی ہے تومعیشت کی مزید تباہی ہوگی۔عقل مندی کاثبوت دیں۔اورملک کو2014ء والی حالت پرنہ پہنچنے دیں۔یہ جوپوری مشیروں کی فوج کو آپ نے جواب الجواب پرلگادیا ہے۔یہ رویہ درست نہ ہے۔ان تمام کوآپ حکم دیں کہ وہ اپوزیشن کی باتوں کاجواب نہ دیں۔جناب وزیراعظم آپ دل بڑاکریں۔مشورے اپنی منتخب کابینہ ارکان سے کریں۔یہ جوپورے ملک سے عوامی طوفان اٹھنے والا ہے ۔اسے روکنے کی تدابیر سوچیں۔جیلیں اورگرفتاریاں ایسے مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔اس سے تحریکیں اورزور پکڑتی ہیں۔میری آپ سے بڑے ادب سے یہ گزارش ہے کہ آپ اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے اپنی ایک کمیٹی بنائیں۔اس میں صرف منتخب ارکان اسمبلی شامل کریں۔اوراپوزیشن کومذاکرات کی صحیح نیت اورخلوص سے دعوت دیں۔کمیٹی کے ارکان اپوزیشن سے رابطہ کریں اورانہیں مذاکرات کی میز پرلائیں۔سیاسی جھگڑوں کاوہی حل پائیدار ہوتا ہے جوایک خوبصورت میز کے گرد بیٹھ کرطے کیاجائے۔دنیاکی تاریخ پراگر نظر ڈالیں توآپ کوہرجنگ اورجھگڑے کاحل مذاکرات کی شکل میں ہی نظر آئے گا۔اورہمارے برصغیر میں تو ملک کی تقسیم جیسامشکل اوربڑا مسٔلہ بھی مذاکرات کے ذریعے حل کرلیاگیاتھا۔قائداعظم محمد علی جناح نے انگریزوں اورہندؤں دونوں فریقوں سے مسلمانوں کوعلیحدہ قوم تسلیم کروالیا تھا۔

اوراسی بنیادپرپاکستان اوربھارت علیحدہ ملک بن گئے تھے۔پہلی جنگ عظیم ہویا دوسری آخر کارمذاکرات پرہی ختم ہوئیں تھیں۔موجودہ اپوزیشن کے لوگوں کے ساتھ آپ کوکام کرنے کا تجربہ بھی ہے۔ان تمام کوآپ ذاتی طورپر جانتے بھی ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ جواب الجواب کی بجائے خاموشی سے مذاکرات کاڈول ڈالیں۔جب 2۔فریق میز پر بیٹھتے ہیں تو پورے ملک کاماحول تبدیل ہوجاتا ہے۔آپ اپنی سنائیں گے اوراپوزیشن کی سنیں گے۔بہت باتیں ہونگی۔لیکن کچھ نہ کچھ نقاط ایسے سامنے آجائیں گے جن پر دونوں فریقوں کااتفاق ہوجائے گا۔مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل کے حل کی ضرورت حکومتوں کوہوتی ہے۔مذاکرات کے لئے پیش کش بھی حکومتوں کی طرف سے آتی ہے۔لہذادیر نہ کریں۔اپنی مشیروں کی فوج کوجواب دینے سے منع کردیں۔اپنی پارٹی کے منجھے ہوئے اورتجربہ کار سیاست دانوں پرمشتمل مذاکراتی ٹیم بنائیں اورجلد ازجلد مذاکرات کی پیش کش کردیں۔باربار خلوص سے کی ہوئی پیش کش سے اپوزیشن کے دلوں میں بھی نرمی پیداہوگی۔اگلے الیکشن اگر2023ء کے درمیان میں ہونے ہیں تو اپوزیشن کوآپ ایک سال پہلے کی بھی آفر دے سکتے ہیں آپ کے پاس پھر بھی کام کرنے کے لئے کچھ عرصہ بچ جاتا ہے۔اس طرح کے مذاکرات دنیا کے کئی ممالک میں ہوتے ہیں۔

آٹا،چینی،ادویات اوربجلی کے نرخوں کوکنٹرول کرنے کے لئے اپوزیشن کو کمیٹیوں میں شامل کریں۔ان کی باتیں سنیں اوران کواہمیت دیں۔یہ بات توماہرین معیشت مانتے ہیں کہ گزشتہ2۔پارٹیوں کی حکومتوں میں ضروریات زندگی کی اشیاء اس طرح مہنگی نہیں ہوئی تھیں جیسے اب صورت حال ہے۔اب توقیمتوں نے شاہین کی طرح بلند پرواز ی سیکھ لی ہے۔کسی کا ان پرسرے سے کنٹرول ہی نہ ہے۔عوام کے2۔بڑے مسٔلے مہنگائی اوربے روزگاری ہے۔انہیں حل کرنے کے لئے اگراپوزیشن سے تجاویز لے لی جائیں تواس میں کوئی برائی نہ ہے۔عوامی طوفان مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اگراسلام آباد میں آگیا توپھر آپ کے پاس کوئی آپشن نہ ہوگا۔لہذا آپ دل بڑاکریں۔سیاسی دانش سے کام لیں۔اب تک جولوگ گرفتار ہیں۔ان کے مقدمات ختم نہ کریں۔لیکن ان کو رہاکردیں۔اس سے آپ کے بارے اچھی رائے قائم ہوگی۔ٹھنڈے دل سے عوامی طوفان کوروکنے کی کوشش کرنا ہی عقلمندی ہے۔کھلے دل ودماغ کے لوگ یہ کام کرسکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */