معرکہ (9) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط

ایک گہرے سبز رنگ کے دلفریب گلستان میں، شیشے کی بنی اس خوبصورت عمارت کو دیکھ کر، فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ یہ باغ میں بناٸی گٸی ہے یا اس کے اندر باغ ہے۔ بہت بلند چھت، نیلم پتھر کا بنایا گیا ایک مرکزی نیز چار چھوٹے گنبد، زمرد کے مینار اور سونے کے دروازے رکھنی والی اس عمارت کے شیشے کے فرش کے نیچے سے شفاف ٹھنڈے پانی کا چشمہ بھی گزرتا تھا۔ جس میں تیرتی خوش رنگ مچھلیاں اور بہت سی دیگر خوبصورت آبی مخلوق دیکھی جا سکتی تھی۔ عمارت کے اندر خوشبودار پھلوں سے لدھے درخت اور سبزے کے قطعات تھے۔ انگور کی بیلیں تھیں جو شیشے کی دیواروں سے بغلگیر ہو رہی تھیں جن پر پکے ہوٸے انگوروں کے مختلف رنگوں کے خوبصورت گچھے بہار دکھا رہے تھے۔ رنگ رنگ کے پھول قسم قسم کے درخت یہاں وہاں کہیں ترتیب کہیں بے ترتیبی سے اگے ہوٸے تھے۔ بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب تھی اور ترتیب تو تھی ہی دلکشی اور ذوق آراٸش۔

چھت سے بندھی سونے چاندی کی زنجیروں نے خوبصورت قندیلیں اور چراغ تھام رکھے تھے جن میں خوشبودار تیل اور صندل کی لکڑی جل رہی تھی۔ یہ عمارت درویشوں، ساتھیوں اور مددگاروں کے لیے کمیونٹی سینٹر کی سی حثیت رکھتی تھی۔ وہ کبھی یہاں اکھٹے ہوتے، درود سلام، اور نعتوں کی محفلیں سجتیں۔ کبھی کبھار عالم برزخ سے کوٸی بڑے عالم اور خطیب بطور مہمان تشریف لاتے تو ان کا وعظ ہوتا جسے سننے کے لیے دور دور سے درویش اور مددگار آتے۔

بہت صدیاں پہلے تک شیطان اور اس کے چیلے اپنی دنیا میں مگن اپنی متعین حدود میں رہتے اور سفید پوشوں کے معاملات میں مداخلت سے گریز برتتے تھے۔ لیکن ابلیس کی ہر آنے والی ذریت پہلے والوں سے زیادہ سرکش تھیں۔ رفتہ رفتہ انھوں نے شریر اور انسانوں کو تنگ کرنے والے جنات اور خبیث شیاطین کو قید کرنے اور جلانے والے درویشوں پر جوابی حملے شروع کر دیے تھے۔ وہ ٹولیوں کی شکل میں حملہ کرتے اور ساتھیوں اور مددگاروں کو نقصان پہنچاتے یا قید کر لیتے تا کہ وہ ان کے خلاف انسانوں کی مدد نہ کر سکیں۔ یہ سرکش جنات اور ابلیس کی ذریات جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رہتی تھی بلکہ زیادہ تر یہ انسانوں کی ریسرچ اور تحقیقات چرا کر ان سے پہلے اپنی دنیا میں اسے بروئے کار لے آتے تھے۔

ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنھیں نقل و حمل اور پیغام رسانی کے لیے انسانوں کی طرح ایجادات کے محتاجی کا سامنا تھا۔ ان کے پاس ہر قسم کے جدید ذراٸع آمد ورفت موجود تھے۔ یہ انسانوں کی طرح بڑی بڑی بلڈنگز بنا کر اپنے خاندانوں سمیت ادھر رہتے تھے۔

یہ سرکش مخلوقات یہ جان گٸی تھیں کہ جس طرح درویش انھیں جلا کر مار دیتے ہیں اس طرح مختلف کیمیکلز کے استعمال سے انھیں بھی جلا اور مار کر واپس عالم برزح میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ ایسی گنز اور میزاٸل بنانے میں کامیاب ہو گٸے تھے جو سفید پوشوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ تب سے ان کی ہٹ دھرمی میں بھی شدید اضافہ ہو گیا تھا۔

درویش ”اقرا“ نامی اس کیمونٹی سینٹر کو اپنے لیے بہت محفوظ جگہ سمجھتے تھے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سرکش مخلوقات کبھی یہاں بھی حملہ کر سکتی ہیں۔ لیکن بہت جلد ایسا ہونے والا تھا۔

جحیم جیسے ہی آزاد ہوا عفرش نے اسے ملاقات کے لیے اپنے دربار میں بلا لیا تھا۔جیحم، عفرش کو دیکھتے ہی سجدے میں گر گیا لیکن عفرش نے منہ پھیر لیا۔ جحیم کا تعلق عفرش کے آباٸی قبیلے سے تھا اور اس بات کا بہت کم شیاطین کو علم تھا کہ وہ رشتے میں عفرش کا پڑپوتا ہے۔

آہ۔۔آپ کا پھولا ہوا منہ دیکھنے سے بہتر تھا میں وقوعہ پر ہی کفن پوشوں کے ہاتھوں مارا جاتا۔

جیحم نے سجدے سے ذرا سا سر اٹھا کے کہا اور دوبارہ سر فرش سے ٹکا دیا۔

میں نے ہاویہ کو بھیج کر غلطی کی ہے ورنہ تم اسی قابل تھے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید میں پڑے رہتے۔
لگتا ہے تم نے اپنی قید سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔
عفرش نے ناراضگی سے کہا۔

کیوں نہیں۔۔میں اب ٹھنڈے پانی اور برف کے بارے میں کافی کچھ جان چکا ہوں۔
جحیم نے پرجوش ہو کر بتانا شروع کیا۔
اپنی۔۔بکواس۔۔ بند کرو۔۔

عفرش نے مٹھیاں بھینچ کر دانت پیسے۔ جحیم سہم کر خاموش ہو گیا۔

میں زمین کے اس خطے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہوں۔۔۔۔۔عفرش نے اپنے سامنے پڑے نقشے میں سے ایک جگہ کو مارک کیا۔ میں اس جگہ کو یہاں سے لیکر یہاں تک جہنم میں تبدیل کر دینا چاہتا ہوں۔۔اس نے اس دفعہ قدرے بڑا داٸرہ کھینچا۔۔
مجھے یقین ہے استاد اعظم ابلیس اس منصوبے سے آگاہ ہوں گٸے۔۔

جحیم نے اس بار مکمل سنجیدگی سے سوال کے لبادھے میں اعتراض اٹھایا۔
میں اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہوں۔۔۔استاد اعظم کو صرف نتاٸج سے مطلب ہونا چاہیے۔۔۔۔اور تمھیں احکامات بجا لانے سے۔۔۔!

عفرش غرایا۔

جحیم نے فرمابرداری سے سر ہلایا۔

میں نے یہاں کے کچھ انسانوں کو آلہ کار بنا لیا ہے اب وہ الگ الگ میرے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔لیکن ایک انسان ایسا ہے جو مستقبل میں ہمارے عزاٸم کی راہ میں خطرہ بن سکتا ہے۔۔۔!
سلطان کبیر۔۔۔۔۔۔!

عفرش نے جحیم کی سوالیہ نظروں کے جواب میں کہا۔
یہ وہی شخص ہے جس کے درویشوں نے تم سے قیدی ڈاکٹر چھینے تھے۔

اس سے تو بدلہ لینا مجھ پر واجب ہے۔۔۔!
اس کا میں نے بندوبست کر دیا ہے۔۔۔تمھیں اس کے درویشوں اور مددگاروں سے نمٹنا ہو گا۔۔۔۔ختم کردو انھیں۔۔۔
کہاں ملیں گٸے وہ کفن پوش مردے؟

”اقرا“
عفرش نے بڑی طنز آمیز ترتیل سے کہا۔
یہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔۔اس سے براہ راست جنگ چھڑ سکتی ہے۔

تم صرف اپنا کام کرو۔۔۔باقی مجھ پر چھوڑ دو۔۔اب دفع ہو جاٶ اور کامیاب ہوٸے بغیر مت لوٹنا۔۔
عفرش اپنا چوغہ سنبھال کر کھڑا ہو گیا۔ جیحم نے ادب سے سر جھکایا اور الٹے قدموں دربار سے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان کبیر اپنے مخصوص حلیے میں فہیم صاحب کے گھر کے باہر موجود تھے۔ ایس ایس پی ظفر کمال نے فہیم صاحب کی پریشانی کا سن کر انھیں سلطان کبیر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ بندہ اللہ کا ولی اور انتہاٸی روحانی شخصیت ہے۔۔ یہ آپ کا مسٸلہ حل کر سکتے ہیں۔ آپ ان کو اپنے گھر لیکر جاٸیں ٕان شاء اللہ آپ کو مایوسی نہیں ہو گی۔
مظفر صاحب نے کہا تھا۔

سلطان کبیر نے فون پر فہیم صاحب کی بات بہت ہمدردی اور توجہ سے سنی۔
”آپ مجھے اپنا ایڈریس میسج کر دیں میں إن شاءالله پہلی فرصت میں آپ کے پاس حاضر ہو جاٶں گا۔

ان کے انداز میں عاجزی تھی۔ اگلے دن انھیں اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر فہیم صاحب کو خوشگوار حیرت ہوٸی۔
پلیز اندر تشریف لاٸیے۔
فہیم صاحب سلطان کی شخصیت سے متاثر ہوٸے۔

سلطان کبیر کے ساتھ سفید چوغوں اور نیلی مخروطی ٹوپیوں والے درویشوں کی ایک ٹولی بھی تھی۔ جو فہیم صاحب کو نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے جیحم کے ٹرک پر حملہ کر کے ڈاکٹر چھڑوا لیے تھے۔ سفید پوشوں کا زرد داڑھی والا امیر ”عبداللہ“ سلطان کے پہلو بہ پہلو چل رہا تھا۔ اس کا قد سلطان کبیر کے قد سے بھی کوٸی چار انچ لمبا تھا۔ باقی چار درویش بڑے مودب انداز میں سلطان کے پیچھے تھے۔ سلطان کی آنکھیں وہ دیکھ رہیں تھیں جو فہیم صاحب کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ ان کے گھر کی باہر والی کھڑکیوں اور اندرونی لکڑی کے دو پٹ والے دروازے کو لکڑی کے تختے لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ سامنے والی دیوار پر سیاہ سپرے پینٹ سے شیطانی کلمات لکھے گٸے تھے۔۔ گھر کی منڈیر پر مردار جانوروں کی ہڈیاں اور لاشیں لٹک رہیں تھیں جن کی بو ناک میں دم کر رہی تھی۔ گھر کے اندرونی مرکزی دروازے کے باہر پورچ کی چھت سے کچھ پتلے پھانسی پر لٹکے ہوٸے تھے۔ جن پر فہیم صاحب کی فیملی کے سارے ممبرز کے نام لکھے تھے۔

سلطان کبیر ایک ایک چیز کو بغور دیکھ کر چل رہے تھے۔ وہ پورچ کی چھت کے نیچے جا کر رک گٸے اور پھانسی پر لٹکے پانچوں پتلوں کا بغیر ہاتھ لگاٸے مشاہدہ کرنے لگے۔ پتلے آٹے سے بناٸے گٸے تھے اور آٹے کو گوندھنے کے لیے خون کا استعمال کیا گیا تھا۔ سلطان کبیر نے عبداللہ کو پتلے اتارنے کا اشارہ کیا۔ عبداللہ نے چوغے کی جیب میں سے ایک خنجر برآمد کیا جو چمڑے کے کور میں بند تھا۔ رسیاں کاٹ کر عبداللہ نے پتلوں کو نیچے اتارا اور ایک درویش کی عمرو عیار کی زنبیل نما تھیلے میں ڈال کر غاٸب کر دیا۔ چھوٹے سے تھیلے کا پیٹ پانچ انسانی قامت کے پتلے نگل کر بھی ابھی تک کمر کے ساتھ لگا ہوا تھا۔
فہیم صاحب چپ چاپ کھڑے سلطان کبیر کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں سلطان کبیر کے اردگرد دیکھنے کا انداز اور اشارے یہ سمجھا رہے تھے جیسے ان کے ساتھ مزید لوگ بھی ہیں۔
اندر چلیں حضرت۔۔۔؟

فہیم صاحب نے دعوت دینے والے انداز میں کہا۔۔ ابھی ہمارے ساتھیوں کے لیے راستہ بند ہے کھل جاٸے تو ساتھ ہی چلتے ہیں۔
سلطان کبیر نے سنجیدگی سے کہا اور عبداللہ کو اشارہ کیا کہ مرکزی دروازے کے باہر لگی رکاوٹوں اور اور مضبوط لکڑی کے تختوں کو توڑ دے۔۔۔عبداللہ اور باقی درویش فوراً اس کام پر لگ گٸے۔

”ہمارے نبی کریمﷺ نے ہمیں ہدایت دی ہے ” کہ اپنے گھروں کو قبرستان مت بناٶ“
یعنی گھر میں نماز روزے کا اہتمام کرو۔۔اور فرمایا کہ سورة بقرہ کی تلاوت سے شیطان دور بھاگتا ہے۔۔بیٹا جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے وہاں نقب لگانا شیطان اور اسکے چیلوں کے لیے آسان نہیں رہتا۔ ایمان طہارت اور نور ہے جو ظلمت اور تاریکی کو رفع کرتا ہے۔

قرآن کو پڑھو بیٹا اس پر تدبر کرو۔۔۔خدا نے چاہا تو شیطان کے مقابلے میں تم ہی غالب رہوگے۔۔۔۔
چلو اندر چلتے ہیں۔

سلطان کبیر نے قدم گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھاتے ہوٸے کہا۔ عبداللہ اور باقی درویشوں نے دروازے پر لگی رکاوٹیں ہٹا دی تھیں اس لیے وہ بھی سلطان کبیر کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب رہے تھے۔

سلطان کبیر دیکھ سکتے تھے کہ پورے گھر میں شیطانی غلاظت پھیلی ہوٸی ہے۔ عبداللہ نے ان کی توجہ ٹی وی لاونج کے پنکھے کی طرف دلواٸی۔ جس پر ایک عجیب الخقت چیز لٹکی ہوٸی تھی اور اسکے منہ سے ٹپکنے والی رال سے درجنوں کی تعداد میں بڑی بڑی چیونٹی نما مخلوق پیدا ہوتیں جو کچھ ہی لمحے میں پٹاخ کی آواز کے ساتھ پھٹ جاتیں اور ہر طرف خون پھیل جاتا۔۔پورے ٹی وی لاونج کے فرش پر دو تین انچ خون کھڑا تھا۔ سلطان کبیر نے اپنے روحانی سفر میں اسطرح کی مخلوق آج تک نہیں دیکھی تھی۔ وہ غور سے پنکھے کے ساتھ چپکی مخلوق کو دیکھ رہے تھے جو سلطان کبیر اور درویشوں کو دیکھ کر بھیڑیے کی طرح غرانا اور دانت نکوسنا شروع ہو گٸی تھی۔

” یہ کیا چیز ہے عبداللہ؟“
سلطان کبیر نے پوچھا ان کے ماتھے پر تفکر کی لکیریں تھیں۔
میں اسے نہیں جانتا حضرت۔۔۔لیکن کوٸی خطرناک چیز لگ رہی ہے۔
امیر نے انکار میں سر ہلایا۔

پاک ہے وہ ذات جس نے طرح طرح کی مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے۔ جس میں ہم کچھ کو جانتے ہیں اور بہت سوں کو نہیں جانتے۔۔۔اور بے شک ہمیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔۔اے رب ہمارے علم میں اضافہ فرما اور ان شیاطین کے خلاف ہماری مدد فرما۔

عبداللہ، درویشوں کے ساتھ مل کر اسے قابو کرو۔۔۔۔!

سلطان نے دعا کرنے کے بعد حکم دیا۔۔عبداللہ کے اشارے پر باقی درویش بھی کمرے میں داخل ہو گٸے، ان کے ہاتھ میں نیزے نما ہتھیار اور رسیاں نظر آرہی تھیں۔ پنکھے کے ساتھ لٹکی بلا کے منہ سے شدید غضب سے پھنکار نما غراہٹ نکل رہی تھی۔ اچانک اس نے دیوار پر چھلانک لگاٸی اور دیوار سے پھسل کر فرش پر آگری اور انسانوں کی طرح دو ٹانگوں پر کھڑی ہوگٸی۔۔اس نامعلوم مخلوق کی قریب ترین مشابہت لنگور سے ملتی جلتی تھی لیکن اس فرق کے ساتھ کے آکٹوپس کی طرح اس کے انگنت ہاتھ پاٶں تھے۔ وہ پھنکارتی ہوٸی سلطان کبیر پر جھپٹی۔ لیکن عبداللہ راستے میں ہی تھا۔ اس نے لنگور کو اٹھا کر زمین پر دے پٹخا۔ باقی درویشوں نے اس پر رسیاں پھینک کر قابو کر لیا۔ لنگور تڑپ رہا تھا چنگاڑ رہا تھا لیکن دریشوں کی گرفت بہت سخت تھی۔ اس کے ہاتھ پیر رسیوں سے باندھ کر درویش کی زنبیل میں ڈال دیا گیا۔

سلطان کبیر صاحب نے سارے گھر کا معاٸنہ مکمل کیا۔ بظاہر وہ لڑکیاں کہیں نہیں تھیں جن کا ذکر فہیم صاحب نے کیا تھا۔ شاید وہ سلطان کبیر اور درویشوں کو دیکھ کر چھپ گٸی تھیں۔ سلطان فہیم صاحب کے بچوں سے بھی ملے اور انھیں نماز اور قرآن پڑھنے کی تلقین کی۔
وہ پانچوں گھر کے تہہ خانے میں ہیں۔

عبداللہ نے سلطان کبیر کو رپورٹ دی۔ سلطان کبیر مسکراٸے۔۔۔ چلیں بیسمنٹ میں چلتے ہیں۔

انھوں نے فہیم صاحب سے کہا۔ بیسمنٹ گھر کے کل رقبے کا ایک چوتھاٸی تھا۔ جسے فہیم صاحب نے ایک ہی ہال کی شکل دے رکھی تھی۔ جس میں فرشی بیٹھک، کتابوں کی الماریاں اور دو تین ان ڈور گیمز کا سامان پڑا تھا۔ بیسمنٹ میں تیز میوزک بج رہا تھا۔ فہیم صاحب نے دوڑ کر ساٶنڈ سسٹم بند کیا۔ یہ ”ان“ کی ہی شرارت ہے۔ انھوں نے قدرے شرمندگی سے سلطان کبیر سے کہا۔۔لیکن سلطان کبیر حیران نظروں سے کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہے تھے۔ جو فہیم صاحب کو نظر نہیں آ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولیس کی اعلی سطحی کمیٹی بڑی تندہی اور خاموشی سے فرقہ ورانہ فسادات کی تحقیقات میں لگی ہوٸی تھی۔ کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی مظفر کمال روزانہ کی بنیاد پر تفتیشی آفسران سے رپورٹس لیکر نٸی ہدایات جاری کر رہے تھے۔ پولیس ”حامد خان“ نامی مبینہ ملزم کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ وہ اس کی بناٸی گٸی بوگس این جی او ”دی ہوپ“ کے دفتر تک پہنچ گٸے تھے۔ وہاں سے انھیں دفتر میں چھوٹے موٹے کام کرنے والے ملازمین کا سراغ مل گیا تھا لیکن ان سے ہوٸی تحقیقات سے، کوٸی خاص مدد نہیں ملی تھی۔وہ حامد خان اور اس کے بیک گرونڈ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ بلڈنگ کی پارکنگ اور اردگرد کی عمارتوں کے درجنوں بیرونی کیمروں کی ویڈیوز سے حامد خان کے استعمال میں رہنے والی دو گاڑیاں کا سراغ لگایا گیا تھا۔ ان کی نمبر پلیٹس کے ذریعے مالک کی کھوج کی گٸی۔ دونوں کاریں نٸی تھیں لیکن یہ ان لوگوں کے نام پر رجسٹر تھیں جنھوں نے گاڑیوں کو بک کروانے کے بعد اون منی لیکر کاریں شوروم پر ہی بیچ دی تھیں۔ اب پولیس دوبارہ بند گلی میں کھڑی تھی۔ مجرم نے بڑی چلاکی اور عیاری سے کام کیا تھا وہ جانتا تھا ایک نہ ایک دن پولیس اس تک پہنچ ہی جاٸے گٸی۔ اس لیے اس نے کہیں بھی کوٸی سراغ نہیں چھوڑا تھا۔ سلطان کبیر سے ہوٸی ملاقات نے تفتیش کی رکی ہوٸی گاڑی میں نٸی جان ڈال دی تھی۔

ایک شخص نے کچھ لڑکیوں کو ویلفیئر تنظیموں کے مرکزی دفتری میں پلانٹ کیا ہے۔ وہ ان کے ذریعے ان تنظیموں کے مالی اور اخلاقی معاملات کو اچھال کر نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

وہ لڑکیاں کون ہیں۔۔اور آپ یہ بات کیسے جانتے ہیں؟
مظفر صاحب نے پوچھا۔

یہ اہم نہیں ہے۔۔۔اہم یہ ہے کہ کیا ان لڑکیوں کو نوکری دلوانے والا شخص اور علمإ کو اکسا کر دہشت گردی اور قتل غارت کروانے والا کردار ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں۔۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

مجھے یقین ہے کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کام ہیں۔۔کیوں کے لڑکیوں کے انٹرویو جس دفتر میں لیے گٸے تھے اور جہاں وہ ایک مہینہ کام کرتی رہیں ہیں یہ ''دی ہوپ'' کا ہی دفتر ہے۔
” کیا زیدی صاحب بھی ٹریپ ہو گٸے ہیں؟

مظفر صاحب نے کمرے کی طرف دیکھا جہاں زیدی صاحب، علی اکبر اور خرم موجود تھے۔ سلطان کبیر اور مظفر صاحب صحن میں کھڑے دھیمی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔
ہاں لیکن وہ نہیں جانتے کہ انھیں ٹریپ کرنے والا کون ہے اور نہ ہی میں انھیں بتانے چاہتا ہوں۔

سلطان کبیر نے حتمی انداز میں کہا۔

ان لڑکیوں سے میری ملاقات ہو جاٸے تو کوٸی نیا سراغ مل سکتا ہے۔
وہ لڑکیاں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتی جتنا آپ جانتے ہیں۔

فرقہ ورانہ فساد اور فلاحی تنظیموں کو نقصان پہنچا کر آخر یہ حامد خان حاصل کیا کرنا چاہتا تھا۔

اس کا مقصد صرف انتشار اور فساد پھیلانا ہے۔ وہ عوام الناس کی تالیف قلب اور داد رسی کے نظام کو بھی ناکارہ کرنا چاہتے ہیں۔۔تا کہ معاشرہ پریشر ککر بن کر کسی وقت بھی پھٹ جاٸے۔مجھے خدشہ ہے انکا اگلا وار اس سے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے آپ کو جلد سے جلد اس حامد خان عرف ثقلین منیر کو گرفتار کرنا ہو گا۔

مظفر صاحب کچھ دیر خاموشی سے اسے بارعب بوڑھے شخص کو دیکھتے رہے جس نے بڑی آسانی سے اس شخص کا نام لے دیا تھا جسے وہ سات آٹھ ہفتے کی کوشش کے بعد بھی ٹریس نہیں کر سکے تھے۔

کون ہے یہ شخص اور آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟

جو آدمی طاغوتی قوتوں سے براہ راست رابطے میں آ جاتا ہے ہم اس پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ تب تک ہمیں شدید نقصان نہیں پہنچا پاتے جب تک ہم انسانوں میں سے کوٸی ان کا آلہ کار نہ بن جاٸے۔ یہ ثقلین منیر سیاہ پوشوں کے لیے کام کر رہا ہے یہ ہم جانتے تھے۔۔لیکن پھر یہ ہماری نظروں سے اوجھل ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔اسی دوران یہ ساری شیطانیاں کرتا رہا ہے۔۔لیکن اب ہم جان گٸے ہیں کہ حامد خان ہی دراصل ثقلین منیر ہے۔۔کچھ سال پہلے تک یہ آدمی چھوٹا موٹا عامل تھا۔ جو لوگوں کو جادو ٹونے کے نام پر بےوقوف بنا کر ان سے مال بٹورتا تھا۔ پھر اس نے اپنی روح کا سودا شیطان کے ساتھ کر لیا۔
سلطان کبیر نے تفصیل بتاٸی۔۔

کون ہیں آپ۔۔۔؟
مظفر صاحب کے آنکھوں میں تعجب کے iceberg تیر رہے تھے۔

یہ سوال اہم نہیں ہے بیٹا۔۔ثقلین منیر کی فوری گرفتاری اس سے زیادہ ضروری ہے ورنہ وہ امید سمیت دوسری تنظیموں کا تیاپانچہ کر دے گا۔۔

یہ کام ختم ہو جاٸے پھر ہم دوبارہ ملیں گے۔۔اور خرم کے لیے پریشان ہونا چھوڑ دو۔۔۔وہ انشإاللہ ٹھیک ہو جاٸے گا۔
سلطان مسکراٸے۔

آج اس بات کو چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے۔ مظفر صاحب ثقلین منیر کی تلاش میں جتے ہوٸے تھے۔ ثقلین منیر اور حامد خان کی شکل میں صرف فرنچ کٹ داڑھی، نظر کی عینک اور لباس کے علاوہ کوٸی فرق نہیں تھا۔ حامد خان کی تصویر پولیس نے پہلے ہی حاصل کی ہوٸی تھی۔کمپوٹر سافٹ ویر سے حلیہ بدلنے کے استعمال ہوٸی اضافی چیزیں ہٹا کر انھیں ثقلین کی تصویر مل گٸی تھی اور اس سے نادرا کا ریکارڈ۔۔جو کہ پولیس کی کریمنل ڈیٹا بیس سے میچ کر گیا تھا۔ کٸی چھوٹے موٹے جراٸم کے علاوہ وہ اپنے کسی شیطانی چلے کی تکمیل کے لیے اپنے سگے تین بچوں کو ذبح کرنے کے سنگین جرم میں بھی گرفتار ہو چکا تھا۔ کیس کی مدعی اس کی اپنی بیوی تھی۔ جس کے معاف کرنے پر وہ دو ڈھاٸی سال میں ہی آزاد ہو گیا تھا۔ ثقلین کا کوٸی مستقل ٹھکانا نہیں تھا۔ پچھلے دس سالوں میں اسنے کافی شہر بدلے تھے۔ اس کی بیوی چند سال پہلے اس سے طلاق لے چکی تھی۔ ثقلین کے گھر والوں نے اس کی حرکتوں کی وجہ سے اس سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ ثقلین کے نام پر جتنی سمز تھیں وہ ساری بند ہو چکی تھیں۔۔پولیس ایک دفعہ پھر بند گلی میں کھڑی تھی۔

جاری ہے

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */