میرے والد پر جیل میں جو گزری - صاحبزادی سید ابوالاعلیٰ‌ مودودی

جب مجھے لاہور سے ملتان جیل لے جایا گیا تو دوپہر کا وقت تھا۔ جو کمرہ دیا گیا تھا، اس میں چھت کا پنکھا نہیں تھا اور نلکے کی جگہ ہینڈ پمپ تھا۔ یہ اے کلاس قیدی کا کوارٹر تھا۔ سی کلاس کا ایک مشقتی (قیدی ملازم) دیا گیا تھا، جو بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ تقریبا 40 سال کا خوب تنومند آدمی تھا۔ پہلے تو اس نے مجھ کو غور سے دیکھا اور پھر یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ جلدی جلدی سامان سنبھالا۔ ہینڈ پمپ چلا کر غسل خانے میں پانی رکھا اور کہنے لگا: میاں جی! نہالیجیے۔۔۔

میں غسل خانے سے نکلا تو دیکھا کہ پورے کمرے میں ریت بچھی ہوئی ہے اور اس پر پانی چھڑک کر، چارپائی بچھا کر اس پر بستر کردیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا: پہلے تو اس کمرے میں ریت نہیں تھی، یہ کیوں بچھائی ہے؟ تو وہ کہنے لگا: گرمی بہت ہے، میں اس ریت پر پانی ڈالتا رہوں گا تاکہ کمرہ ٹھنڈا رہے اور آپ دوپہر کو آرام کر سکیں۔

جتنی دیر میں مَیں نے ظہر کی نماز پڑھی، اتنی دیر میں اس نے کھانا تیار کرلیا اور بڑے سلیقے سے لا کر میرے سامنے رکھا۔ ساتھ میں بڑی معذرت کرتا رہا کہ مجھے آپ کے ذوق کے متعلق کچھ پتا نہیں ہے، بس جلدی میں جو ہوسکا، کرلیا ہے۔ پھر اس مشقتی نے یہ چیز نوٹ کرلی کہ میں کس وقت کون سی دوا کھاتا ہوں۔ اس کے بعد وہ ناشتے کی، دوپہر کے وقت کھانے کی اور رات کو کھانے کی صحیح صحیح دوائیاں سامنے رکھ دیتا تھا۔ کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ تم نے صبح کے وقت کی دوا نہیں رکھی ہے۔۔۔ ابا جان نے بتایا: اس نے جیل میں میری ایسی خدمت کی اور اس محبت سے خدمت کی کہ میں حیران رہ جاتا تھا۔

ایک دن اس مشقتی نے مجھ کو یہ بتایا: جب اس کوارٹر میں میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی تو مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک نہایت خطرناک قیدی آرہا ہے، جس نے حکومت کو سخت پریشان کررکھا ہے! بس اس کو راہ راست پر لانا ہے۔ اس کو اتنا تنگ کرو کہ خاموشی سے معافی نامے پر دستخط کردے اور حکومت جو شرائط منوانا چاہے، مان لے، بس تمہارا کام اسے ہر طرح سے تنگ کرنا ہے۔ کھانا اتنا بدمزا پکانا کہ زبان پر نہ رکھا جائے۔ بس جی، میں کوارٹر میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ذرا دیکھوں تو سہی کہ آج ایسے شخص سے پالا پڑتا ہے؟ آخر میں بھی جرائم پیشہ آدمی ہوں، کسی سے کم تو نہیں ہوں۔ پھر جب آپ اندر آئے تو میں آپ کو دیکھ کر بس سوچتا ہی رہا کہ بھلا آپ جیسے شخص سے بھی کسی کو کوئی خطرہ ہوسکتا ہے؟ میاں جی! آپ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں آپ کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا۔

سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا: فلاں فلاں لیڈر اور سیاستدان حضرات اسی جیل کے اسی کوارٹر میں صرف تین دن میں معافی نامے پر دستخط کرکے چلے گئے تھے، یہ معافی نامے حکومت کی فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں اور جب یہ حضرات ذرا زیادہ ہی بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور بیانات داغتے ہیں تو ان کو صرف ایک اشارہ کافی ہوتا ہے کہ آپ کا معافی نامہ کل کے اخبارات میں چھپوا دیا جائے گا، بس اتنا سنتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے.

پھر ایک روز سپرنٹنڈنٹ جیل آئے اور پوچھا: کوئی شکایت ہو تو بتائیں۔ میں نے کہا: مجھے تو کوئی شکایت نہیں ہے، میں بالکل آرام سے ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل دوسرے تیسرے دن آتے رہے اور یہی سوال پوچھتے رہے۔ آخر ایک روز پوچھ ہی لیا کہ آپ یا تو تکلفاً یہ کہہ رہے ہیں یا پھر صحیح بات نہیں بتا رہے؟ میں نے کہا: بھائی، اگر کبھی کوئی تکلیف ہوئی تو بلا جھجھک آپ کو بتادوں گا، فی الحال کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا: فلاں فلاں لیڈر اور سیاستدان حضرات اسی جیل کے اسی کوارٹر میں صرف تین دن میں معافی نامے پر دستخط کرکے چلے گئے تھے، یہ معافی نامے حکومت کی فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں اور جب یہ حضرات ذرا زیادہ ہی بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور بیانات داغتے ہیں تو ان کو صرف ایک اشارہ کافی ہوتا ہے کہ آپ کا معافی نامہ کل کے اخبارات میں چھپوا دیا جائے گا، بس اتنا سنتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور ایک صاحب تو دو ہی دن میں رو رو کر معافیاں مانگ کر یہاں سے چلے گئے۔ آپ کس قسم کے آدمی ہیں کہ بڑے خوش بیٹھے نظر آرہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بالکل آرام سے ہوں۔

اس پر میں نے انہیں سمجھایا: بھائی، جب زندگی ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے گزاری جاتی ہے تو پھر یہ گرمی سردی یا جیل کی کوٹھڑی جیسی منزلیں بالکل ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ میں نے یہ راستہ خوب سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زنگی، کے مصداق ذاتی آرام اور تکلیف سے میں بے نیاز ہوچکا ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب پھر کہنے لگے: آخر آپ اپنے آٹھ بچوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ ان کے بارے میں بھی تو کچھ سوچیے۔ میں نے جواب دیا: بچوں کو تو میں اللہ تعالی کے سپرد کر آیا ہوں۔ اب وہ جانے اور بچے جانیں، ان کی طرف سے میں بالکل فکر مند نہیں ہوں۔
کارساز ما بفکر کار ما
فکر ما در کار ما آزار ما

( ہمارا کارساز دن رات ہمارے کام بنانے میں لگا ہوا ہے جب ہم اپنی فکر خود کرتے ہیں تو یہ ہماری جان کا آزار ہوتا ہے)

یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ صاحب مایوس ہوکر چلے گئے۔ معافی نامے پر دستخط کرانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

پھر ابا جان (مولانا مودودی) نے بتایا: جب میں تفہیم القرآن لکھنے میں مصروف ہوتا تھا یا جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مشقتی (قیدی ملازم) ٹکٹکی لگائے مجھے دیکھتا رہتا ہے۔ کچھ عرصے بعد بقرعید آگئی۔ اتفاق سے جو راشن جیل سے دیا جاتا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اور مزید راشن ابھی پہنچا نہیں تھا کہ عید کی چھٹیاں شروع ہوگئیں۔ یہاں تک کہ عید کی صبح کو راشن بالکل ختم ہوچکا تھا۔ وہ سخت پریشان تھا کہ راشن پہنچا نہیں، اب آپ کو ناشتہ کیسے دوں؟ یہاں تک بات کرتے کرتے اس کے منہ سے جیل انتظامیہ کے لیے ایک دو مغلظات نکل چکی تھیں۔ میں نے اس سے کہا: رات کو جو چنے کی دال اور روٹی بچی تھی، وہی گرم کر کے لے آؤ۔ وہ کہنے لگا وہ تو میں آپ کو کبھی نہیں دوں گا. بھلا عید کے دن بھی کوئی رات کی باسی دال روٹی کھاتا ہے؟ میں نے اسے سمجھایا: بھائی، میری فکر نہ کرو، میں بڑی خوشی سے دال روٹی کھالوں گا (چونکہ ابا جان صبح آٹھ بجے ناشتہ کرنے کے عادی تھے اور اپنے معمولات میں وقت کے سخت پابند تھے اس لیے انہوں نے آرام سے دال روٹی کا ناشتہ کرلیا۔ یہاں پر دادی اماں کی تربیت رنگ لا رہی تھی جو انہیں کبھی سونے کا نوالہ کھلاتی تھیں اور کبھی چٹنی روٹی)… جس وقت میں ناشتہ کر رہا تھا تو کسی کے سسکیاں بھر کر رونے کی آواز آئی، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی مشقتی بیٹھا رو رہا تھا۔ پوچھا: کیا بال بچے یاد آرہے ہیں؟ کہنے لگا: میں تو آپ کو دال روٹی کھاتے دیکھ کر رہا ہوں میں سوچ رہا ہوں کہ عید کے دن رات کی باسی دال روٹی تو ہم غریبوں نے بھی کبھی نہیں کھائی، آپ تو بڑے آدمی ہیں آپ نے کہاں کھائی ہوگی؟

میں نے اسے شفقت سے سمجھایا: دیکھو بھائی ، میں نے یہ راستہ سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے اور میں بڑی خوشی سے اس راہ پر چل رہا ہوں۔ اگر کبھی بالکل بھوکا بھی رہنا پڑا تو ان شاءاللہ آرام سے رہ لوں گا۔ میری وجہ سے رنجیدہ نہ ہوا کرو۔

سپرنٹنڈنٹ صاحب پھر کہنے لگے: آخر آپ اپنے آٹھ بچوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ ان کے بارے میں بھی تو کچھ سوچیے۔ میں نے جواب دیا: بچوں کو تو میں اللہ تعالی کے سپرد کر آیا ہوں۔ اب وہ جانے اور بچے جانیں، ان کی طرف سے میں بالکل فکر مند نہیں ہوں۔

اباجان نے مزید بتایا: میں تو ناشتہ کر کے تفہیم القرآن لکھنے بیٹھ گیا لیکن اس بےچارے مشقتی نے احتجاجاً ناشتہ نہ کیا (اگرچہ اس کے لیے دال روٹی بچی ہوئی رکھی تھی )… اتنے میں کوارٹر کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ مشقتی نے دروازہ کھولا تو ایک سنتری کئی ناشتے دان، بڑے بڑے پیکٹ اور گٹھڑیاں اٹھائے کھڑا کہہ رہا تھا: مولانا صاحب آپ کے چاہنے والے تو فجر کے وقت ہی یہ چیزیں لے آئے تھے اور جیل کے دروازے پر کھڑے تھے لیکن سپرنٹنڈنٹ صاحب کا دفتر عید کے بعد کھلا۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تلاشی اور جانچ پڑتال ہوئی اس لیے دیر لگ گئی۔ اب قیدی ملازم نے وہ پیکٹ، ناشتے دان اور گٹھڑیاں کھولیں تو ان میں انواع و اقسام کی نعمتیں تھیں۔ میں نے اپنے جیل کے مشقتی ساتھی سے کہا: دیکھو، یہ سب تمہارے لیے آیا ہے کیونکہ تم ہی اداسی میں بھوکے بیٹھے رو رہے تھے، اب خوب جی بھر کر کھاؤ اور باقی چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آؤ۔ آخر یہ پراٹھے، شامی کباب، حلوہ پوری، شیرخورمہ اور مٹھائیاں ان کو بھی تو اچھی لگیں گی۔
میں یہ کہہ رہا تھا مگر میرا مشقتی ساتھی کف افسوس مل رہا تھا: کاش وہ دال روٹی میں نے آپ کو دینے کی بجائے کوؤں کو کھلا دی ہوتی۔ میرے بہت کہنے پر اس نے ناشتہ کیا اور باقی ساری چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آیا اور ساتھ ہی ساتھ ان سے کہتا: میرے میاں جی کے لیے یہ سب چیزیں آئی تھیں انہوں نے تمہیں بھجوائی ہیں!…

پھر ابا جان نے کہا: عید کے روز دوپہر ہوئی تو اسی طرح دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور پھر اسی طرح ناشتے دان اور ہانڈیاں کپڑے میں بندھی ہوئی آگئیں۔ ایسے ایسے کھانے آئے کہ مشقتی ساتھی تو حیران رہ گیا۔ اس نے مجھے کھانا کھلایا اور باقی قیدیوں میں بانٹ آیا۔ رات کو پھر اتنا ہی کھانا آ گیا۔ غرض یہ کہ عید کے تین دن ہمارے رفقا نے ملتان جیل میں اتنا زیادہ اور ایسی ایسی انواع و اقسام کا کھانا پہنچایا کہ سارے جیل والے عش عش کر اٹھے۔

جس وقت میں ناشتہ کر رہا تھا تو کسی کے سسکیاں بھر کر رونے کی آواز آئی، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی مشقتی بیٹھا رو رہا تھا۔ پوچھا: کیا بال بچے یاد آرہے ہیں؟ کہنے لگا: میں تو آپ کو دال روٹی کھاتے دیکھ کر رہا ہوں میں سوچ رہا ہوں کہ عید کے دن رات کی باسی دال روٹی تو ہم غریبوں نے بھی کبھی نہیں کھائی، آپ تو بڑے آدمی ہیں آپ نے کہاں کھائی ہوگی

ادھر ابا جان ہمیں یہ تفصیلات بتا رہے تھے، ادھر اماں جان ہمیں متوجہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں: دیکھو، سورہ مریم میں یہی بات کہی گئی ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾
یعنی جو اہل ایمان نیک اعمال کرتے ہیں، رحمان ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے۔

وہ اسی طرح زندگی کے واقعات کو آیات اور احادیث کے ساتھ منطبق کرکے ہمیں ان کا مطلب سمجھایا کرتی تھیں۔ آج بھی اماں جان کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔
" تم عمل تو کر کے دیکھو، پھر آیتیں اور حدیثیں خود اٹھ کر تم کو اپنا مطلب سمجھائیں گی"۔
(شجر ہائے سایہ دار سے اقتباس، سیدہ حمیرا مودودی)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */