سفیر امت - نصر اللہ گورائیہ

کون جانتا تھا کہ 1962ء میں پیدا ہونے والا ایک عام سا نوجوان امت مسلمہ کی آنکھو ں کا تا را بنے گا اور سلیم احمد مرحوم کے ان اشعار کے مصداق دنیا کے سامنے آئے گا کہ

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

اس طرح ملیے کہ جزو زندگی بن جائیے

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص ِ آخر میں کہا

روشنی کے ساتھ رہیئے روشنی بن جائیے

روشنی، امید اور دلوں میں عشق کی جوت جگانے والا کہ جسے اس کی موت کے بعد امت نے ’’سفیر امت‘‘ کے نام سے یاد کیا اور یقینا ’’سفیر امت محمدی‘‘ ہونا ایک بہت بڑے نصیب کی بات ہے اور موجودہ دور میں یہ رتبہ عظیم حکیم عبدالعزیز ہاشمی مرحوم کے بیٹے عبدالغفار عزیز ؒ کے حصے میں آیا کہ جن کی موت پر پورے عالم اسلام کی اسلامی تحریکوں نے جس طرح سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک دفعہ دوران سفر تحریک اسلامی سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ افغان جہاد کے دوران وہ پاکستان چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے تو انہوں نے چھٹیوں کے دوران عملی جہاد میں حصہ لینے کے لیے افغانستان کا رخ کیا اور دوران جہاد ایک رات محترم قاضی حسین احمد ؒ افغانستان تشریف لائے ہوئے تھے اور انہوں نے عربی زبان میں خطاب یا گفتگو کرنا چاہی اور اس سے پہلے انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی عربی زبان جانتا ہے جو میرے مترجم کے فرائض سرانجام دے سکے تو کہتے ہیں کہ یہ سعادت میرے حصے میں آئی کیوں کہ بڑی تعداد میں اس محفل میں عرب اور دیگر ممالک کے مجاہدین موجود تھے ۔

اس مجلس کے بعد قاضی صاحب مرحوم نے مجھے بلایا اور تعارف پوچھا تو میں نے اپنا تعارف کروا یا تو قاضی صاحب ؒ نے فرمایا کہ افغانستان سے واپسی پر منصورہ آنا۔ ان کے منصورہ آنے سے پہلے محترم قاضی صاحب ؒ ان کے والد گرامی سے ان کو جماعت اسلامی کے لیے ’’وقف ‘‘ کروا چکے تھے بس تعلیم کے مکمل ہونے کی مہلت مانگی تھی۔ قاضی صاحبؒ مرحوم کی سیماب صفت شخصیت کی یہ خوبی ان کے کردار کو بہت نمایاں کرتی تھی کہ وہ جب Convince ہوجاتے تھے تو فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے تھے یقینا بڑے لوگوں کی عادتیں اور فیصلے مستقبل بینی کا کام کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کے والد محترم کی قبر کو بھی روشن فرمائے کہ جنہوں نے بلاچون و چرا اپنے جگر کا ٹکڑا تحریک اسلامی کی خدمت میں پیش کر دیا۔ یقینا یہ ’’فیضان نظر ‘‘ بھی تھا اور ’’مکتب کی کرامت‘‘ بھی کہ جس نے ایک خوبرو نوجوان کو کہ جو جوانی کی دہلیز پہ کھڑا تھا کو امت مسلمہ کا غمگسار اور سفیر بنا دیا۔ محترم عبدالغفار عزیز کی زندگی کو پڑھتے ہوئے کاتب وحی حضرت زیدؓ کی زندگی کا واقعہ یا د آگیا تومحسوس ہوا کہ دونوں میں کتنی مما ثلت پائی جاتی ہے۔ اور یقینا اللہ کے ہاں مماثلت کا اجر بھی دو گنا ہوگا۔

حضرت زید بن ثابتؓ کو اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ’’زید عبرانی سیکھ کر میری مدد کرو‘‘ اور حضرت زید ؓ نے صرف سترہ دنوں میں عبرانی زبان پر عبور حاصل کر لیا اور یوں تورات اور انجیل کی زبان سیکھ کر پیغمبر ﷺ کے معاون و مددگار بنے۔ اس طرح مرحوم عبدالغفار عزیز نے بھی اپنی تمام صلاحیتوں کو تحاریک اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ آپ ایک بہت اچھے منتظم، ایک غیر معمولی لکھاری اور ایک شعلہ بیاں مقرر بھی تھے۔ مزاج میں سادگی اور انکساری ان کی شخصیت کا خاصہ تھا، ہونٹوں پر تبسم اور مسکراہٹ ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیتی تھی ، لہجہ میں ٹھہرائو ، بات میں استدلال اور آنکھوں میں امید اور یقین کی چمک نے ان کو شرق و غرب میں بہت محبوب بنا دیا تھا۔ دنیا اور دنیاوی مناصب سے بے رغبتی ، اللہ اور اللہ کے رسول اور اس کی امت سے شدید محبت نے آ پ کو امر کردیا۔

منظر کے پیش و پس کی خبر کس کے پاس ہے

دیدہ ورو بتائو ! نظر کس کے پاس ہے؟؟؟

منظر کے پیش و پس کی خبر رکھنا اور دیدہ وری ان کو اللہ کی طرف سے خصوصی طور پر عنایت ہوئی تھی۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کرتا، مسجد میں پہلے اور پھر پہلی صف میں پہنچنے کی سعی، سر تا پا خشیت رب میں ڈوبے ہوئے، اپنی ذات سے بے نیاز و بے غرض لیکن امت پر کوئی افتاد آ پڑی تو نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کی زندہ و جاوید مثال، اندر اور باہر، ظاہر اور باطن دونوں طرف سے کھرے اور اجلے، مہربان مسکراہٹ بولنے میں محتاط ، عزت دینے والے اور عزت کمانے والے، خوش اطوار ، پاک دل و پاکباز بندۂ مولا صفات اپنے رب کائنات کے حضور حاضر ہوگیا اور سرخرو ٹھہرا۔ یادوں کے دریچے کو کھولا تو اندازہ ہی نہ ہوا کہ ان سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی البتہ آخری ملاقات کی چاشنی آج تک یاد ہے۔ مجھے ان کے ساتھ بیرون ملک کرنے اور سیکھنے کا بھر پور موقع ملا۔ ترکی، انڈونیشیا اور سعودیہ عرب میں ان کی معیت میں کانفرنس میں شمولیت کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ کس قد کاٹھ کا آدمی ہے اور جب عالم اسلام کے نامور اور امت مسلمہ کا دھڑکتا ہوا دل جناب یوسف القرضاوی نے ان کو اپنی خاص مسند پر اعزاز بخشا اور عالم اسلام کے نامور علماء کے اجلاس کی صدارت کی تو اندازہ ہوا کہ بظاہر عام سا لگنے وال یہ شخص سمندر کی طرح کتنا گہرا ہے۔جکارتہ انڈونیشیامیں IIFSO کی 2011ء میں کانفرنس کا انعقاد ہوا تو راقم بھی بطور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اس میں شریک تھا اور محترم عبدالغفار ؒ صاحب بھی اس کے مہمانا ن گرامی میں شامل تھے۔

اختتامی تقریب کے دوران میں جب اپنی شیلڈ اور میڈل لے کر اسٹیج سے نیچے اترا تو سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی مسحور کن شخصیت نے مجھے اپنے جادو میں لے لیا اور میں بے ساختہ ان کی طرف چل پڑا انہوں نے کھڑے ہوئے گلے لگایا اور پیشانی پر بوسہ دیا اور حسب معمول ڈھیروں دعائوں سے نوازا اور اپنے پہلو میں بٹھا لیا ۔ میں آج تک ان کی مسحور کن شخصیت کی محبت کے اثر سے نہیں نکل سکا۔ اسی طرح 2006میں جب عتیق الرحمن (سابق ناظم اعلیٰ)اور میں ترکی جانے کے لیے ایئر پورٹ پہنچے تو کھلے بازوؤں کے ساتھ آپ نے ہمارا استقبال کیا اس سفر میں محترم قاضی صاحب، سمعیہ باجی اور ڈاکٹر رخسانہ کوثر بھی ہمارے ساتھ تھیں اس کانفرنس کی صدارت جناب نجم الدین اربکان ؒ نے کی اور بعد ازاں تمام اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران کی نشست کو محترم قاضی صاحب نے صدارت بخشی۔ اس دوران بھی انہوں نے کمال محبت اورشفقت سے اپنا گرویدہ بنا لیا اور ہمیں پتہ ہی نہ چلے کہ ہم تو ان کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

اسی طرح 2015ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رحمت (بیٹی ) سے نوازا میں نے عصر کی نماز کے بعدان سے گزارش کی کہ میری خواہش ہے کہ آپ میری بیٹی کے کان میں اذان دیں تو فوراًپہلے تو بازوؤں میں لے کر بھر پور محبت کا اظہار کیا اور بعد ازاں میری خواہش کو بھی پورا کیا۔ ان کی وفات والے دن میں اپنی بیٹی کو ان کی تصویر دکھا رہا تھا کہ جب وہ مشعل فیروز گورائیہ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اذان دے رہے تھے جو کہ اس 20اکتوبر کو چھ سال کی ہونے والی ہے ۔ تو مشعل نے کہا کہ بابا کیا میں ان کی پاری کر لوں تو میں نے کہا بیٹا! کیوںنہیں اور ساتھ ہی میرے رخساروں پر کچھ آنسو کے قطرے گر پڑ ے اور بیٹی نے سوال کیا کہ بابا آپ کیوں رو رہے ہیں وہ تو اللہ کے پاس گئے ہیں ناں؟؟اور اللہ کے پاس تو ہم سب نے جانا ہے اور اللہ تو بہت محبت کرنے والا ہے ناں! اور شاید احسن عزیز مرحوم نے اس لیے کہا تھا۔

کبھی چشم تصور سے دلوں کے حکمراں دیکھو!

اور ان کا اطمینان دیکھو!

کوئی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں کامراں ایسے

کوئی زخموں سے رنگا رنگ مشک و زعفراں جیسے

کوئی بارود میں لپٹے بس اک آتش فشاں جیسے

کوئی ہاتھوں میں سر تھامے، کوئی مجروح پر تھامے

فرشتوں کی قطاروں میں ، اڑتے پھرتے ہیں جنت میں

یہی تھے پاسباں جو کل، حرم سے باوفا ٹھہرے

یہی اہل محبت ! آج بھی درد آشنا ٹھہرے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */