معرکہ (2) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
بلال نے وائلن بجانا بند کر دیا تھا۔ آندھی رک چکی تھی۔گپ اندھیرے کمرے میں آتش دان خودبخود جلنے لگا تھا۔ آگ کی سنہری روشنی میں سیاہ کپڑوں میں لپٹا ایک دبلا پتلا لیکن لمبا سا وجود سنگ مرمر کی چوکی پر بلال کے سامنے بیٹھا نظر آ رہا تھا۔اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی لیکن آگ کے دیے کی طرح روشن تھیں۔ ناک کی جگہ خالی سوراخ تھا۔ سر لمبوترا اور دانت منہ سے نکلے ہوٸے ٹیڑھے میڑھے تھے۔ وہ کسی جنگی جانور کی طرح وحشی اور چوکنا تھی۔ بلال نے اپنے پہلو میں پڑے لکڑی کے صندوق سے ایک مٹی کی گول چھوٹی سی مٹکی اور ایک چرمی تھیلی نکالی۔ مٹکی کے منہ کو کپڑے اور ریشمی ڈوری کی مدد سے بند کیا گیا تھا۔ جینی یہ دونوں چیزیں دیکھ کر بچوں کی طرح بے تاب ہو گئی۔ بلال نے مسکرا کر اسے دیکھا اور مٹکی کے منہ پر بندھی ڈوری کھول کر کپڑا ہٹا کر احتیاط سے جینی کو پیش کی۔ جینا نے اسے ندیدوں کی طرح جھپٹا اور ایک ہی سانس میں غٹاغٹ پی گئی۔۔مٹکی میں موجود آتشی سیال پی کر جینی جیسے سرور میں آ گئی. اس نے بال بکھیرے اور سر ہلا ہلا کر نعرے لگانے لگی۔بلال نے چرمی تھیلی کو ہلا کر اسے متوجہ کیا تو اس نے چونک کر بلال کے ہاتھ سے تھیلی چھین لی اور اسے بےتابی سے کھولنے لگی۔ تھیلی میں ایک مخصوص ساخت کے پتھر تھے جن پر کسی نامانوس زبان میں کوئی عبارت اور لکیریں کھینچی گئی تھیں۔یہ پتھر جینا کی دنیا میں کرنسی کی سی اہیمت رکھتے تھے۔ پتھروں سے بھری تھیلی پا کر جینا کی مسرت میں بے پایاں اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ قلقاریاں مارتے ہوٸے انھیں نکال نکال کر دیکھ رہی تھی۔

بلاشبہ میرا آقا، سخاوت کا بادشاہ ہے۔۔۔ خداوند ابلیس تمھاری خوشحالی سلامت رکھے۔
جینا اپنی غیر انسانی آواز میں چہکی۔بلال نے متانت سے سر ہلایا۔

اپنے احسان خود اتارنے پڑتے ہیں جینا۔۔۔ابلیس اعظم کو زحمت نہ دو۔
جینا کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔۔چیختی ہوٸی غیر انسانی ہنسی۔
حکم کرو میرے آقا۔۔لونڈی حکم بجا لائے گی۔۔

بلال نے اپنی ڈیجیٹل دوربین سے کھینچی گئی کچھ تصویریں جینا کو دکھائیں۔۔۔

یہ گڑیا ادھر رہتی ہے پارک کی دوسری طرف۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم اس کا اور اس کے گھر والوں کا جینا اجیرن کردو۔۔۔انھیں اتنا تنگ کر دو کہ یہ مجبور ہو کر میرے پاس چلیں آئیں۔۔۔

جینا پر ایک دفعہ پھر ہنسی کا دورہ پڑا۔ ہنستے ہنستے اس نے اپنے بال کھولے اور اپنا سر آگے پیچھے جھٹک کر کچھ بڑبڑانے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے لمبے پتلے نمایاں نسوں اور بڑے بڑے ناخنوں والے ہاتھوں کو بھی فضا میں لہرا رہی تھی۔

ہو جاٸے گا میرے آقا۔۔۔ہو جائے گا۔۔۔ لیکن کام مکمل ہونے پر مجھے ابلیس اعظم کی بھینٹ چڑھانے کے لیے دو بندروں اور دو پرندوں کی قربانی بھی چاہیے۔۔۔

جینا نے گردن موڑ کر پنجرے میں قید الو کو خونی نظروں سے دیکھا۔

تمھارا لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا جینا۔۔جاٶ کام مکمل کرو۔۔تم جو مانگو گی تمھیں ملے گا۔
بلال نےناگواری سے کہا۔

جینا نے ایک نعرہ بلند کیا اور رقص کرتی ہوٸی آتش دان کی آگ میں غائب ہو گئی. اس کے ساتھ ہی آتش دان بھی بجھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثقلین چھوٹا سا تھا کہ جادو ٹونے اور عاملوں کے چکر میں پڑ گیا تھا۔ جنتر منتر سیکھتا قبرستانوں اور ویرانوں میں چلے کرتا ہوا وہ شیطان کی راہ پر چلنے لگا تھا۔ عیاری، مکاری اور چالاکی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ دھوکا باز، سنگ دل، جھوٹا اور بدفطرت شخص تھا۔ لالچ نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ عفرش سے ملے سونے کی مالیت کروڑوں میں تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے کام کی مد میں اسے مسلسل منہ مانگے وسائل دینے کا وعدہ کیا تھا۔ عفرش نے شہر کے مرکز میں ایک عمارت کرایہ پر حاصل کی اور اسے شاندار انداز میں فرنشڈ کروایا۔۔اس کے بعد اس نے اخبارات میں اشتہار دینے شروع کر دیے۔۔۔

انتہائی خوبصورت، ذہین، اعلی تعلیم یافتہ، بااعتماد اور منزل کے حصول کے لیے سب کچھ کرنے پر آمادہ خواتین سٹاف کی ضرورت ہے۔ کسی شعبے میں مہارت اور تجربہ غیر ضروری ہے۔۔۔ابتدائی تنخواہ چھ ہندسوں پر مشتمل ہوگی۔۔انٹرویو کے وقت کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔۔۔

اخبار میں دوسرا اشتہار مرکزی مسجدوں میں خطیب کی خدمات انجام دیتے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے علمائے کرام کے لیے تھا جو معقول معاوضے کے عوض تصنیف و تحقیق کے لیے اپنی خدمات وقف کرنے پر آمادہ ہوں۔

اخبارات میں اشتہارات چھپتے ہی اسے خواتین امیدواروں کی کالیں آنا شروع ہو گئیں۔۔ثقلین جانتا تھا کہ اس معاشرے میں اسے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق لڑکیوں کا حصول آسان نہیں ہے لیکن بے روزگاری اور دگرگوں معاشی حالات کے پیش نظر وہ پرامید تھا کہ اس کا کام بن جاٸے گا۔ اگلے چند ہفتوں میں ثقلین نے اپنے نئے آفس میں درجنوں لڑکیوں کے انٹرویو کیے۔ معمولی شکل صورت اور اعتماد کی کمی کا شکار لڑکیوں کو وہ پہلی نظر میں ہی مسترد کر دیتا تھا۔۔۔ جو لڑکی اسے پسند آتی وہ مشکوک جاب ریکوٸرمنٹ اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے جاب سے انکار کر دیتی۔۔۔ لیکن کافی تگ دو اور چھ ہفتوں کی محنت کے بعد ثقلین ایسی تین لڑکیوں کو جاب پر آمادہ کر پایا جو اپنے گھر کے حالات کی وجہ سے لاکھوں کی نوکری پانے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگانے پر بھی آمادہ تھیں۔۔۔ ایک کو بیمار باپ کے آپریشن کے لیے لاکھوں روپے چاہیے تھے اور ایک کو اپنی اور اپنی بوڑھی ہوتی بہنوں کے جہیز کا سامان بنانے کے لیے رقم کی ضرورت تھی جب کہ تیسری یتیم لڑکی کے گھر میں اس کے چھ دیگر چھوٹے بہن بھاٸی اور والدہ فاقہ کشی کا شکار تھے اور روز مالک مکان سامان باہر پھینک کر گھر خالی کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔۔۔

ہمیں کرنا کیا ہو گا سر۔۔۔؟

روبینہ نے پوچھا۔ وہ شہد ملے آٹے جیسی رنگت والی بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی تھی۔ جب وہ پہلے دن انٹرویو کے لیے آٸی تھی۔ اس کے کپڑوں کا رنگ اڑا ہوا تھا لیکن آج وہ کافی مہنگے برانڈ کے سوٹ میں کافی پر اعتماد نظر آتی تھی۔ آج ان تینوں لڑکیوں کا ثقلین کے آفس میں پہلا دن تھا۔ ثقلین نے جدید تراش کی داڑھی رکھ لی تھی اور پینٹ کوٹ میں وہ کافی معقول انسان نظر آ رہا تھا۔ زیرہ سائز کی نظر کی عینک اور مصنوعی نام حامد خان کے ساتھ اب وہ ایک بدلا ہوا انسان تھا۔

جیسا کہ میں نے تم تینوں کو پہلے بتایا تھا کہ اس نوکری کے حصول کی پہلی شرط رازداری ہے۔ تمھیں یہ راز اپنے سینے میں دفن کرنے ہوں گے۔ اگر تم لوگوں نے غلطی سے بھی انھیں منہ سے آزاد کرنے کی غلطی کی تو یہ پلٹ کر تمھیں ڈس کر مار دیں گے۔

اینڈرسٹینڈ۔۔۔؟
یس سر۔۔۔
تینوں لڑکیاں بیک وقت بولیں۔

گڈ۔۔۔یہ نہ سمجھنا کہ میں تم لوگوں سے کوئی غیر قانونی کام کروانا چاہتا ہوں۔ تم جو کرو گی یہ وطن کی ہی خدمت ہوگی۔۔۔ میرا تعلق ایک ایسے خفیہ ادارے سے ہے جو ملک کی سرحدوں کے اندر دشمن کے پھیلاٸے ہوٸے جال اور سازشیں ڈھونڈ کر ان کا قلع قمع کرتا ہے۔ ہمیں تین بڑے فلاحی اداروں کے بارے میں کافی عرصے سے کچھ منفی خبریں مل رہیں تھیں۔۔۔ ہم نے ان کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔اس سلسلے میں تم تینوں میری مدد کرو گی۔

ثقلین نے باری باری تینوں کو دیکھا۔
لیکن یہ کیسے ہو گا سر۔۔؟

عالیہ نے پوچھا۔۔وہ شولڈر کٹ والی ایک قدرے چھوٹے قد کی خوبصورت لڑکی تھی۔

اس کے لیے میں تم تینوں کو ہر ادارے کے مرکزی دفتر میں جاب دلواٶں گا۔۔وہاں تمھیں ادارے کے سربراہ کا اعتماد اور قرب حاصل کرنا ہوگا۔۔۔ چاہے اس کے لیے تمھیں جو بھی راستہ اختیار کرنا پڑے۔۔۔وہاں تم لوگ میری آنکھیں اور کان بن کر رہو گی۔۔اینڈرسٹینڈ۔۔۔۔؟

یس سر۔۔۔

او کے۔۔ اب اپنے کرسیوں پر جاٶ۔ جب تک تمھاری جابز نہیں ہوجاتیں تب تک تم لوگ کمپوٹر پر میرے لیے کچھ سوشل ایشوز پر ریسرچ کا ڈیٹا اکتھا کروگی۔۔۔ تم لوگوں کے پراجیکٹ کی تفصیلات آپ لوگوں کی ٹیبلز پر ایک فاٸل میں رکھ دی گئی ہیں۔

ثقلین نے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے پانچ بااثر لیکن لالچی اور بدکردار علماء کو ہائر کر لیا تھا۔ ان کو بھی بڑی محنت اور تلاش کے بعد بھاری معاوضے پر حاصل کیا گیا تھا۔ وہ پانچوں ایک دوسرے سے لاعلم تھے۔ ثقلین نے باری باری سب سے ملاقات کی۔ وہ ہر ایک فرقے کے عالم کو اسی فرقے کے کٹر اور شدت پسند پیروکار کے طور پر ملا۔ اس نے ہر عالم کی اپنے فرقے کے لیے خدمات کو سراہا اور دیگر فرقوں کے خلاف تحریر و تقریر کا مواد پیدا کرنے اور پھیلانے کے لیے بھاری معاوضے کی پیشکش کی۔۔ ثقلین نے سب علماء کو قائل کیا کہ وہ اپنے جمعے کے خطبات میں مخالف فرقوں کو ٹھیک ٹھاک رگڑا لگاٸیں۔۔تا کہ ملک میں کافروں (مخالف فرقوں) کو سر اٹھانے کی جرات نہ ہو۔۔۔ ثقلین نے آخری ملاقات قادیانی مذہب کے ایک عالم سے بطور احمدی پیروکار کے کی۔۔۔ اور اسے اپنے مذہب کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لیے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔۔۔اور مذکورہ عالم کو سوشل میڈیا پر اپنی ٹیم تیار کرنے کے لیے وسائل مہیا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی اکبر کے والد ایک مشہور معروف اور قابل حکیم تھے۔ وہ ایک نیک ،ایماندار اور قناعت پسند شخص تھے۔ علی اکبر اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک فری لانسر سافٹ ویر انجینئر تھا۔ والد کی وفات کے بعد اسے حکمت سے بھی شغف پیدا ہوگیا تھا۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ چھوٹے سے مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد اس نے تھوڑی دیر قرآن کی تلاوت کی اور پھر گھر آ کر اس نے والدہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور ان کی دست بوسی کی۔

مجھے کچھ جڑی بوٹیوں کی تلاش کے لیے دریا کی طرف جانا ہے۔۔۔اسی بہانے سیر بھی ہوجائے گی۔۔۔
اس نے ماں کو اجازت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بتایا۔

ابھی وہ اپنی بائک گلی میں نکال ہی رہا تھا کہ اس نے ساتھ والے گھر کی ِکرن کو دیکھا۔ جو غالباً ان کا مین گیٹ کھلنے کی آواز سن کر اسے دیکھنے دروازے پر آ گئی تھی اور اب اسے اپنے دروازے سے سر نکال کر بے باکی سے دیکھ رہی تھی۔ علی اکبر نے گھبرا کر داٸیں باٸیں دیکھا۔ شکر ہے گلی خالی تھی۔
کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟
اس نے کرن کو خود کو مسلسل گھورتے پا کر کنفیوز ہو کر پوچھا۔

” امی بلا رہیں ہیں تھمیں۔۔شاید کوئی چیز منگوانی ہے۔۔۔

علی نے موٹر بائک کو سٹینڈ پر کھڑا کیا اور کرن کے پیچھے اس کے گھر میں داخل ہوا۔ اس کے دروازے سے اندر ہوتے ہی کرن نے دروازہ بند کر کے اسے اپنے بازٶں میں بھینچ لیا اور پٹاخ پٹاخ اس کے گالوں پر بوسے دیے۔۔۔ علی اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ بری طرح بوکھلا گیا۔ اس نے بمشکل کرن کے نرم وجود کو خود سے دور کیا۔ علی اب گھبرائی نظروں سے اندر کی جانب دیکھ رہا تھا وہ گھر کی دیوڑھی میں کھڑے تھے۔

”ڈرو نہیں ڈرپوک۔۔۔۔سب سوئے ہوئے ہیں۔

کرن ہنسی۔ وہ کھلی ڈھلی اور بے باک لڑکی تھی۔ کرن بچپن سے ہی علی کی محبت میں گرفتار تھی۔ علی بھی اسے دل ہی دل میں پسند کرتا تھا لیکن جب سے اس کا میلان عبادت کی طرف بڑھا تھا۔ اس نے خود کو ان معاملات سے دور کر لیا تھا۔

تمھیں شرم نہیں آتی؟
علی نے رومال سے اپنے گال رگڑے جو شرم سے لال ہو رہے تھے۔
بلکل نہیں۔۔۔

اگر کوئی دیکھ لیتا تو قیامت آ جاتی۔۔۔آیندہ تم نے ایسی حرکت کی تو میں تمھاری امی کو بتاٶں گا۔
علی غصے سے پھنکارا۔ کرن کا چہرہ بجھ گیا۔

آیندہ سے کیوں ابھی کیوں نہیں؟؟۔۔۔ ابھی جا کر بتاٶ نا۔۔۔اگر ہمت ہے تو۔۔۔بزدل کہیں کا۔

کرن پیر پٹختی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی اور علی بائک لیکر شہر سے باہر دریا کے کنارے کی طرف آگیا۔ اپنی مطلوبہ بوٹیاں ڈھونڈتا ہوا وہ جنگل کے کافی اندر تک چلا آیا تھا۔۔ آہٹ پا کر اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے خواب والے دراز قد بزرگ نظر آٸے۔ سفید عمامہ و لباس،سفید بال اور داڑھی میں ان کا چہرہ ہمیشہ کی نرم اور پرسکون نظر آ رہا تھا۔ انھوں نے مسکرا کر علی اکبر کو دیکھا۔ علی دوڑ کر ان کے قریب پہنچا اور جھک کر ان کی دست بوسی کی۔ بزرگ نے بے اختیار علی کو گلے سے لگا لیا۔

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کر کے کہنے لگی: جلدی آٶ۔ انھوں نے کہا خدا پناہ میں رکھے۔ وہ تو میرے آقا ہیں۔ انھوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے۔بے شک ظالم لوگ فلاح نہیں پاٸیں گے۔
(ترجمہ سورة یوسف آیت23)

دیکھو بیٹا، عورت کے حسن اور مکر سے بچنا بڑی ہمت کے کام ہیں اور اللہ کی بخشی ہوٸی توفیق اور ہمت کے بغیر بہت مشکل بھی۔۔۔لیکن جو اس امتحان میں پورا اترتا ہے اس کا انعام بھی بہت بڑا ہے۔
بزرگ نے ایک لمحہ رک کر علی کا چہرہ دیکھا اور مسکرائے۔

بات دراصل یہ ہے کہ انسان کا صراط مستقیم پر چلنا اور اپنے رب سے قرب شیطان کو گوارا نہیں ہے۔ وہ اوپر سے، نیچے سے، آگے سے، پیچھے سے، داٸیں باٸیں سے غرض ہر طریقے سے انسان پر حملہ آور ہوتا ہے لیکن شیطان کے داٶ بودے اور کمزور ہیں۔ خدا کے مخلص بندوں کا وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
خدا تمھیں استقامت عطا فرماٸے۔
بزرگ نے دعا دی۔
علی نے بے اختیار آمین کہا۔

بزرگ کی نظریں کچھ تلاش کر رہیں تھیں۔ وہ علی کو لے کر دریا کے کنارے پر آ گئے۔ یہاں پر آ کر انھوں نے ایک گہرے زرد رنگ کی ایک بوٹی کی جڑ نکال کر علی کو دکھائی۔
اس کو جانتے ہو کیا ہے؟

انھوں نے علی سے پوچھا۔ علی نے انکار میں سر ہلایا۔

یہ ایک معجزاتی بوٹی ہے۔ اس میں تمام امراض خبیثہ کا علاج ہے۔ تم اسے پیس کر اپنے مریضوں کو شہد اور کلونجی کے ساتھ استعمال کرواسکتے ہو۔۔۔ یاد رکھنا اس بوٹی کی تاثیر الشافی کے نام کی برکت سے ہے۔ تمھیں اس بوٹی کے استعمال سے پہلے الشافی لفظ کی زکوة ادا کرنی ہوگی جو اس کا سوا لاکھ دفعہ ورد کرنا ہے اور باقی کی ساری عمر تمھیں سونے سے پہلے اس نام کی ایک ہزار دفعہ تسبیح پڑھنی ہوگی۔۔۔

میں پڑھ لوں گا حضرت۔
علی نے مسرت سے بوٹی کو دیکھتے ہوٸے کہا۔

یہ بہت کرشماتی اور کمیاب چیز ہے۔۔یہاں سے تمھیں جتنی ملتی ہے اپنے تھیلے میں ڈال کر لے جاٶ۔۔
شیطان تیزی سے پیش قدمی کررہا ہے بیٹا۔۔ہمیں بھی متحرک ہونا پڑے گا۔۔۔

انھوں نے علی کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ علی ان کی گہری پراسرار نظروں کو عقیدت سے دیکھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہیم امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار سے منسلک تھے۔ خدا کا دیا ہوا سب کچھ تھا۔شہر کے پوش علاقے میں پارک کی نکڑ پر ذاتی گھر تھا۔ ایک اچھی لگژری کار تھی۔ وفادار بیوی کے علاوہ تین خوبصورت پھول سے بچے بھی تھے۔۔۔۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔ انسان کو زندگی میں اور کیا چاہیے ہوتا ہے۔۔؟ فہیم صاحب بھی اپنی زندگی میں بہت مگن اور خوش تھے لیکن دنیا چونکہ مجموعہ اضداد ہے سو خوشی کے ساتھ غم بھی بندھے ہوٸے ہیں۔جہاں بے فکری اور خوشحالی کے خوشے ہیں وہاں کہیں پاس کی ٹہنی پر پریشانیاں اور مساٸل بھی ڈسنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

نومبر کی راتیں سرد ہوچکی تھیں۔ فہیم صاحب اپنے فیملی کے ساتھ شہر کے معروف ریسٹورنٹ سے کھانے کے بعد لوٹے تھے۔ رات کے بارہ بجے کے آس پاس کا وقت ہوگا۔ فہیم صاحب نے کار اپنے گھر کے دروازے کے سامنے روکی تو خلاف معمول پورچ کی لائٹ اور گیٹ کے ساتھ کھڑے ستونوں کے گلوب بند تھے۔ پورا مکان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ صائمہ نے حیران نظروں سے اپنے خاوند کو دیکھا۔

شاید کوئی خرابی ہو گئی ہے۔

فہیم نے بیگم کو تسلی دینے کے لیے کہا اور گھر کی چابیوں کا گچھا لے کر گاڑی سے نیچے اتر گئے۔ وسیع عریض گلی میں سارے ہی گھر شاندار تھے۔ کئی گھروں کے باہر گاڑیاں بھی پارک تھیں۔ ہر گھر کے سامنے سرسبز لان اور درخت لگے ہوئے تھے۔ سامنے پارک بھی درختوں اور سبزے سے ڈھکا ہوا تھا۔ فہیم نے سڑیٹ لائٹ کی روشنی میں گیٹ کے چھوٹے دروازے میں لگے لیچ لاک کو کھولنے کی کوشش کی لیکن لاک نے کھلنے سے انکار کر دیا۔ فہیم نے پھر چابی گھمائی۔۔۔
پاپا کیا بات ہے؟

قندیل نے کار کی کھڑکی سے سر نکال کر بیزاری سے پوچھا۔ اسے شاید نیند آ رہی تھی۔وہ فہیم کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ باربی ڈول جیسی پیاری اور کیوٹ۔ قندیل کی عمر پندرہ سال تھی۔

بیٹا شاید لاک خراب ہوگیا ہے۔۔۔کھل نہیں رہا۔
او ہوووو۔۔۔
قندیل منہ بنا کر نیچے اتری۔ ایک ایک کر کے سارے لوگ کار سے نکل آٸے۔مشعل نے گاڑی کا انجن بند کر دیا۔

لائیں میں کوشش کرتی ہوں۔

صائمہ نے فہیم سے چابی لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ فہیم صائمہ کو چابی تھما کر دروازے سے ہٹ گیا۔۔۔
جیسمین کی کتنی پیاری خوشبو پھیلی ہوٸی ہے نا؟

فہیم کی سب سے چھوٹی بیٹی مناہل نے فضا میں پھیلی موتیے کی خوشبو کو اپنے پھیپھڑوں میں بھرا۔ اس کے ساتھ ہی کٹک کی آواز کے ساتھ لاک کھل گیا۔ صائمہ نے داد طلب نظروں سے فہیم کو دیکھا۔
تھنکس گاڈ۔۔۔۔

فہیم کے چودہ سالہ بیٹا بلاول کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔
ایسٹ آر ویسٹ۔۔۔ماما از دی بیسٹ۔
قندیل نے نعرہ بلند کیا۔
کچھ دیر میں وہ سب کار میں سے اپنا اپنا سامان سمیٹ کر اندھیرے گھر میں داخل ہو گئے۔۔۔

(جاری ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */