غاصب اسرائیل - ام محمد سلمان

صبح کا سہانا وقت اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ عاتکہ نماز پڑھ کے باغ میں ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر چہل قدمی کر رہی تھیں کہ اتنے میں ان کا چھوٹا بیٹا احمد بھی ادھر ہی آتا دکھائی دیا اور بڑی محبت سے ماں کو سلام کیا۔ وہ نماز پڑھ کر سیدھا پائیں باغ کی طرف ہی آ گیا تھا۔ عاتکہ نے مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیا اور پھر دونوں ہی ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔

احمد بولا:

"امی جان!! کل میرے کچھ کلاس فیلو پتا ہے کیا باتیں کررہے تھے!!"

عاتکہ نے چونک کر سر اوپر اٹھایا اور پوچھا: کیا بات کر رہے تھے بیٹا؟

"امی جان! وہ کہہ رہے تھے کہ جب ساری دنیا اسرائیل کو تسلیم کر رہی ہے تو آخر پاکستان کیوں نہیں تسلیم کر لیتا؟ اب تو سنا ہے کہ سعودیہ نے بھی اسرائیل کے حق میں عندیہ دے دیا ہے۔ اور میرے کلاس فیلو تو یہ بھی کہہ رہے تھے امی کہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اور اہلِ فلسطین کے لیے انسانی حقوق کے نعرے اب پرانے ہو چکے ہیں، دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب اس قصے کو ختم کرو، کوئی نئی بات کرو ۔"

"مسجدِ اقصٰی ہمارا قبلہ اول ہے بیٹے! ہم اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟" وہ انتہائی حیرانی اور دکھ سے بولیں۔ "وہ تو ہماری سانسوں میں بسا ہے، دعاؤں میں رہتا ہے! ہم اپنا قبلہ اول یہودی تسلط سے چھڑا کر رہیں گے۔ ساری دنیا بھی اسرائیل کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر لے تو بھی ہمیں کبھی اس ناجائز ریاست کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے !!" عاتکہ نے حتمی انداز میں جواب دیا۔

"لیکن امی ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ آخر ہم لوگ اسرائیل سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ دنیا میں اور بھی تو اتنے غیر مسلم ممالک ہیں جن سے ہمارے کاروباری و سفارتی تعلقات ہیں اور ہم ان سب کو تسلیم کرتے ہیں تقریباً سب سے ہی دوستانہ روابط رکھتے ہیں۔ پھر اسرائیل سے ہی کیوں اتنی نفرت ہے کہ یہاں پر اکثریت اس کے خلاف ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی امی جان!" احمد نے الجھن آمیز لہجے میں کہا.

"میں آپ کو سمجھاتی ہوں بیٹے کہ ایک سچا مسلمان اور محب وطن پاکستانی کیوں اسرائیل کے خلاف ہے:

دیکھو بیٹا یہ جو ہمارا گھر ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور آپ کے چچا کی فیملی بھی... اس گھر کے ایک حصے پر کوئی باہر سے آ کر قبضہ کر لے اورگھر والوں کو اس حصے سے بے دخل کر دے اس حصے پر طاقت استعمال کرتے ہوئے اپنی اجارہ داری قائم کر لے اور پھر ہم لوگوں سے یہ چاہے کہ ہم گھر کے اس حصے کو اس کے نام سے تسلیم کر لیں کہ وہ اس کا مالک ہے! تو کیا آپ یہ تسلیم کر لیں گے؟"

"ہرگز نہیں کریں گے امی جان! اپنے گھر میں کسی غیر کا تسلط کون برداشت کرتا ہے بھلا؟"

"بالکل یہی بات!! اسرائیل نے بھی فلسطین کے ایک بہت بڑے حصے پر اسی طرح غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے بیٹے! اور نہ صرف قبضہ کیا بلکہ وہاں کے عربوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم توڑے کہ انسانیت بھی شرما جائے ۔" عاتکہ بہت دکھ سے کہتے ہوئے خاموش ہو گئیں، آواز بھرا گئی...

ایسے میں احمد کی بڑی بہن حبیبہ نے بات کو آگے بڑھایا:

"دیکھو احمد! اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہی ظالمانہ اور غاصبانہ قبضے پر ہے۔ پھر اپنے قیام کے دن سے لے کر آج تک اس نے اہلِ فلسطین کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ ایک خونی اور جنونی قاتل کا ہے۔ ہم اور دنیا کے کروڑوں مسلمان اسی لیے اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں کہ ایک طرف تو اس غاصب ریاست نے مسجدِ اقصیٰ کو جو مسلمانوں کا تیسرا حرم پاک اور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کی پہلی منزل ہے، ہر طرح کا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی شدید بے حرمتی سے لے کر اس کے نیچے خندقیں کھودنے اور اسے مکمل طور پر ہیکل میں تبدیل کر دینے کے مذموم عزائم کو اسرائیل نے کبھی نہیں چھپایا۔ دوسری طرف اسرائیل نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا، ان کی بستیوں پر قبضے کیے، ان کی املاک تباہ کیں اور ایک وحشی درندے سے جو بھی توقع ہو سکتی ہے، اسرائیل نے اُسے پورا کیا ہے۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سے اس طرح اسرائیل بننے سے پہلے 1948ء کی اس خوف ناک، خون آلود دہشت گردی اور ظلم و تشدد کی جنگ میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ خاندان تباہ ہوئے، فلسطینی خانہ بدوش، مہاجر کیمپوں کے رہائشی بنے. بوڑھے، بچے، بیمار، ناتواں، پیدل سفر کی صعوبتوں سے جان کی بازی ہار گئے۔ متمول، با اثر اور معتبر افراد فلسطینی مہاجر کیمپوں میں خیراتی راشن کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ جو فلسطین کے پشتوں سے شہری تھے ان کو زبردستی ملک بدر کر کے غیر ملکوں کو ان کے گھروں میں لا کر بسایا جا رہا تھا۔1948ء میں اس جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کے 78 فیصد علاقے پر قبضہ کر کے سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا. یہ فلسطینی مہاجر لبنان، شام، اردن، مغربی کنارے، غزہ، مراکش، تیونس، مصر اور دنیا کے کونے کونے میں جا کر پناہ گزیں ہوئے اور آج تک مہاجر ہیں۔ ان فلسطینی مہاجروں کو اپنے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔

ان ستم رسیدہ فلسطینیوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی نظروں کے سامنے سفاکی کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے زبردستی ملک بدر کر دیا اور بین الاقوامی ضمیر سویا رہا یا مصلحتِ وقت کی بنا پر خاموش رہا۔ ادھر یہودی فلسطینیوں کی جائیداد، گھروں، باغات، فصل سے لدے ہوئے کھیتوں اور زمینوں کے راتوں رات مالک بن گئے۔" حبیبہ چپ ہوئی تو دیکھا امی جان ایک کمزور سے ٹہنی پہ لگے زرد پھول کو محویت سے دیکھ رہی تھیں اور آنسو ان کی پلکوں سے جھڑ رہے تھے۔ "احمد بیٹا!! غیروں نے ہماری عزت و آبرو پر قبضہ کر لیا۔ اور ہم آج تک غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ جانے کب کوئی مردِ مجاہد اٹھے گا اور فلسطین کو یہودیوں کی قید سے آزادی دلائے گا۔

احمد میرے بیٹے! تم مجھ سے وعدہ کرو کہ کبھی بیت المقدس کے ساتھ غداری نہیں کرو گے. اسے ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل رکھو گے.. مسجدِ اقصٰی کو یہودیوں کی قید سے چھڑانے کے لیے ہر لمحہ بے چین و بے قرار رہو گے۔ اپنی نمازوں میں قبلہ اول کو نہ بھول جانا میرے بچو!! اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مدد مانگتے رہنا۔
ایک نہ ایک دن فلسطین ضرور آزاد ہوگا. مسجد اقصٰی میں صفیں نمازیوں سے بھری ہوں گی اور دل اللہ کے حضور شکر گزار ہوں گے۔ بس تم اپنے مقصد سے مت ہٹنا، کبھی کمزور مت پڑنا. اس کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش اور جہاد کرتے رہنا۔

فلسطین کی بازیابی کی واحد راہ یہ ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور وائٹ ہاؤس پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں اور صرف اللہ پر بھروسا کریں۔ ذوقِ یقین، شوقِ شہادت، باہمی اعتماد و اتحاد ہی وہ چیزیں ہیں جو کامیابی اور فتح مندی کی کلید (چابی) ہیں۔ اور ایک بات یہ جو ہم عملی طور پر کر سکتے ہیں کہ ان تمام مغربی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں جن کے منافع سے اسرائیل کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اپنے فلسطینی بھائی بہنوں کے لیے ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اسرائیل کی معیشت کو بائیکاٹ کر کے کمزور کر دیں!

ہماری حکومت کو چاہیے کہ کبھی بھی اس ملعون ریاست کو تسلیم نہ کرے! اگر ہم ایسا کریں گے تو نہ صرف اہلِ فلسطین اور قبلہ اول کے ساتھ غداری کریں گے بلکہ یہ دینِ اسلام کے ساتھ بھی بے وفائی ہے!!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */