ففتھ کالم سے ففتھ جنریشن وارفیئر تک - امجد حسین امجد

طب کی پریکٹس کی طرح جنگ کا طرز عمل بھی ایک فن ہے، اور چونکہ معالج اور سرجن کا مقصد روک تھام، علاج، یا انسانی جسم کی بیماریوں کو دور کرنا ہے، لہذا جنگ کا بھی مقصد ہونا چاہئے۔ حکمران، سیاستدان اور سپہ سالار کو چاہئے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جنگ کے اثرات کم کرنے یا ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔
حضرت انسان نے تہذیب و تمدن کے آغاز کے ساتھ ہی دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کی جبلت کے تحت جنگ و جدل کا آغاز بھی کر دیا۔ یہ غلبہ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے طا لع آزمائی کرتا رہا۔ پہلے جسمانی قوت، پھر تیر، نیزے، تلوار، گھڑ سواری، ڈھال، بارود، منجنیق، رائفل، مشین گن، توپ، گن، ٹینک، جہاز، کشتی، بحری جہاز، تارپیڈو، گولے، بارودی سرنگ، گرنیڈ، بم، ہائڈروجن بم اور فائیٹر طیارے جنگ کا فیصلہ کرتے رہے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ میزائل کی دوڑ شروع ہو گئی جو بین البر اعظم تک گئی۔ کبھی سرد جنگ شروع ہو گئی تو کبھی کولڈ سٹارٹ اسٹریٹجی، دنیا کے سات اہم ترین ملک نیوکلئیر سٹیٹ بن گئے۔

دوسری طرف قبیلے، غار اور تاریک دور سے چلتا ہوا انسان، زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب سے ہوتا ہوا، ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہوگیا۔ انسان نے چاند پر قدم رکھا۔ خلا میں پہنچ گیا، زیر زمین اور زیر سمندر ٹرین چلنے لگیں۔ میڈیکل کا فیلڈ حکیموں، طبیبوں سے ہوتا ہوا نیوکلئر میڈیسن اور کلوننگ تک پہنچ گیا۔ غرض زندگی کے مختلف شعبوں میں ارتقاء کا اثر جنگوں اور جنگی حکمت عملی پر بھی ہوا۔ پیغام رسانی کے لیے پہلے کبوتر، مخبر اور سراغ رساں لوگ تھے، پھر ٹیلیفون، وائر لیس، موبائل اور انٹر نیٹ نے جگہ لے لی۔ پہلے پروپیگنڈا کرنے کے لیے پرچے، اخبارات اور کتابوں کا سہارا لیا جاتا تھا آج کل سوشل میڈیا یہ کام بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔

سکند ر اعظم کو ذرائع مواصلات کی کمی کے باعث خود اپنی افواج کے ساتھ ساری دنیا کا چکر لگانا پڑا، آج کل سیٹلائٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی کے باعث امریکہ میں بیٹھا صدر افغانستان میں ہونے والے دھماکے کی تباہی کو لائیو دیکھ سکتا ہے۔ پہلے اجلاس یا میٹنگ بلانے کے لیے دور دراز سے لوگوں کو گاڑی، ٹرین یا جہاز سے سفر کرنا پڑتا تھا، آج کل زوم اور گوگل کے باعث اپنی لوکیشن سے ہی آپ میٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ پہلے دور میں اگر کسی ملک میں ظلم و بربریت ہوتا تو دوسرے ممالک اور علاقوں کو کافی عرصہ بعد پتہ چلتا۔ لیکن آج کل اسی لمحے اور اسی دن خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ چند ما ہ پہلے امریکہ میں ایک سیاہ فام کے بہیمانہ قتل کے نتیجے میں پو ری دنیا میں ہونے والے مظاہرے اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے زندگی کے ہر شعبے میں حیران کن تبدیلیاں کی ہیں۔ جنگ اور جنگ کی حکمت عملی بھی اس ترقی کے باعث جدید خطوط پر استوار ہے۔

اب چونکہ دنیا ایک گلوبل ولج بن چکی ہے اس لیے اطلاعات کو چھپانا مشکل ہے جبکہ غلط اطلاعات کو پھیلانا آسان ہے۔ مختلف تھنک ٹینک اور ادارے یہ کام ممالک کے لیے بزنس کی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ نفسیاتی جنگ، پرپیگنڈا وار فیئر، گوریلا جنگ، کم شدت کے تنازعات، بائیلوجیکل وار فیئر، بکتر بند جنگ، کیمیکل جنگ، روائتی جنگ، الیکٹرونک جنگ، سائبر وار فیئر، شورش کی بندش، اقتصادی جنگ، مہما تی جنگیں، پراکسی جنگ، بری، بحری، فضائی اور خلائی جنگ مختلف اوقات میں مختلف علاقوں کی نسبت سے ہوتی رہیں اور دنیا کے نقشے پر ممالک کی باونڈری لائن تبدیل ہوتی رہیں۔

پہلے ادوار میں کسی ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے وہاں فزیکل طور پر افواج کا اتارنا ضروری تھا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ کام اپنے ملک میں رہتے ہوئے سر انجام دیے جا سکتے ہیں۔ پہلے ایک ملک سے دوسرے ملک جاسوس بھیجے جاتے تھے آج کل یہ کام اینٹی سٹیٹ ایکٹر ز کو سپانسر کر کے لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے مختلف ذرائع اور این جی اوز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو مختلف بیانیوں اور نظریات میں الجھایا جاتا ہے۔ اور اس کے لیے نت نئی ٹرم بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ستمبر 2001 سے پہلے دہشت گردی کے نام پر ملکوں کی تباہی نہیں کی گئی۔

2001 کے بعد مثال کے طور پر عراق کو بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار رکھنے کی پاداش میں اور افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کے باعث تباہ کیا گیا۔ لیبیا، ایران، شام، اردن، لبنان اور مصر کو بھی مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کے الزام اور کیمیائی ہتھیاروں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ کبھی دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا تو کبھی سرجیکل سٹرائیک کی گئیں۔ کولیٹرل ڈیمیج کے باعث معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔کبھی انتھراکس تو کبھی انٹرنیٹ کے وائرس اور ہیکنگ کے ذریعے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

حالیہ کورونا کی وبا کوبھی ففتھ جنریشن وار فیئر کا حصہ قرار دیا گیا۔ 1936 میں میں جنرل فرانکو نے اسپین میں جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کی اور فوجی یورش کرکے درالحکومت میڈرڈ کا محاصرہ کر لیا۔ اس نے اعلان کیا کہ شہر کے اندر ایک گروہ اس کی مدد کر رہا ہے۔ ہرفوج میں چار حصے ہوتے ہیں۔ بحری، بری، ہوائی، اخبارات اور پروپیگنڈا۔ جنرل فرانکو نے اپنے جاسوسی گروہ کا نام پانچواں کالم رکھا۔ اب پانچواں کالم ہر اس ادارے کو کہتے ہیں جو جنگ کے وقت فوجی واقفیت فراہم کرے اور فوج کے سردار کو اطلاعات بہم پہنچائے۔ بسا اوقات کسی غدار شخص یا گروہ کو بھی ففتھ کالم کہا جا تا ہے۔ دوسری طرف ففتھ جنریشن وار فیئر جیسی اصطلاحات کا استعمال بظاہر جمہوریت اور سول حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ نظریات کی جنگ ہے۔ مختلف قومی، نظریاتی، مسلکی، فکری ایشو بیان کر کے کسی بھی قوم کو تقسیم کرنا۔ ان کے مابین ایسی نفرتیں پیدا کر دینا، جس سے کوئی خاص مسلکی، لسانی، علاقائی گروہ یا آبادی اس قدر ناخوش، بیزار، ناراض اورمحرومی کا شکار ہوجائے کہ ملکی سالمیت کی جنگ اس کے لیے اہم نہ رہے۔ پرسیپشن(ادراک) اور انفارمیشن کی اس جنگ میں کلچر اور ویلیوز پر بھی حملہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی لو کیشن اور مسلم نیوکلیر پاور ہونے کے باعث اس طرح کی جنگ کا سامنہ کر رہاہے۔ اس جنگ میں دشمن میڈیا اور نام نہاد سوشل میڈیا کا بھی بھر پور استعمال کرتا ہے اور اپنے بیانیئے کو تقویت دینے کے صاحب رائے لوگوں کو استعمال کرتا ہے۔

ففتھ جنریشن جنگ کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ذرائع ابلاغ کے بکثرت استعمال کے باعث اور حکومتی پالیسی کی کمزوریوں کے باعث سادہ لوح لوگ بھی اس میں نا جانتے ہوئے ملوث ہو جاتے ہیں اور اس میں انفارمیشن وار فیئر سے کام بھی لیتے ہیں۔ اور ملکی ساخت کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار فیئر یا ہائبرڈ وار فیئر ہمارے ملک اور فوج کے خلاف سازش ہے۔ جسے عوام کے تعاون سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبے سی پیک کے خلاف مختلف محاذ پر جاری جنگ بھی ففتھ جنریشن وار کا ایک حصہ ہے، جسے قومی سلامتی کے ادارے موثر اقدامات سے کاونٹر کر سکتے ہیں۔ عوام بغیر تصدیق کیے وڈیوز اور پوسٹ شیئر نہ کریں تاکہ دشمن کے مقاصد کی حوصلہ شکنی ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */