اہل کراچی، مزاج کیسا ہے - کرن وسیم

لندن سکول آف اکانومکس کے ریسرچر سیفی راتھ سنہ دو ہزار گیارہ میں فضائی آلودگی کے منفی اثرات پر غور کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صحت پر فضائی آلودگی کے سیدھے اثرات کے علاوہ ہماری زندگی پر اس کے مزید منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے اس بات کو مرکزی بنا کر ریسرچ کا آغاز کیا کہ فضائی آلودگی کا ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟انہوں نے چند طلباء سے ایک ہی امتحان مختلف دنوں میں حل کروایا...نتیجہ حیران کن تھا کیونکہ زیادہ ماحولیاتی آلودگی کے دنوں میں امتحان دینےوالے بچوں کا نتیجہ بہت مایوس کن تھا ... جبکہ کم آلودہ ماحول اور صاف , پرسکون جگہ پر امتحان دینے والے بچوں کے نتائج بہت حوصلہ افزا اور بہترین تھے.ماحول انسان کی تربیت اور مزاج پر گہرےاثرات رکھتا ہے.. نصف ایمان کے تقاضے بےوجہ تو نہیں ہوسکتے.. حقائق کی پہچان جلد یا بدیر ہو ہی جاتی ہے.

ہمارا تو شہر کا شہر ہی آلودگی کے شکنجے میں...پر آسائش اور مہنگے ترین علاقوں کے ظاہری حالات بھی گزشتہ بارشوں سے دھل کر سامنے آچکے... کیا نئ کیا پرانی بستیاں , سب ہی دریائ مناظر پیش کررہی تھیں.. لیکن میں تو ڈاکٹر سیفی راتھ کی تحقیق پڑھ کر عجیب کیفیت سے گزررہی ہوں.. انسانی مزاج اور اخلاق.... سڑکوں اور گلیوں میں جھگڑتے بحث کرتے کراچی کے باسی نظروں میں گھوم گئے... بچوں اور نوجوانوں میں جھنجھلاہٹ اور پڑھنے کے دوران چڑ چڑا پن.. ہزار اندیشوں میں گھرے والدین... ذہنی و جسمانی امراض میں آئے روز اضافے کی خبریں... بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر با اختیار طبقوں کی بےحسی اور لاپرواہی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ عام لوگوں کو اس لاچار و اذیتناک طرز زندگی کا مستحق سمجھتے ہیں .

مگر ایک عام فرد اس بےیارومددگار نظام کا حصہ بننے پر مطمئن کیسے ہے???بہتری کی کوشش اور عملی جستجو کا شعور بھی کیا اسی آلودگی کے اثرات کی نزر ہوگیا... ہم سب ہی کراچی کے رہائشیوں کے آس پاس بہت گندگی ہے ... بہت کچرا دیکھتے ہیں ہم صبح و شام... یہ شہر جو روشنیوں کا شہر تھا ... کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا تھا جیسا کہ اب ہے... اس شہر کی رات بھی چمچمایا کرتی تھی.. شہر کی حالت زار کا کیا رونا ... دل بھی بجھ گئے اب تو ...

مگر اب بھی کچھ لوگ ہیں ہمدرد , ہر مشکل وقت میں چٹان کی طرح مضبوط حوصلے کے ساتھ اہل کراچی کے درد بانٹنے , روشنی پھیلانے کیلیئے نکل آتے ہیں.. وہ لوگ اختیارات تو نہیں رکھتے مگر درد دل رکھتے ہیں.. کراچی کے شہریوں اور آئندہ نسلوں کو ایک روشن اور پاکیزہ معاشرہ اور سہولیات سے آراستہ شہری زندگی مہیا کرنے کیلیئے ارباب اختیار کو جھنجھوڑنے کیلیئے مجھے ان لوگوں کا ساتھ دینا ہے... تمام کراچی والوں کو سوچنے کی ضرورت ہے... کیا ہمارے بچے بھی زندگی کے ہر امتحان میں مایوس کن کارکردگی دکھانےوالوں کی طرح ہونے چاہیئیں یا میں اور آپ انکے روشن اور تابناک مستقبل کیلیئے ہر طرح کی آلودگی کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھائینگے.ستائیس ستمبر کا حقوق کراچی مارچ اس اہم فیصلے کی طرف پہلا قدم ہے... یہ قدم ضرور اٹھائیے گا.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */