... اور وہ لڑکی بلک بلک کر روپڑی - عظیم الرحمن عثمانی

'فیشن ریٹیل کمپنی' میں ساتھ کام کرنے والی وہ انگریز لڑکی میری 'ورک کولیگ' تھی۔ دیگر لڑکیوں سے زیادہ زندہ دل، قہقہے لگانے والی اور فیشن کی دلدارہ تھی۔ بالوں کو کبھی نیلا، کبھی پیلا، کبھی سرخ اور کبھی گلابی رنگ لینا اس کا معمول تھا۔ گھومنے پھرنے، کلب جانے کو جیسے ہر وقت تیار رہتی تھی۔ لاشعوری طور پر میرے ذہن میں اس کا تاثر ایک ایسی بولڈ لڑکی کا بن گیا جو زندگی کو بس ایک پارٹی کے طور پر گزارنا چاہتی ہے، جو بہت سے بوائے فرینڈز تبدیل کرچکی ہے اور جسے سنجیدہ رشتے یا نکاح وغیرہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔

ایک روز ہم کوئی چار پانچ کولیگز ساتھ بیٹھے گپ شپ کررہے تھے۔ ایک دوسری یورپین لڑکی نے حقوق نسواں کی کوئی بات کی اور غصے سے کہا کہ کس طرح ساری دنیا میں عورت کو مختلف طریقوں سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس بات کو میں بس رسمی طور پر سن رہا تھا۔ اچانک میری نظر اس فیشن ایبل لڑکی پر پڑی تو چونک گیا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی اور اس کا پورا وجود پتے کی مانند خوف سے کانپ رہا تھا۔ ہم سب گھبرا کر اسے دلاسہ دینے لگے مگر لگتا تھا کہ وہ زمین پر بیہوش ہوکر گرجائے گی۔ کچھ وقت بعد جب اس کی حالت کسی قدر بہتر ہوئی تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ ایسا کیا ہوا جس سے اس کی روح اس قدر زخمی ہے؟ آنکھوں سے دوبارہ ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، سسکتے ہوئے اس نے بتایا کہ میرا ریپ ہوا ہے۔

وہ تیرہ چودہ برس کی تھی جب اس کے ایک پختہ عمر کے رشتے دار نے اسے شراب کے بہانے مدہوش کیا اور پھر اسے ریپ کرتا رہا۔ وہ اس نیم بیہوشی میں اسے چاہ کر بھی نہیں روک سکی۔ روکنے کی جیسے بدن میں قوت ہی نہیں تھی۔ گھنٹوں اسے وہ خبیث نوچتا رہا اور وہ بے بس ہزار موت مرتی رہی۔ اس کے بعد جب دوسری صبح ہوش آیا تو یہ ہمت بھی نہیں کرپائی کہ پولیس کو بتاسکے۔ اپنے والدین بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے، لہذا انہیں بھی کہنے کی ہمت نہیں ہوئی اور یہ کرب اس کے دل میں ہی مدفون ہوگیا۔ اس کے بعد کبھی ٹھیک سے نیند نہیں آئی، نائٹ میئرز آتے ہیں، کبھی خود کو پوری طرح خوش محسوس نہیں کیا، بار بار ڈپریشن کے دورے پڑتے ہیں، خودکشی کی ناکام کوشش بھی کی اور اب خود کو یار دوستوں اور پارٹیوں میں مگن کرکے سب بھلا دینا چاہتی ہوں۔
۔
وہ دوبارہ بلک رہی تھی، تھرتھر خوف سے کانپ رہی تھی۔ سب ساتھی اسے دلاسہ دے رہے تھے مگر میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ ریپ کیسا خوفناک جرم ہے؟ یہ تو شائد قتل سے بھی زیادہ ہولناک نتائج کا حامل ہے کہ ایک بار کی موت روز روز کی موت سے بہتر ہے؟ پوری شخصیت زندگی بھر کیلئے مجروح کردی گئی۔ روح تک کو جھلسا دیا گیا۔ اور جب ویسٹرن ماحول میں پلی بڑھی اس لڑکی کا ریپ کے بعد اذیت سے یہ حال ہے جو اپنی مرضی سے بہت سے جنسی تعلق قائم کرتی رہی ہے۔ پھر اس پاکباز لڑکی کا ریپ کے بعد کیا حشر ہوتا ہوگا جو اپنی عزت کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کرتی آئی تھی؟ یا پھر شائد لڑکی پاکباز ہو یا چاہے پاکباز نہ ہو۔ یہ اس صورت میں کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ زنا بالجبر یعنی ریپ کا عمل ہر لڑکی کے نفسیاتی وجود کو کچل ڈالتا ہے۔ ہم مرد ۔۔ اس کرب کا تصور نہیں کرسکتے۔ بالکل نہیں کرسکتے۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */