میں عمران خان کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟ - مجاہد خٹک

عمران خان کی حمایت کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اور نواز شریف ایک سیاسی سی سا (جھولے) پر بیٹھے ہیں۔ ایک کے نیچے جانے کا مطلب دوسرے کا اوپر جانا ہے۔ میں چونکہ نواز شریف کے طرز سیاست کو نوے کی دہائی سے دیکھتا آیا ہوں اور اس کا شدید ناقد ہوں، اس لیے سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی مخالفت کا منطقی نتیجہ میاں صاحب کی حمایت کرنا ہے۔ جب تک خان صاحب کا کوئی ان سے بہتر اور نیا متبادل نظر نہیں آتا، اس وقت تک عمران خان کی حمایت کے سوا میرے پاس کوئی اور رستہ موجود نہیں۔ یہ بات ان تمام افراد کو سمجھ لینی چاہیے جو زرداری صاحب اور میاں صاحب کے انداز سیاست اور طرز حکومت کے خلاف ہیں۔

عمران خان کی حمایت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ان کا فوکس غریب طبقہ ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس کی ذات میں غریب اور محروم طبقے کی حالت بہتر بنانے کی تڑپ واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ان سے قبل بھٹو صاحب نے بھی یہی تاثر دیا تھا مگر ان کے مقاصد سیاسی تھے۔ نچلے طبقے کے لیے ہمدردی بذات خود مقصود نہیں تھی بلکہ ان کے لیے اقتدار کے حصول کا ذریعہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کر کے نہ صرف معیشت تباہ کی بلکہ ملک کے بہترین اداروں کو بھی تباہ کر دیا جس سے آخری تجزیے میں غریب طبقہ مزید غربت کا شکار ہوا۔

میرا اب تک کا تجزیہ اس حسن ظن کو تقویت دیتا ہے کہ عمران خان دل سے اس طبقے کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اب تک ہم نے جتنی بھی حکومتیں دیکھی ہیں، ان کا فوکس طبقہ اشرافیہ تھا۔ پی ٹی آئی کی شکل میں پہلی مرتبہ ایسی حکومت سامنے آئی ہے جو غریبوں کے لیے سوچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اشرافیہ کبھی مہنگائی بڑھا کر، کبھی ذخیرہ اندوزی کر کے اور دیگر حربوں کے ذریعے حکومت کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش میں کامیاب رہی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ خان صاحب اس نظام کو توڑ دیں گے اور طاقتور اشرافیہ کو قانون کے سامنے جھکالیں گے۔ اس میں وقت لگے گا۔ اس دوران پراپیگنڈا بھی ہو گا، عارضی ناکامیاں بھی ہوں گی اور مسائل میں اضافہ ہوتا بھی دکھائی دے گا لیکن اگر حکومت اپنا فوکس قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو دھیرے دھیرے بہتری نظر آنا شروع ہو جائے گی۔

عمران خان کی حمایت کی تیسری وجہ ان کا ذاتی طور پر دیانتدار ہونا ہے۔ جس طرح کرپشن اس معاشرے کے رگ و پے میں شامل ہو چکی ہے، اس کے پیش نظر حکمران کا دیانتدار ہونا انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ معاشرے کو دیانت داری کی جانب لوٹانے کے لیے یہ پہلی شرط ہے۔ اگرچہ صرف یہی کافی نہیں ہے لیکن دیگر جماعتوں کے سربراہوں کو دیکھا جائے تو یہ بہت بڑا فرق ہے جو امید بندھاتا ہے کہ دھیرے دھیرے بڑی سطح کی کرپشن میں کمی آ جائے گی۔

ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں آج تک کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جس سے غلطیاں نہ ہوئی ہوں۔ اس لیے اگر حکومت کی نیت درست ہے اور وہ اپنے تئیں بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان میں بہتری لائی جا سکے تو فی الحال میرے لیے یہی کافی ہے۔ حساب کتاب اس وقت ہو گا جب اگلے انتخابات ہوں گے۔ اس وقت دیکھیں گے کہ کچھ بہتری آئی ہے یا نہیں آئی اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے لیکن مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کبھی بھی آپشن نہیں ہوں گے۔ یہ دونوں اشرافیہ کی جماعتیں ہیں اور انہی کی مدد سے خود کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */