وڈّے بھائین باہر ہوندے نیں - زارا مظہر

اسّی کی دہائی میں پنجاب کے نسبتاً چھوٹے شہروں اور قصبوں دیہاتوں میں عرب ممالک میں تیل کے کنویں نکل آ نے کے سبب وہاں جاکر کمائی ( مزدوری ) کرنے کی ایک وبا بری طرح پھیل گئی۔ گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور ان کے نواحی علاقوں سے ہزاروں نوجوان گھر کے حالات بدلنے کی چاہ میں پردیسی ہوگئے۔۔۔ اوّل اوّل تو گھروں میں خوشحالی آگئی۔ رج رج گھر پکّے اور کوٹھے اونچے کروائے گئے۔۔۔نیا نیا مال ہاتھ آ یا تھا تو رشتہ داروں کو بھی خوب جلایا جاتا۔۔۔ہاتھ بھر بھر سونے کی چوڑیاں چڑھ گئیں۔ بہنوں کو ٹرک بھر بھر قیمتی جہیز دینے کا رواج ہوگیا ( جو ایک الگ معاشرتی بگاڑ کا سبب بنا)۔ گھر کے چھوٹے لڑکوں کو عیاشی کی عادت پڑگئی۔ بڑے بھائیوں سے فرمائش کر کے دو گھوڑا بوسکی اور راڈو کی گھڑیاں پہن کر اور گلے میں سونے کی موٹی چین لٹکا کر خود کو محلے کے چھوٹے موٹے بدمعاش ہی سمجھتے۔ چند آ وارہ خوشامدی بھی ٹھٹھے لگانے کو ساتھ ہوتے۔ کوئی کام پسند ہی نہ آتا۔ کبھی کام شایانِ شان نہ ہوتا تو کبھی مالک پسند نہ آ تا۔۔۔ تھڑوں پہ بیٹھ کر یہ لمبی لمبی چھوڑتے۔ کوئی متاثر ہوکر پوچھتا کام کیا کرتے ہو بھائی تو پان بھری پچکاری سے ڈھیلے منہ جواب آ تا وڈّے بھائین باہر ہوندے نیں۔ پوچھنے والے کی بولتی بند ہوجاتی۔ باپ بھی ڈَب میں ریال اور ڈالر اڑس کر گرگابیاں اور مکیشن پہن کر برادری کے معتبر بن کر قہقہے لگاتے۔۔۔ مائیں بچیوں کے جہیز جوڑتیں۔ کیسٹس بھر بھر کر ہواؤں میں واری صدقے جاتیں۔۔۔ سب پیسے کا کھیل ہے بھیا۔۔۔

دوسری طرف ایک شخص جو باہر چلا گیا سمجھیے ہمیشہ کے لیے گھر والوں سے اور معاشرے سے کٹ گیا۔ ایک نسل تو عیش و عشرت حاصل کر لیتی ہے لیکن خاندان کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ پیچھے رہ جانے والے بھائی نہ پڑھتے ہیں نہ کام کرتے ہیں ۔۔ناکارہ اور آ وارہ لونڈے بن جاتے ہیں ۔۔ اور وہ شخص جو قربانی کا گدھا بنا دیا گیا زندگی کی ہر چھوٹی بڑی خوشی اس کے نصیب سے نکل جاتی ہے۔۔۔ اگر کہیں خوش قسمتی سے اماں سہرا باندھ کر بہو بیاہ بھی لائیں تو اب بہن بھائیوں اور اولاد کے ڈو مور ڈو مور کے تقاضے دن بدن ہوس پکڑتے جاتے ہیں۔۔۔ وہ بیچارا دو جوڑوں میں سال گزار دیتا ہے جو بڑی عید پر بیوی نے بنوا کر رکھے تھے ۔۔۔ بچہ کب پیدا ہوا۔۔۔ اس وقت بیوی کو جذباتی سہارے کی کتنی ضرورت تھی۔۔۔ بچے کے کان میں اذان دینا باپ کا حق ہوتا ہے۔ بچے کی پہلی کلکاری ، پہلا قدم۔۔ پہلا حرف ۔۔ پہلا اسکول کا دن ۔۔ سب ماں باپ کی بے پایاں خوشی کا سبب ہوتے ہیں۔۔۔ مگر ان خوشیوں سے جبراً محروم کر دیئے جاتے ہیں۔ بیوی ہوتے ہوئے سال اور کبھی دو سال کا مجاہدہ کاٹنا ۔۔۔ خود کپڑے دھونا ۔۔ اپنے لئے کھانا پکانا ۔۔ طبیعت خراب ہو یا دل نہ ہو پکانے کا تو منہ سر لپیٹ کر بھوکا سو جانا ۔۔۔ یہاں کس کو پرواہ ہوتی ہے ۔۔ پیچھے والوں کے تقاضے بڑھتے جاتے ہیں، بس بہن کا کوٹھا گر گیا تھا چھت ڈلوا دو ۔۔۔ بھائی کو کوئی کاروبار کروا دو ۔۔ ایک بھائی مگر رہ گیا ہے اس کا بھی گھر بسا دو ۔۔ اگر اس سال نہ آ ؤ تو ٹکٹ کے بچے پیسوں سے بڑے بہنوئی کی خوشی خریدی جا سکتی ہے ۔۔۔ ذرا اوور ٹائم بڑھا دو تو چھوٹی بہن جو روٹھ کر بیٹھی ہے گھر کو روانہ کی جاسکے ۔۔۔ تمہاری بیوی سے ناحق آ ڈے لگاتی ہے ۔۔۔۔

پھر ایک وقت آ تا ہے کہ اس ایک شخص کی گھر میں بیس پچیس روزہ موجودگی بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے ۔۔ دن گنے جاتے ہیں کہ ابا یا بھائی باہر جلدی نکلے تاکہ جو عیاشیاں ہم کر رہے ہیں ان پہ پردہ پڑا رہے ۔۔۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں ۔۔۔

یہاں ایک اور بڑا انسانی المیہ جنم لیتا ہے کہ وہ ایک گدھا بنا دیا جانے والا شخص اگر ذرا عقلمندی سے کام لیکر اپنے لیے کچھ بچا لیتا ہے کہ چند سال بعد واپس جاکر اپنا کاروبار شروع کر لوں گا ۔۔۔ خوش قسمتی سے کامیاب بھی ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ لیکن ملکی معاشرہ اس قدر بیگانہ ۔۔ اور حالات اس کے اتنے نامواقف اور ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ اپنا تمام سرمایہ ڈبو بیٹھتا ہے ۔۔۔ یہاں بیٹھے قصائی جونہی سنتے ہیں کہ ڈالر یا ریال والی آ سامی ہے مقامی معیشت کو بھی ڈالر اور ریال میں پیش کرنے لگتےہیں۔ وہ بیچارا لٹ لٹا کر بلکہ بری طرح مقروض ہو کر اسی "بارلے ملک" میں پناہ ڈھونڈتا ہے ۔۔۔ نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا ۔۔۔
اور آ خر میں ایک تابوت میں سفید کفن میں لپٹا لپٹایا بوڑھا وجود وطن کو روانہ کیا جاتا ہے جس کے کفن دفن کا خرچہ بھی بارلے ملک کی کمپنی ہی اٹھاتی ہے ۔۔۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */