صحت کی بحالی کی سہولیات کاجائزہ - پروفیسر جمیل چودھری

صحت کے شعبے کاذ کر کم ہی ہوتا ہے۔سچ یہ ہے کہ یہ شعبہ اتناہی اہم ہے جتناشعبہ تعلیم۔ہمارے وطن میں شروع سے ہی حکومتوں کی توجہ ان دونوں شعبوں کی طرف کم ہی رہی ہے۔حکومت کی کم توجہی سے جوگیپ تھااسے پرائیویٹ شعبہ نے آکر پرکرنے کی کوشش کی۔حکومت پاکستان اب تک تعلیم پرخام قومی پیداوار کاسالانہ2فیصد اورصحت پر1فیصد سے بھی کم خرچ کرتی رہی ہے۔جب سے کروناوائرس ملک میں آیا تو وائرس کوروکنے اور مریضوں کوسہولیات کی فراہمی کی طرف حکومت کی کافی توجہ رہی۔اوردوسرے کئی ممالک کی نسبت پاکستان نے کافی مناسب انداز سے وائرس پرجلدقابوپایا۔

اوراب دوسرے ممالک کی نسبت ہم بہتر پوزیشن میں ہیں۔مریض بھی چند ہزار ہی رہ گئے ہیں۔کرونا کوروکنے کے لئے عمران خان کی پالیسی کامیاب نظر آتی ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں کرونا نے بے شمار لوگوں کونگل لیا ہے۔ایران میں کرونا ہم سے پہلے آیا۔لیکن حالات اب تک قابو میں نہیں آئے۔امریکہ اوربرازیل سے بھی بہت بری خبریں آرہی ہیں۔ہماری مرکز میں قائم ادارے نے کافی بہتر کام کیا۔کرونا سے متعلقہ بہت سی اشیاء اب ہم اپنی ضرورت کے مطابق بنارہے ہیں۔بلکہ برآمد بھی کررہے ہیں۔البتہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کے تمام مریض صرف سرکاری ہسپتالوں میں داخل کئے گئے۔پرائیویٹ ہسپتالوں نے اس سلسلے میں کوئی تعاون نہ کیا۔کراچی کے آغاخان ہسپتال کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہاں کرونا کے مریض داخل کئے گئے اوران پر توجہ دی گئی۔چند سال پہلے کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں میڈیکل کالجوں کی تعداد74اوردندان ساز کالجوں کی تعداد 32تک پہنچ گئی ہے۔ان میں زیادہ ترکالج پرائیویٹ شعبے میں ہیں۔اسی سروے کے مطابق11000ڈاکٹرز ان اداروں سے سالانہ ٹریننگ لینے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد نکلتے ہیں۔

ہمارے پیارے وطن میں ہردس ہزار کی آبادی کے لئے8ڈاکٹرز موجود ہیں۔جب صرف سرکاری شعبے کے کالج تھے تب ڈاکٹرز بننا بڑی بات شمارہوتی تھی۔شعبے کے لوگ بتاتے ہیں تب معیار بھی کافی اونچا تھا۔اب کالجوں کی تعداد بڑھ گئی لیکن معیار پہلے جیسا نہیں رہا۔کسی شے کی زیادہ اوروسیع پیداوارکامعیار پر لازمی اثر پڑتا ہے۔میڈیکل کونسل کی طرف سے کئی پرائیویٹ کالجوں کی بندش کی خبریں میڈیا پرچلتی رہتی ہے۔بغیر سہولیات مہیا کئے کالجوں کی تعداد بڑھانا ہرگز درست نہ ہے۔سرکاری کالجوں میں ڈاکٹرز کی بھرتیاں عموماً3طریقوں سے کی جاتی ہے۔کچھ ڈاکٹرز پبلک سروس کمیشن کی طرف سے آتے ہیں۔یہ مستقل بنیادوں پرہوتے ہیں۔کچھ ڈاکٹرز کوحکومتContract Baseپربھرتی کرتی ہے۔ایسے ڈاکٹرز غیر مطمعن زندگی گزارتے ہیں۔ہسپتالوں میں اکثر ہڑتالیں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں۔بعض وقت ہسپتال خودبھی کسی ڈاکٹر کوعارضی طورپر رکھ لیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرز کی ترقیاں بہت دیرسے ہوتی ہیں۔اس طرح صحت تقسیم کرنے والے مسیحاؤں میں مایوسی پھیلتی ہے۔ترقیاں جلدی نہ ہونے کی وجہ بڑے شہروں میں ہسپتالوں کی کمی ہے۔

اگرہم لاہور کی مثال لیں توپتہ چلتا ہے کہ آخری سرکاری ہسپتال1996ء میں بناتھا۔اس کے بعد جنرل ہسپتالوں میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ۔پنجاب کارڈیالوجی اورکڈنی سنٹر پرحکومت پنجاب نے کافی اخراجات کئے۔لاہور کے شمال میں بننے والے کڈنی سنٹر کی بنیاد رکھنے والے ڈاکٹر کوسابق چیف جسٹس نے امریکہ واپس جانے پرمجبورکردیا۔یہ پنجاب کے عوام کے لئے بڑی ہی زیادتی تھی۔2008ء سے لیکر2018ء تک مختلف صوبوں میں ہسپتالوں میں اضافہ ہوا۔سب سے زیادہ اضافہ سندھ میں ہوا۔اور143نئے ہسپتال قائم ہوئے۔پنجاب میں82،صوبہ خیبرپختونخواہ میں75اوربلوچستان میں صرف34چھوٹے بڑے ہسپتال بنے۔دوردراز ہسپتالوں میں ڈاکٹر کم ہی جاتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کوکنٹرول کرنے والی اتھارٹی سے ملکر اپنے کلینک چلاتے ہیں۔یہ شکایت شہروں میں قائم ہسپتالوں کے ڈاکٹرز سے بھی ہے۔لیکن بہت سے ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی صحیح انداز سے دیتے بھی دیکھے گئے۔ہرمحکمے میں اچھے اوربرے لوگ ہوتے ہیں۔اب18ویں ترمیم کے بعد تعلیم اورصحت صوبوں کے ماتحت آگئے ہیں۔اب مرکز میں کوئی وزیرصحت بھی نہیں ہوتا۔

لہذا اگرلوگوں کوسرکاری ہسپتالوں اورڈاکٹرز سے شکایت ہوتوصوبائی حکومت سے رابطہ کیاجائے۔اقوام متحدہ کے صحت کے ادارےWHOکے مطابق صحت کے بلند ترین معیار سے استفادہ کرنا ہرفرد کابنیادی حق ہے۔پاکستان میں ہومیو پیتھی اوردیسی طریقہ علاج بھی کہیں کہیں دیکھا جاتا ہے۔دیسی طریقہ علاج میں تحقیق سے نئی ادویات تومعرض وجود میں نہیں آئیں ۔صدیوں پرانی ادویات سے ہی حکماء کام چلاتے نظر آتے ہیں۔شعبہ صحت کاایک بڑامسٔلہ ادویات کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہے۔چند دن پہلے ہی حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔یہ تمام ضروری ادویات غریبوں کی پہنچ سے باہرہوگئی ہیں۔حکومت کواپنے اس فیصلے پرنظرثانی کرنی چاہئے۔ادویات کی قیمتوں کو آبادی کی اوسط آمدنی کومدنظر رکھ کر متعین کرناضروری ہے۔صوبائی حکومتوں کوصحت کے لئے بجٹ میں اضافہ کرنابھی ضروری ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ غریب مریضوں کوادویات کی دستیابی بھی مفت ہوناضروری ہے۔ایسے ہی ہسپتال کے باقی اخراجات بھی کم ہوں۔جہاں تک پرائیویٹ ہسپتالوں کاتعلق ہے وہاں کے ڈاکٹرزکی فیسیں غریب مریضوں کی پہنچ سے ہی باہر ہیں۔

فیس کے ساتھ ساتھ اکثر ڈاکٹرز بڑے مہنگے مہنگے ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں۔اب ڈاکٹر مریض سے سوال کرکے اور مریض کا جائزہ لیکر عموماً علاج وتجویز نہیں کرتے۔پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹرز کی فیس ،ٹیسٹوں کے اخراجات اورتیزی سے بڑھتی ہوئی ادویات کی قیمتیں۔یہ ساری صورت حال شاہین کی طرح بلند پروازی کی طرف جارہی ہے۔مجبوراًغریبوں کوسرکاری ہسپتالوں کا ہی رخ کرناپڑتا ہے۔یہاں صوبائی حکومتیں بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کریں۔سرکاری ہسپتالوں کی مشینیں اورآلات بھی برسوں تبدیل نہیں ہوتے۔مشینیں اکثرخراب رہتی ہیں۔بے چارے غریبوں کوپھر ٹیسٹوں کے لئے پرائیویٹ Labsکارخ کرناپڑتا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میںCheck & Balanceکاموثر نظام بنایاجائے۔تاکہ یہاں کامعیار تشخیص اورعلاج بلند ہوسکے۔تعلیم اورصحت انسان کی بنیادی ضروریات شمارہوتی ہیں۔بجٹ کارخ ان دونوں شعبوں کی طرف بڑے پیمانے پرہوناضروری ہے۔کچھ غریبوں کوہیلتھ کارڈ کاملنا اچھافیصلہ ہے۔یہ پورے ملک کے غریبوں میں تقسیم ہوجائیں اورمستحق لوگوں میں تقسیم ہوں تو اسے بڑی کامیابی سمجھاجائے گا۔نئے طبی کالجوں پراب پابندی لگنی ضروری ہے۔

جوپہلے موجود ہیں وہاں تعلیم وتربیت کانظام ترقی یافتہ ملکوں کے برابر لایاجائے۔ایک اور شعبے کی طرف توجہ دلاناضروری ہے۔یہ شعبہ ادویات سازی کاہے۔ہمارے ہاں کافی ادویات درآمد کی جاتی ہیں۔اوربہت سی ادویات جویہاں تیارہوتی ہیں۔ان کاخام مال باہرسے درآمد ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں جوبے شمار درخت،پودے اورجڑی بوٹیاں ہیں۔ان پراونچے درجے کی ریسرچ ہواور ان کےExtractsسے ادویات تیارکی جائیں۔ایسے ہی ہمارے زمین میںبھی بے شمارMineralsموجود ہیں۔یہ تمام اشیاء ادویات کی تیاری میں استعمال ہوں ان تمام اشیاء پرتحقیق اونچے معیار کی ہوگی اسی صورت میں ادویات ملک کے اندر تیارہوسکیں گی۔اورہمارا درآمدی بجٹ کم ہوگا۔ملک میں موجود تحقیقی اداروں کو اس طرف توجہ دینی ضروری ہے۔صحت کے شعبے کے اور بھی بے شمار مسائل ہیں۔آخر میں میں اپنے ذاتی تجربات دوستوں سے Shareکرناچاہتا ہوں۔8ماہ پہلے مجھے زبان میں لکنت محسوس ہوناشروع ہوئی۔بولنامشکل ہوتاچلاگیا۔میں اپنے کالج میں اونچی آواز سے بولنے والا شمارہوتا تھا۔بولنے کے ساتھ ساتھ پینے اور کھانے میں دقت محسوس ہونے لگی۔

میں نے ڈاکٹروں اور خاص طورپرSpecilistڈاکٹروں سے رابطہ کرناشروع کیا۔سب سے پہلے میں ایک معروف ENTکے پاس گیا۔جائزہ لیکرانہوں نے ادویات لکھ دی۔کچھ دن یہ ادویات استعمال کیں لیکن کوئی فائدہ نظر نہ آیا۔اس کے بعد لاہورکے سینئیر ترین فزیشین کے پاس حاضر ہوا۔ادویات لکھ دی گئیں۔مسٔلہ حل نہیں ہورہا تھا۔پھر سینئیر اورمعروف نیوروفزیشن کے ہاں حاضری دی۔یہ تمام کچھ دوستوں کے بتانے سے ہوتارہا۔نیوروفزیشین نے جووجہ بتائی وہ مجھے صحیح تشخیص محسوس ہوئی۔ایکEMGٹیسٹ بھی مشین پرہوا۔مشین نے بھی ڈاکٹر صاحب کی تشخیص کی تصدیق کی۔ڈاکٹرز صاحب نے بھی ادویات لکھ دیں۔استعمال شروع ہوا۔نیوروفزیشین نے بتایاتھا کہ مسٔلہ بہت آہستہ حل ہوگا۔ایک اورنیوروسرجن سے بھی رابطہ کیاگیا۔وہاں بھی ادویات ہی تھیں۔یہ تفصیل میں نے اس لئے بتائی ہے کہ ہرڈاکٹر نے ٹیسٹ بھی مختلف کرائے اورادویات بھی مختلف تجویز کیں۔مریض ایک ہی،مرض بھی ایک لیکن کسی بھی ڈاکٹر نے اپنے سے پہلے والے ڈاکٹر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔میرے لئے یہ عجیب بات تھی کہ بعدوالے ڈاکٹرز نے پہلے والے ڈاکٹروں کے نسخے اور ٹیسٹوں پر بھی اعتبار نہیں کیا۔

اپنے نسخے اوراپنے ٹیسٹ۔میں تویہ تمام اخراجات برداشت کرتارہا۔میں نے غریب مریضوں کے بارے سوچا۔بے چارے غریب مریض اتنے ٹیسٹ اخراجات اور مہنگی ادویات برداشت ہی نہیں کرسکتے تھے۔میرے ڈاکٹرز کے نسخوں سے مجھے کوئی افاقہ نہیں ہورہاتھا۔میں اپنے بیٹے کے ساتھ ایک دن اپنی ازمیر سوسائٹی کے ایک کلینک میں گیا۔کام توکچھ اورتھالیکن وہاں میرے بیٹے نے استقبالیہ سے پوچھ لیا کہ کیا یہاں کوئی فزیوتھراپسٹ بھی آتا ہے۔استقبالیہ والے لڑکے نے بتایا کہ یہاں ایسے 2۔ڈاکٹرز آتے ہیں اورچند منٹس کے بعد یہ دونوں نوجوان میاں۔بیوی ڈاکڑز ہمارے سامنے تھے۔بیٹے نے بات کی۔انہوں نے اسی دن میری فزیوتھراپی اورSpeech Therapyشروع کردی۔چند دن بعدمجھے نقد نتیجہ محسوس ہونا شروع ہوگیا۔

میں نے یہ طریقہ علاج جاری رکھا ہوا ہے۔مجھے دن بہ دن بہتری محسوس ہورہی ہے۔میں تو لازماً ڈاکٹرعدنان فرحت اوران کی بیگم کوصحت تقسیم کرنے والے فرشتے ہی کہوں گا۔یہ طریقہ علاج لمبا تو ہے لیکن بہتری کے آثار چند دنوں بعد ہی محسوس ہونے لگتے ہیں۔نہ کوئی دوائی اور نہ انجیکشن۔اورانسان دوائیوں کے بہت سے Side Effectسے بھی بچا رہتا ہے۔میں عوام کویہ بتانا چاہتاہوں کہ اس طرف کسی بھی سینئیر ڈاکٹر نے اشارہ بھی نہیں کیا۔ان کی توجہ صرف ادویات کی لسٹ کی طرف ہی رہتی ہے۔فزیوتھراپی طریقہ علاج کئی بیماریوں میں کافی ماثر ہوتا ہے۔ہرسرکاری اورپرائیویٹ ہسپتال میں اس طرح کی پوسٹوں میں اضافہ ہوناضروری ہے۔دنیا میں طریقہ علاج بے شمار ہیں۔ہماری صوبائی حکومتوں کواپنے سرکاری ہسپتالوں میں ایسے تمام طریقہ علاج کی سہولیات فراہم کرناضروری ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */