وہ سبق جو کالم نگاری کے سفر میں سیکھے - محمد عامر خاکوانی

میرا پہلا کالم روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا،تب قانون کے پہلے سال کا طالب علم تھا۔ یہ 1992ء کا موسم سرما تھا۔ بعد میں ایک دو اور تحریریں بھی مختلف قومی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ چھ فروری 1996ء کو اردو ڈائجسٹ بطور سب ایڈیٹر جوائن کیا۔ یہ میرے صحافتی سفر کا آغاز تھا، تاہم کالم نگاری کا باقاعدہ آغاز فروری 2004ء میں ہوا۔

روزنامہ ایکسپریس میں بطور میگزین انچارج کام کر رہا تھا۔ ایک دن سینئر ایڈیٹر نے بلا کر کہا کہ آپ کل سے کالم لکھنا شروع کریں۔ شروع کے چند کالم تصویر کے بغیر چھپے، پھر باتصویر لوگو کے ساتھ شائع ہونے لگے۔ یوں کالم نگاری کے سفر کو تقریباً سترہ سال ہوگئے۔ اس سفر کے دوران بہت کچھ تلخ وشیریں دیکھنا پڑا۔ تلخ کم اور شیریں زیادہ۔ اسے اللہ کا بے پناہ کرم ہی کہوں گا کہ کالم نگاری کے سفر نے بے اندازہ مسرتوں اور خوشیوں سے ہم کنار کیا۔ ایک چھوٹے پسماندہ شہر کے رہنے والے لڑکے کو رب کریم نے قلم کے ذریعے ہی ہزاروں، لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ بے شمار نئے لوگ حلقہ محبت میں شامل ہوئے۔ دوردراز کے شہروں، قصبات، دیہات، اوورسیزپاکستانیوں کی جانب سے جب محبت بھرے میسج، ای میلز، پیغامات آتے ہیں تو یہی احساس ہوتا ہے کہ اللہ ہی ہے جو ہم جیسوں کا بھرم رکھتا ہے، اسی نے عزت دی اور وہی ان شااللہ آگے بھی سرخرو رکھے گا۔ اس سفر میں چند ایک سبق سیکھے، نوجوان کالم نگاروں کے لئے انہیں بیان کر رہا ہوں، ممکن ہے انہیں اس سے فائدہ ہو۔

ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ صحافت میں کسی مینٹور (Mentor)یعنی مرشد، گرو ڈھونڈنے کے بجائے خود محنت کی جائے۔ اچھے کالم پڑھے جائیں، ان سے سیکھا جائے۔ جتنا مطالعہ ہوگا، اتنا ہی فائدہ ملے گا۔

کالم ٹی ٹوئنٹی نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ ہے:

کالم لکھنا شروع کیا تو کچھ ہی عرصے بعد اندازہ ہوگیا کہ یہ لمبی اننگ والا معاملہ ہے۔ کرکٹ کی اصطلاح میں ٹی ٹین لیگ یا ٹی ٹوئنٹی نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ ہے۔ وہ بھی پرانے زمانے کا جب تین تین دن بیٹنگ کرنے والے بلے باز ہی کو بڑا تصور کیا جاتا تھا۔ اب یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہوچکا ہے۔اسی اور نوے کے عشرے میںدو اخبار ہی اہم تھے، جنگ اور نوائے وقت۔ پہلے مشرق بھی بڑا اخبار تھا، مگر سرکاری ہونے کی وجہ سے وہ ایک طرح سے مقابلہ میں نہیں تھا۔ جنگ اور نوائے وقت کے کالم نگار بہت جلد اپنی پہچان بنالیتے۔ 1990ء میں خلیج کی جنگ سے کچھ پہلے روزنامہ پاکستان آیا۔ چند ایک نئے کالم نگارمشہور ہوئے جو پہلے سے لکھ رہے تھے، مگر انہیں دونوں بڑے اخبارات میں موقع نہیں ملا تھا۔ بعد میں روزنامہ خبریں بھی آ گیا۔خبریں نے بھی اپنا حصہ ڈالا، مگر پھر بھی 2002ء تک یہی صورتحال تھی کہ جنگ اور نوائے وقت کے کالم نگار ہی اہم تصور ہوتے۔ اس کے بعد روزنامہ ایکسپریس پنجاب اور خیبر پختون خوا (سرحد) سے شروع ہوا اورقارئین کا ایک بڑا حلقہ اس جانب متوجہ ہوا۔ ایکسپریس کا ادارتی صفحہ ابتدا میں کمزور تھا، چار سال کے بعد اچانک ہی ایکسپریس نے جنگ، نوائے وقت سے چار پانچ بڑے ناموں کو لیا اور ایک جھٹکے سے ایکسپریس کا قد خاصا بلند ہوگیا۔ عباس اطہر، عبدالقادر حسن، جاوید چودھری، ہارون الرشید، زاہدہ حنا اور بعد میں اوریامقبول جان بھی ایکسپریس کا حصہ بنے۔ چند سال بعد روزنامہ دنیا شائع ہوا اور اس کے پانچ سال بعد نائنٹی ٹو نیوز۔

اس وقت یہ صورتحال ہے کہ جنگ، نوائے وقت، ایکسپریس، دنیا،92نیوز پانچ بڑے اخبار موجود ہیں۔ پہلے دنیا اور پھر نائنٹی ٹو نیوز نے بڑے کالم نگاروں کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ کالم نگاروں کے حوالے سے نوائے وقت اور ایکسپریس کا معاملہ کمزور ہوا، مگر بہرحال وہاں بھی اچھا لکھنے والے موجود ہیں۔جس طرح پی ٹی وی کے زمانے میں ایک ڈرامے سے اداکار ہٹ ہو جاتے تھے۔آج کل کئی انٹرٹینمنٹ چینلز ہیں اور بہت سے اداکار برسوں سے کام کرنے اورہٹ ڈرامے دینے کے باوجود ملک گیر شہرت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہی حال کالم نگاروں کا ہے۔ ان پانچ بڑے اخبارات کے علاوہ نئی بات، پاکستان، خبریں، جہان پاکستان وغیرہ موجود ہیں۔ کے پی میں مشرق اور آج بھی بڑے اخبار ہیں۔ کوئٹہ میں بھی مشرق موجود ہے۔ کراچی کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے، وہاں پنجاب سے جانے والے اخبار زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ وہاں جنگ، ایکسپریس اور امت بڑے اخبار ہیں،جبکہ جرات وغیرہ موجود ہیں۔ ان تمام اخبارات سے درجنوں کالم نگار منسلک ہیں۔ ایک اخبار میں کم سے کم بھی آٹھ دس کالم روز شائع ہوتے ہیں۔ نمایاں کالم نگاروں کی تعداد بھی تیس چالیس سے کم نہیں جبکہ مجموعی طور پر یہ سو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہوں گے۔ ان میں سے چند ایک تیس چالیس سال سے لکھ رہے ہیں، مگر دس پندرہ بیس برسوں سے لکھنے والے بھی بہت سے ہیں۔ ان تمام بڑے چھوٹے ستاروں میں کسی نئے کالم لکھنے والے کے لئے جگہ بنانا آسان نہیں۔ ناممکن بھی نہیں، مگر محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ لکھنا ہوگا، تب ہی کامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔ شروع کے کئی ماہ توصرف نام رجسٹرڈ ہونے میں لگ جاتے ہیں۔ قاری کچھ عرصے بعد ہی لفٹ کراتا ہے۔

عام طور پر لوگ کالم لکھنا شروع کرتے ہیں، دو چار کے بعد حسب منشا ردعمل نہ پا کر مایوس ہوجاتے ہیں۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، مستقل مزاجی سے لکھتے رہیے، آپ کو اپنا حصہ اور حق ضرور ملے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ابھی صحافت میں نہیں آیا تھا، ایک دن ملک کے ایک معروف کالم نگار کوخط لکھا۔ اس خط میں بڑے لمبے چوڑے دعوے کیے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ مجھے کالم لکھنے کا موقع ملے تو تین ماہ میں یہ کر دوں گا، وہ کر دوں گا وغیرہ۔ کئی برس بعد کالم لکھنے شروع کیے تو اندازہ ہوا کہ ابتدائی تین ماہ میں تو قاری آپ کے نام اور لوگو سے بمشکل مانوس ہوپاتا ہے، ریڈرشپ تو بعد میں کہیں بن پاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور پہلو لکھنا شروع کرنے کے بعد سامنے آیا۔ ابتدا میں ایک کالم میں کئی آئیڈیاز استعمال کر دیتا۔ پھر سمجھ آئی کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے، ہر اوور میں چھکوں کی بارش کی ضرورت نہیں۔ بعدمیں کئی بار کوئی واقعہ لکھ کر آخری مرحلے پر ایڈٹ کر دیتا کہ پھر کبھی اس پر لکھوں گا۔

پائیلو کوہیلو کے ناول الکیمسٹ کی کہانی درست لگتی ہے کہ جب کوئی اپنے مشن کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، کائنات کی قوتیں اس کی مدد کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں۔

یہاں اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑتا ہے:

فیس بک پر مجھے اکثر بیشتر نوجوان لکھنے والوں کی جانب سے ای میل یا ان باکس میسج ملتا رہتا ہے کہ آپ کا شاگرد بننا چاہتے ہیں، آپ ہماری رہنمائی کریں، ہماری تحریروں کی اصلاح کریں وغیرہ وغیرہ۔ بھائی سچی بات یہ ہے کہ کالم نگار ی میں اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس میںاستاد شاگرد والا روایتی معاملہ نہیں چلتا۔ یہ شاعری نہیں جس کی اصلاح کی جائے۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں، خاص کر پروفیشنل اخبارنویس غریب آٹھ گھنٹے کی ملازمت کرے (زیادہ تر اخبارات میں آٹھ گھنٹے لازمی گزارنے پڑتے ہیں، چاہے کام جلدختم ہوجائے۔) اپنے کالم کی بھی فکر کرے اور پھر شاگردوں کی اصلاح بھی کرے۔ ظاہر ہے یہ ممکن نہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ صحافت میں کسی مینٹور (Mentor)یعنی مرشد، گرو ڈھونڈنے کے بجائے خود محنت کی جائے۔ اچھے کالم پڑھے جائیں، ان سے سیکھا جائے۔ جتنا مطالعہ ہوگا، اتنا ہی فائدہ ملے گا۔ اگر کسی سے مدد لینی ہے تو قریبی حلقے میں کوئی پڑھا لکھا استاد یا اچھا قاری زیادہ معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کے پاس وقت ہو اور وہ نئے لکھنے والے کو دیانت داری سے اپنا فیڈ بیک دے سکے۔

اپنا سپورٹ سسٹم ضرور بنائیں:

اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں، فوکس ہوکر محنت کریں۔ اس کے ساتھ مگر اپنا سپورٹ سسٹم ضرور بنائیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر کیسز میں کالم نگاری ایک پیکیج ڈیل ہوتی ہے۔ نام ایک ہی کا مشہور ہوتا ہے، مگر اس کے آس پاس کئی لوگ مدد کرنے والے ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا مخلص دوست، صاحب علم بزرگ، کسی خاص حوالے سے مدد کرنے والا کوئی ریسرچر وغیرہ۔ مجھے تو اس حوالے سے پائیلو کوہیلو کے ناول الکیمسٹ کی کہانی درست لگتی ہے کہ جب کوئی اپنے مشن کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، کائنات کی قوتیں اس کی مدد کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح ہوتا ہے، مگر پہلے خود کو سنجیدہ امیدوار ثابت کرنا پڑتا ہے۔ قدرت بھی غیر ذمہ دار، ناسمجھ لوگوں کی مدد نہیں کرتی۔ یہ اسباب کی دنیا ہے، بے پناہ امکانات پیدا ہوجاتے ہیں، مگر پہلے خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ اخبار کے لیے لکھنے والوں کو چاہیے کہ اپنا کوئی حلقہ فکر بھی بنائیں، کسی ایسے فورم کا حصہ بنیں جہاں سے اسے فائدہ ہو۔ ایک طرح کا ماینڈ کنسورشیم بنانا پڑتا ہے۔

میرا تیسرا کالم شائع ہوا تھا کہ میں کوشش کرکے کونسل آف نیشنل افئیرز یعنی سی این اے کا حصہ بن گیا۔ یہ لاہور کا ایک اہم تھنک ٹینک ہے، اس زمانے میں بہت سے ممتاز لکھنے والے، دانشور، اہل فکر اس کا حصہ تھے۔ مجھے سی این اے سے بہت فائدہ پہنچا۔ اسی طرح مختلف اہل علم کی مجالس میں جاتے رہے، ان سے سیکھنے کی سعی رہی۔یہ سب سپورٹ سسٹم کا حصہ ہی ہے۔

نئی کتابوں، فلموں، رسالوں، جرائد، ریسرچ پیپرز، شاعری، موسیقی وغیرہ سے اپنے اندر کے گھڑے کو بھرتے رہیں۔ واقعات، نئے خیال، سوچ کے مختلف پہلو وغیرہ کھوجتے رہیں، جہاںکوئی نکتہ ذہن میں آئے، اسے فوری نوٹ کر لیں۔

گھڑا جلدی خالی ہوجائے گا، اسے بھرتے رہیے:

جب کوئی نیا لکھنے والا کالم یا بلاگ لکھنا شروع کرے تو ابتدا میں کئی واقعات، دلچسپ کہانیاں ذہن میں موجود ہوتی ہیں۔ جب ہم کسی مقبول کالم نگار کی ایسی تحریر دیکھتے تو سوچتے ہیں کہ یہ کیا خاص بات ہے، ایسا تو میں بھی لکھ سکتا ہوں۔ ہم بھی ایسا سوچتے تھے۔ جب آپ لکھنے لگتے ہیں تو کچھ عرصے کے بعد واقعات ختم ہونے لگتے ہیں۔ جب ہفتے میں دو تین کالم لکھے جائیں تو چند ہی ماہ کے بعد آدمی سوچنے لگتا ہے کہ آج کیا لکھا جائے۔ وجہ وہی ہے کہ اپنے اندر کا گھڑا آخر ختم ہی ہوجاتا ہے۔ اسے مسلسل بھرنا پڑتا ہے۔ نئی کتابوں، فلموں، رسالوں، جرائد، ریسرچ پیپرز، شاعری، موسیقی وغیرہ سے اپنے اندر کے گھڑے کو بھرتے رہیں۔ واقعات، نئے خیال، سوچ کے مختلف پہلو وغیرہ کھوجتے رہیں، جہاںکوئی نکتہ ذہن میں آئے، اسے فوری نوٹ کر لیں۔ خیال کو باندھ کر رکھنا پڑتا ہے، بہت بار خیال بجلی کے کوندے کی طرح لپک کر آتا ہے اور چند سکینڈز بعد غائب ہوگیا۔ شاعروں کو اس کا بہت تجربہ ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت سے شاعر سرہانے کاپی پینسل لے کر سوتے ہیں، جہاں نیا مصرع ذہن میں آیا، فٹ سے لکھ لیا۔ آج کل موبائل کی وجہ سے بڑی سہولت ہوگئی ہے۔ آسانی سے اپنے پوائنٹس نوٹ کئے جا سکتے ہیں۔

سب سے اہم تازہ مطالعہ ہے۔ متنوع قسم کا مسلسل مطالعہ ضروری ہے۔ اخبارات پڑھنے اہم ہیں، مگر یاد رکھیے کہ سوچ میں گہرائی اور پختگی کتابوں سے آتی ہے۔ اہل علم کی مجالس میں شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ کسی سکالر کے ساتھ گھنٹے دو گھنٹے کی نشست کئی کتابوں سے زیادہ فائدہ دے سکتی ہے۔ اہم نکتہ یہی کہ اپنے اندر کا گھڑا بھرتے رہیں، یہ سب تخلیق کی صورت میں باہر آئے گا۔ مشہور ادیب ہمینگوئے کی بات ایک بار پڑھی۔ نہایت خوبصورت نکتہ اس نے بیان کیا۔ کہتا ہے کہ ناول، ڈرامہ، افسانے میں جو کچھ بیان ہوتا ہے، وہ کسی آئس برگ(سمندرکے پانیوں میں چھپے برف کے پہاڑ)کی صرف نوک ہوتی ہے۔ آئس برگ آپ کا بیک گرائونڈ نالج ہے۔ جس کا بیک گرائونڈنالج یعنی آئس برگ جتنا بڑا ہے، اتنا ہی اس کی تحریر زیادہ بھرپور اور دلچسپ ہوگی۔ یہ بیک گرائونڈ نالج مطالعہ ہی سے بن سکتا ہے۔ اگر اب تک کی عمر مطالعہ میں نہیں گزاری تو سمجھ لیں کہ آپ کی محنت دوگنی ہوگئی۔ آج ہی شروع کر دیں۔

آپ باقاعدہ صحافی ہیں یا پھر صرف کالم لکھنے تک محدود ہیں، دونوں صورتوں میں صحافی کمیونٹی سے کچھ زیادہ بھلے یا ہمدردی کی امید نہ رکھیں۔ دنیا کی چند سفاک ترین برادریوں میں سے ایک صحافتی برادری ہے۔

صحافتی برادری سے ستائش کی توقع نہ رکھیں:

آپ باقاعدہ صحافی ہیں یا پھر صرف کالم لکھنے تک محدود ہیں، دونوں صورتوں میں صحافی کمیونٹی سے کچھ زیادہ بھلے یا ہمدردی کی امید نہ رکھیں۔ دنیا کی چند سفاک ترین برادریوں میں سے ایک صحافتی برادری ہے۔ دراصل صحافیوں کی عمومی تربیت دوسروں کی غلطیاں پکڑنے، نقائص تلاش کرنے اور منفی پہلوئوں کو اجاگر کرنے کی ہے۔ ان کے نزدیک کتے کا انسان کو کاٹنا خبرنہیں، انسان کا کتے کو کاٹنا خبر ہے۔ کوئی مثبت یا خیر کا کام ایک بور، بوگس خبر ہے جبکہ کہیں پرسنسنی خیز، منفی سکینڈل مل جائے تو چاندی ہوجائے گی۔ صحافی فطرتاً شکی مزاج بھی ہیں۔ چیزوں کی حقیقت کو ہمیشہ شکی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ داد دینا، تعریف کرنا انہوں نے سیکھا نہیں۔ موقع پرست، چاپلوس صحافیوں کی بات نہیں کر رہا۔ وہ اس فن کے ماہر ہیں، مگر ظاہر ہے وہاں اسے استعمال کرتے ہیں جہاں سے مالی مفاد بٹور سکیں۔

میں نے کالم لکھنا شروع کیا تو بڑی حیرت ہوتی کہ آس پاس کے لوگ بھی یوں تاثر دیتے جیسے انہیں پتا ہی نہیں کہ میں بھی کالم نگار بن گیا ہوں۔ پریس کلب جاتا تو ایسے لوگ بھی سپاٹ چہرے کے ساتھ ملتے، جن کے بارے میں بعد میں پتا چلتا کہ وہ لائبریری میں بیٹھ کر میرا کالم پڑھتے اور اس پر تند وتیز تبصرے کرتے ہیں۔ ملنے پر وہ یہ تاثر دیتے کہ کبھی خواب میں بھی میرا کالم نہیں دیکھا۔ دوسروں کی تو چھوڑئیے، میں میگزین انچارج تھا، ایک صاحب میری ٹیم میں شامل تھے، چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھتے، کئی بار انہیں ادارتی صفحہ کھول کر پڑھتے دیکھا، مگر کبھی پھوٹے منہ سے بھی میرے کالم کی تعریف تو دور کی بات ہے، کوئی تنقیدی تبصرہ بھی نہیں کیا۔ اس طرح کا رویہ تکلیف دیتا ہے، مگر پھر عادت ہوگئی۔

لیفٹ کے ایک معروف کالم نگار نے ایک بار اپنے کالم میں میرا نام لے کر تعریف کر ڈالی۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ کراچی سے تعلق رکھنے والا کالم نگار ہے۔ وہ صاحب روزانہ دفتر آیا کرتے تھے۔ اگلے روز ادارتی صفحہ کے انچارج نے انہیں بتایا کہ جس نوجوان کا آپ نے ذکر کیا، وہ اسی اخبار میں میگزین انچارج ہے، کہیں تو آپ سے ملوائوں۔ وہ بزرگ صحافی یہ سن کر ناخوش ہوئے، کہنے لگے کہ میں تو سمجھا تھا کہ اس کا تعلق کراچی سے ہے اور کوئی سینئر آدمی ہے،مگر تصویر جوانی کی دے رکھی ہے۔ خیر انہوں نے ملنے کی زحمت بھی نہ کی اور اس کے بعد کبھی بھول کر بھی ذکر نہ کیا۔ اچھی مثالیں بہرحال ہیں، سینئرز میں منو بھائی، ہارون الرشیدصاحب، مجیب الرحمن شامی صاحب، سجاد میر وغیرہ نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ ارشاد عارف صاحب اس سے پہلے مجھے سی این اے کا حصہ بناچکے تھے، جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اس سب کی تفصیل اپنی پہلی کتاب ’’زنگار‘‘ کے دیباچے میں لکھ چکا ہوں۔ نئے لکھنے والوں کو بہرحال ہر قسم کے ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

لفظ نہیں خیال اہم ہے:

اخبارات اور سوشل میڈیا پرنیا لکھنے والوں کو اکثر لفظوں کے سحر میں گرفتار پایا۔ وہ اپنی تحریر میں مشکل، رنگین نثر لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اندازہ کیے بغیر کہ اس سے ان کا ابلاغ کم ہوگا۔ ابتدا میں ہم نے بھی مختلف تجربات کیے، پھر یہ بات سمجھ آئی کہ آخری تجزیے میں اہمیت خیال کی ہے۔ وہی زندہ رہتا اور دلوں کو مسخر کرتا ہے۔ تحریر میں بے شمار الفاظ پھینک دینے کے بجائے مربوط خیال اہم ہے، اس پر توجہ دیں۔ بسا اوقات انشاپردازی کے چکر میں ہم خیال کا تعاقب نہیں کرپاتے اور لفظوں کی گھمن گھیریوں میں ابلاغ کہیں کھو دیتا ہے۔ میرا مشورہ تویہی ہے کہ رواں نثر لکھیں اور اس میں جو کہنا چاہتے ہیں اسے مدلل اور مربوط انداز میں بیان کریں۔ یہ زیادہ اہم ہے۔ زبان اہم ہے، مگر اس میں الجھ کر نہ رہ جائیں۔ ایسے بہت سے صاحب علم لکھاری دیکھے جو زبان دانی کے چکر میں اچھے، مقبول کالم نگار نہیں بن سکے۔ چند ایک قابل احترام مستثنیات البتہ موجود ہیں جو فسوں ساز نثر لکھتے ہیں اور ان کی مقبولیت میں کلام نہیں۔ یہ مشکل کام ہے، ہر کوئی نہیں نبھاسکتا۔ جو کر سکتا ہے، وہ ضرور کرے، مگر نئے لکھنے والے محفوظ کھیلیں۔ نئے آئیڈیاز سوچیں اور انہیں اچھے طریقے سے بیان کریں۔ مایوسی نہیں ہوگی۔

بہت بار غیر سیاسی، ہلکے پھلکے کالموںکی عوامی پزیرائی زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے اکثر دیکھا کہ جب کتابوں، فلموں، موٹی ویشنل موضوع پر لکھا تو بہت زیادہ رسپانس آیا۔ اس کے باوجود میرا مشورہ ہے کہ سیاست کو اپنے لیے شجر ممنوع نہ بنائیں۔

آپ سیاست سے گریز نہیں کرسکتے:

سیاست ہمارے ہاں بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ سوسائٹی بھی پولیٹکلائز ہوچکی اور ٹی وی چینلز پر بھی ہر جگہ کرنٹ افیئرز ہی ڈسکس ہوتے ہیں۔ سیاست کی اس افراط نے ایک خاص قسم کی بیزاری بھی پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے ردعمل میں بہت سے لوگوں نے غیر سیاسی موضوعات پر لکھنے کو اپنا شیوہ بنایا۔ خواتین کی اکثریت سیاست اور سیاسی بحثوں سے فاصلہ رکھتی ہے۔ ان کی پوسٹوں اور بلاگزمیں بھی یہی غیر سیاسی رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ بہت بار غیر سیاسی، ہلکے پھلکے کالموںکی عوامی پزیرائی زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے اکثر دیکھا کہ جب کتابوں، فلموں، موٹی ویشنل موضوع پر لکھا تو بہت زیادہ رسپانس آیا۔ اس کے باوجود میرا مشورہ ہے کہ سیاست کو اپنے لیے شجر ممنوع نہ بنائیں۔ بے شک غیر سیاسی، سماجی موضوعات پرلکھیں، اگرصلاحیت ہے تو فکاہیہ بھی لکھیں۔سیاست پر مگر لکھتے ضرور رہیں۔ سیاسی حرکیات کو سمجھنے کی کوشش کریں، سنجیدگی، باریک بینی سے سیاسی منظرنامے کو پڑھنے، سمجھنے کی کوشش کریں۔ سیاست پر لکھے بغیر آپ کا بھرپور تاثر (Impact)نہیں بن سکتا۔ اخبار کو عام قاری بھی خریدتا ہے، مگر معاشرے کے فعال طبقات (ڈاکٹر، انجینئر،آرکیٹیکٹ، بزنس مین، سافٹ ویئر ڈویلپر، ٹیچر،سرکاری ملازم، فورسز کے لوگ وغیرہ) میں اثر ونفوذ حاصل کیے بغیر کوئی اہم، نمایاں کالم نگار نہیں بن سکتا۔ اگر آپ متانت، سنجیدگی، مہارت کے ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں تو آپ کی رائے ان لوگوں کے لیے اہم تصور ہوگی۔ اس کے بغیر آپ صرف سوشل میڈیائی رائٹر ہی رہیں گے۔ آپ کو مین سٹریم میڈیا پر اہمیت نہیںملے گی، تحریر کے ذریعے آپ مالی کفالت بھی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ فکاہیہ کالم نگار بھی اگر سیاست کو اپنے طنز ومزاح کا ہدف نہ بنائے تو بہت جلد غیرمتعلق ہوجاتے ہیں۔ صرف وہی شگفتہ نگار ہی کامیاب ہوئے، جنہوں نے اپنی تحریر میں مزاح اور سیاست کا امتزاج بنایا۔ یاد رہے کہ یہ سب باتیں صرف پرنٹ میڈیا کے بارے میںلکھیں۔ ڈیجٹیل میڈیا خاص کر یوٹیوب، فیس بک کی اپنی ڈائنامکس ہیں، وہاں سماجی موضوعات پر چونکا دینے والی بات رش لے جاتی ہے۔یہ اصول وہاں کے لئے موزوں نہیں۔

سوشل میڈیائی تحریر نثری نظم کی مانند ہے:

نثری نظم اردو ادب کی ایک متنازع صنف ہے۔ ایک زمانے میں تو اسے شاعری تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ آج اسے شاعری تومان لیا گیا ہے، مگر صرف اردو نثری نظم لکھ کر آپ اپنے آپ کو بڑا تخلیق کار تسلیم نہیں کراسکتے۔ البتہ اس شاعر، تخلیق کار کے لیے رائے مختلف ہوجاتی ہے جو غزل یا اچھی نظم کہہ سکتا ہو۔ بعض بڑے نقاد کہتے ہیں کہ جو شخص اچھا شعر کہہ سکتا ہے، وہ نثری نظم ضرور کہے کہ اس کا فن اورمہارت مسلمہ ہے۔ کم وبیش یہی بات سوشل میڈیا کے بارے میں ہے۔ سوشل میڈیا پر لکھی تحریر فوری رسپانس دیتی ہے، لائکس، شیئر اور کمنٹس کی صورت میں آپ کے سامنے چند گھنٹوںمیں ردعمل آجاتا ہے۔ اخبار میں لکھے کالم کا فیڈ بیک رفتہ رفتہ آتا ہے، بہت بار اندازہ بھی نہیں ہوپاتا کہ کالم کس قدر مقبول ہوا یا کتنی دور تک سرائت کر گیا۔ بعض اوقات مگرکسی کالم کا فیڈ بیک برسوں بعد بھی موصول ہوجاتا ہے جب کسی دور دراز کے شہر کا کوئی شخص ملے اور کہے کہ مجھے آپ کافلاں کالم آج تک یاد ہے۔ سوشل میڈیا کے بعض ممتاز نام جن کے ہزاروں فالورز ہیں اور جن کی تحریر سینکڑوں شیئر لیتی ہے،و ہ موقع ملنے پر اخبار میں سکہ نہ جماسکے۔ اخبار اس اعتبار سے سلو رسکرین یعنی فلم کی مانند ہیں۔ بے شمار ایسے اداکار ہیں جنہوں نے ٹی وی پر نام کمایا، مگر فلم میں کامیاب نہ ہوسکے۔ انہیں حسرت ہی رہی کہ وہ کامیاب فلم سٹار بنیں، مگر کامیابی نہ قدم نہ چوما۔ یہی معاملہ پرنٹ میڈیا، خاص کر بڑے اخبارات کا ہے۔ ضروری نہیں کہ سوشل میڈیا کامقبول رائٹر بھی وہاں پر کامیاب ہو۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو اخبار کے لیے مختلف اندازمیں لکھنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا خاص کر فیس بک پر آپ جو جی چاہے لکھ ڈالیں، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ اخبارمیں اس گئے گزرے وقت میں بھی ایڈیٹر کا عہدہ موجود ہے۔ وہاں بہت سے سنسر ہیں۔ حکومتی پابندیاں، اداروںکی جانب سے عائدنادیدہ پابندی، میڈیا ہائوس کے اپنے مسائل اور پھر کارپوریٹ پریشر۔ آپ کے سامنے، دائیں بائیں کئی سرخ لکیریں ہیں، ان میں رہ کر ہی لکھنا ہے۔ کسی لکیر پر پائوں آ گیا تو خوفناک آواز میں بزر بج جائے گا، آپ کاسین وہیں ختم بھی ہوسکتا ہے، یعنی وہ آخری کالم بن جائے۔

اخبارات میں رہ کر آپ احتیاط سے لکھنا سیکھتے ہیں۔ بات کہنی بھی ہے اور گرفت میں بھی نہیں آنا۔ بغیر ثبوت کے کچھ کہہ نہیں سکتے۔ جھوٹا الزام لگا دیا تو اگلے روز دبائو آئے گا۔

اخبارات میں رہ کر آپ احتیاط سے لکھنا سیکھتے ہیں۔ بات کہنی بھی ہے اور گرفت میں بھی نہیں آنا۔ بغیر ثبوت کے کچھ کہہ نہیں سکتے۔ جھوٹا الزام لگا دیا تو اگلے روز دبائو آئے گا۔ سوشل میڈیا پر ابھی قوانین موجود نہیں، ممکن ہے مستقبل میں ایسا ہوجائے، تب تک لکھنے والوں کے عیش ہیں۔جو کچھ جی میں آیا لکھ ڈالا۔ مین سٹریم میڈیا میں ایسا نہیں۔ ٹی وی پر پھر بھی بہت کچھ چل رہا ہے، مگر وہاں بھی مسائل آ رہے ہیں۔ وہاں بھی کچھ بڑھ چڑھ کر بولنے سے پہلے کسی طاقت کی سپورٹ حاصل کرنا پڑتی ہے۔ آپ کی بیک پر کوئی بڑی توپ چیز ہو ورنہ وہاں بھی آگے نہیںچل سکتے۔ اخبارات میں زیادہ پابندیاں اور سنسر ہیں۔ ایک اور پہلو ہے کہ اخبار کے لیے زیادہ متانت اور وقارکے ساتھ لکھنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا تو آپ کی اپنی بیٹھک ہے، جومرضی آئے لکھ ڈالیں۔ جی میں آئے تو گاجر کے حلوہ بنانے کی ترکیب لکھ دیں۔ بہت سے لائیکس، کمنٹس مل جائیں گے، کئی لوگ شیئر بھی کر دیں گے۔ اپنے نجی معاملات پر بلاگ لکھا جا سکتا ہے۔ اخبار کا کالم مگر یوں نہیں لکھا جاتا۔ اس کا اپنا پیرامیٹر ہے، اس سے زیادہ تجاوز کرنا ممکن نہیں۔ آپ نے گاجر کے حلوے پر لکھنا ہے تو اس کے لیے باقاعدہ فضا بنانی پڑتی ہے، حلوہ جات پر پورا کالم لکھا جائے تب کہیں جاکر اس گاجر کے حلوے کا جواز بن پاتا ہے، وہ بھی کبھی کبھار۔ اس لیے جناب اگر آپ سوشل میڈیا پر کامیاب ہیں تو ضروری نہیں کہ اخبار میں بھی فاتح ٹھیریں، ا س کے لیے الگ انداز سے محنت کرنا پڑے گی۔ جب تک آپ اخبار میں اپنے آپ کو نہیںمنوا لیتے، تب تک آپ رائٹر کے طور پر اسٹیبلش نہیں ہوسکتے، چاہے فیس بک پر جتنا مرضی کامیابیاں بٹور لیں، خواہ آپ کے فالورز لاکھوںمیں ہوجائیں۔ یہ بات ممکن ہے بہت سوں کو پسند نہ آئے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */