موٹروے واقعہ، درندگی روکنے کا واحد حل - قدسیہ ہاشمی

بات کچھ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ملک میں کچھ سالوں میں عورتوں اور بچوں بچیوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں بہت خبریں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔

خبریں لگنا اس لیے لکھا ہے کہ یہ واقعات کوئی اس صدی یا اس عشرے کی نمایاں بات نہیں بلکہ یہ واقعات برسوں سے ہورہے ہیں اور ان کا ہونا اب میڈیا میں بہت زیادہ نمایاں ہونا شروع ہو گیا۔ ہے۔ ورنہ یہی خبریں کچھ عشروں قبل کی بھی تھیں۔ فرق صرف اتنا ہےکہ تب میڈیا کو ایسی بے لگام آزادی نہیں ملی تھی۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا تب سب بکتا نہیں تھا نہ ایمان نہ ہی خبریں۔

زنا اسلامی قانون میں بہت سخت گناہ ہے اور اس کی سزا بھی سخت رکھی گئی ہے۔

زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں‌کے لیے قرآن پاک کی سورہ النور کی آیت نمبر 2 میں فرمایا گیا ہے۔
"زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔"

اللہ تعالیٰ نے زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضابطے قرآن مجید میں مسلمانوں کو بتادئیے۔ مزید رہنمائی کے لیے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا۔ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ نے تمام اصل ضابطے اور حدود ٹھیک ٹھیک مسلمانوں تک پہنچا دی تھیں۔ دورِ نبوی صلی اللہُ علیہِ وآلہ وسلم میں زانی مرد و عورت کی سزا مجرموں کے بصراحت اقرار کے بعد ان کو رجم کیا گیا۔ قانون کے مطابق سزا ہوئی۔ نہ اس وقت میڈیا کی ہیجان انگیزی تھی نہ ہی ایمان بکنے کا شائبہ تھا۔

زنا کے مرتکب ملزم یا ملزمہ نے خود اقرار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رجم کا حکم جاری کردیا جس کا ذکر سورۃ النور کی آیت نمبر دو میں واضح دیا گیا ہے۔

موجودہ دور حدیث مبارک کے مطابق فتنے کا دور ہے۔ دین سے دوری نے اذہان کو ایسے شکوک وشبہات میں ڈال دیا ہے کہ اچھے بھلے انسان کا ایمان سنی سنائی خبروں پر ڈگمگا جائے۔ یہ سنسنی خیزی یہ میڈیا پہ چیختے ہوئے باہر انسان جو اینکرز بٹھا دئیے گئے ہیں، ان سب کو اکٹھا کر کے پوچھ لیجیے شاید ہی کسی کو مکمل علم ہو کہ زنا کی سزا کیا ہے؟ حدود کیا ہیں؟؟ ان کا علم پیسے جمع کرنے تک رہ گیا ہے۔

اسلامی ریاست کیا ہے؟ ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست وہ ہوگی جہاں اسلامی قوانین نافذ کیے گئے ہوں۔ آپ ناپ تول کی کمی میں مبتلا نہ ہوں۔ حدود اللہ کا پاس رکھنے والے ہوں۔ قوم کے حکمران نیک و متقی منتخب کیے گئے ہوں۔ وہ اسلامی ریاست جہاں دوست اور دشمن کا فرق وہی جو اللہ اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح بتا دیا تھا۔ جہاں ریاست اپنے شہریوں کی جان ، مال اور عزت کی محافظ ہو۔ جہاں حضرت عمر فاروق رضیی اللہ عنہ کا رویہ قابل ستائش ہو کہ اگر فرات کے کنارے بکری بھی مر جائے تو مجھے سے پوچھ گچھ ہوگی۔

ایک ایسی اسلامی ریاست جہاں عدل و انصاف کے لیے رونا گڑگڑانا نہ پڑے۔ جہاں انصاف لینے والا خود ڈر کے مارے ملزم کو معاف نہ کر دے۔ اسلامی معاشرے کی خوبصورت ترین مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی تھی، جب دین اسلام اپنی آب و تاب سے ہر طرف جگمگا رہا تھا۔ وہ ریاست مدینہ جہاں سزاؤں کو عملاً نافذ کیا جاتا تھا۔ جہاں حکمرانوں کو کسی سپر پاورسے ڈر کا ہوٌا سوار نہیں تھا۔

جہاں پر یہودیوں کو دھکے دے کر مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ بالکل وہی مدینہ کی ریاست جہاں یہودیوں کو دوست بنانے سے منع فرمایا گیا تھا۔ اسی مدینہ کی ریاست میں سزائیں نافذ کر کے لوگوں کو باور کروایا گیا کہ اگر چوری کرنے والی عورت حضرت فاطمتہ الزہرا بھی ہوں تو ان کے والد عالی مقام حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ کاٹتے وقت نہ تختہ یاد رکھیں گے نہ ہی عہدہ۔ حالانکہ وہ دوجہانوں کے رب کی جانب سے سفارش کرنے پر بہت کچھ عنایت کیے جا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے واشگاف الفاظ میں اپنی اور دین کی حدود کھلی کھلی بتا دیں تھیں۔

اور اسی ریاست مدینہ میں جہاں عورت کو اول درجے کی عزت دی جاتی تھی۔ جہاں عورتوں کو زمانہ جاہلیت کی تمام تکلیفوں سے نجات دلا دی گئی تھی۔ ایسا ہی اسلامی معاشرہ ہمارا قانونی حق ہے۔

زنا بہت بھیانک اور ناقابل معافی جرم ہے۔ وہ سیاہ کار جو اس جرم کا ارتکاب کرے۔ اس کی سنگساری کی سزا دینا نہ صرف اس لیے قابل شرم ہے بلکہ دیکھنے والوں کے لیے باعث عبرت بن جاتی ہے۔ اور جو اور لوگ اس کے لیے دل میں رحم کا شائبہ بھی رکھتے ہوں، انھیں بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ اگر کچھ ایسا کرنے کا سوچا تو یہیں رک جائیں۔ ورنہ ایسا ہی حشر ان کا بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ کی عدالت میں تو بعد میں جائیں گے مگر زناکار کی سزا دنیا ہی میں اس لیے ایسی شدید رکھی گئی ہے تاکہ دیکھنے والے نرم روی اختیار نہ کریں۔ اس سیاہ کار کے لیے دلوں میں رحم کا جذبہ بھی نہ آنے پائے۔

اسلامی قانون میں زناکار کو پھانسی دینے کی سزا کیوں رکھی گئی؟ اس کی حکمت پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عملاً نافذ کرنا ہوگا۔ ورنہ آئے دن ان واقعات کو پڑھتے رہیں گے۔ چند دن شور اٹھے گا اور پھر وہی اپنی زندگی اپنا مرضی ہوگی۔

جن لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ سزا پھانسی ہی کیوں ہے۔ انہیں چاہیے کہ اسلامی قانون کے الف تا ی تک نہ سہی۔ کوئی الف ب ہی پڑھ لیں۔ امید ہے انھیں سمجھ آ جائے گی کہ اس سزا کے نافذ العمل سے کوئی انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے۔ جس امریکا و یورپ کے ڈر سے وہ ایسی سزائیں نافذ کرنے سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہونے لگتے ہیں، وہ کسی وقت امریکا و یورپ کی تاریخ اٹھاکر پڑھ لیں، جنھوں نے مسلمانوں اور دوسرے ریڈ انڈینز کے ساتھ کون سا سلوک تھا جو روا نہیں رکھا تھا۔ جس میں بچوں اور عورتوں کی عصمت دری اور قتل عام اول درجے پر تھا۔ یہی یورپ و امریکا جو آج نام نہاد مہذب دنیا کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں، انھیں کے لیے علامہ اقبال کہہ گئے تھے:
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

ان کو اپنا بغض اسلام نکالنے کا موقع ملنا چاہیے، اسی سے ان کا بدباطن معلوم ہوجاتا ہے۔

اسلامی معاشرہ کا قیام ہی تمام زخموں کا مرہم ہے۔ تمام دکھوں کا مداوا ہے۔ جس دن کوئی ایک بار کوئی پھانسی گھاٹ پی چڑھے گا تو اس سے بہت سے بچے بچیاں اور خواتین زندگی بھر کی اذیت سے چھٹکارا پالیں گے۔ ان شاءاللہ

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */