کوشل دیس - سائرہ ممتاز

اس صبح جب کہ دھند آسمان سے برس کر سیدھی دار چینی کے درختوں پر گر رہی تھی اور آنکھوں کے جگنوؤں میں بھوری کافی ہلکورے لیتی تھی. وہ اس سبزہ زار میں اخروٹ اور چیڑ کے درختوں کے درمیان گرتی دھند میں، ایستادہ ایک بینچ پر آسن جما بیٹھی. ہمیشہ کی طرح آنکھیں موند کر دھیان لگایا تو  خیال کے پنچھی نے اڑان بھری اور اسے اڑا کر ہزاروں برس قبل یہیں شاہ بلوط کے جنگلات میں لے آیا. شاہ بلوط کے درخت منظر کے درمیان نہیں تھے بلکہ وہ منظر کے بالکل سامنے تھے اور یہ چھ دسمبر کا دن تھا.

آتشیں دن..... احساس کی حدت کو پوروں پر سمیٹ لانے والوں کے لیے ایک کربناک دن.... کہانی کے اندر سے کہانی نکال لانے والوں کے لیے ایک لہو دن! گزشتہ شب جب وہ ادھورے ناول کا ایک سرا پکڑے بیٹھی تھی تو اس پر عقدہ کھلا کہ یہ دن تو اس کے محبوب.... بلند پایہ محبوب ہندوستان کے گلے میں بدنامی کا طوق باندھنے آیا کرتا ہے... وہ ہندوستان  نہیں، جس کے اب تین ٹکڑے ہو چکے ہیں. ایک پر ترنگا لہراتا ہے ایک پر سبز ہلالی پرچم اور تیسرے کی شناخت ابھی تک وہ پٹ سن ہے جس کی بُنی بوریوں میں پنجاب کے کسان اناج بھرتے ہیں.

یہ وہ ہندوستان نہیں ہے جو اس کا محبوب ہے. بلکہ اس کا محبوب تو وہ ہندوستان ہے جہاں راج پُتر راج کیا کرتے تھے. جن کے کاندھوں پر جنیئو کے ساتھ ساتھ دوسرا سوتر دھنش کا ہوتا تھا. جس کے سہارے وہ کمان ان کی پیٹھ پر دھری رہتی تھی. راج پُتر جن کے کاندھے چوڑے اور بازوؤں کی مچھلیاں پھڑکتی ہوئی تھیں. جن کے کردار ہمالیہ سے زیادہ بلند اور گنگا سے ادھیک پوتر تھے. اس نے نروان پانے کے بعد ان راج پُتروں سے ہم کلامی کا ہنر بھی سیکھ لیا تھا.

اس نے آنکھیں موند لیں. شاہ بلوط کے درخت تحلیل ہونے لگے اور منظر، ماضی کے گرداب میں سفر کرنے لگا. اس نے دھیان جگالیا، ہم کلامی کو ازن ہوا، رخش سفر نے ایڑ لگائی اور وہ راج پُتروں کے پتا کے سامنے جا کھڑی ہوئی. وہ ایک دن تھا جب انھیں ون واس دیا گیا تھا. اور وہ کوشل دیس کی حدود سے باہر گنگا ندی کے کنارے کھڑے تھے.

"پتا شری... یہ آپ ہیں؟" اس نے جیسے خواب میں ہم کلامی کی. ان کے سر پر بالوں کا جوڑا تھا، اور آدھے بال پٹکوں کی صورت کاندھوں پر آ رہے تھے. ان کے گلے میں لکڑی کے منکوں کی بنائی گئی مالا تھی اور وہ دھوتی باندھے ہوئے تھے. بالکل ویسی، دونوں ٹانگوں کے درمیان سے ایک پٹکا پیچھے کی طرف جاتا ہوا. جیسے ہندوستانی پہنتے ہیں. اسے اچنبھا ہوا وہ تو بالکل عام سے، سادہ سے تھے...

"ہاں پتری، تمہیں کوئی شک ہے؟ "وہ مسکرائے تو ان کی مسکراہٹ ملکوتی تھی. ملائم پروں جیسی.
" نہیں!" اس نے گڑبڑاتے ہوئے کہا، لیکن دل میں سوچا کہ کیا یہ کہنا ٹھیک رہے گا یا نہیں...؟ کیا تم یہ سوچ رہی ہو پُتری کہ میں ویسا کیوں نہیں دکھتا جیسی مورتیاں میرے مندروں میں بنائی گئی ہیں؟ وہ حیرت سے بُت بن گئی.

" آپ... آپ کیسے جانتے ہیں؟" میں تو اور بھی بہت کچھ جانتا ہوں، وہ بھی جو پوچھنے کے لیے تم اتنا کشٹ اٹھاکر یہاں آئی ہو"
"تو پھر بتاتے کیوں نہیں ہیں؟" اس نے بے چینی سے سوال کیا. پُتری! سچ بتایا نہیں، دکھایا جاتا ہے اور آج میں تمہیں سچ دکھاؤں گا"

ان کی آنکھوں میں سوریہ ونشی تیج جگمگا اٹھا. وہ دھیر ویر، تیاگی راجا تھے. کوشل دیس کی سرحد سے نکلتے ہی میں نے انھیں جالیا تھا اور اب وہ آریہ سومنتر کے ساتھ رتھ میں آگے بڑھ رہے تھے. اسی رتھ کو آج شام وہ خاموشی سے چھوڑنے والے تھے. یہ تو میں جانتی تھی کہ ان کی کہانی میں نے سن رکھی تھی. ماتا جی ان کے پیچھے تھیں اور ان کی چھایا لکھن جی تھے. چند کوس دور نشات گوہو کی سلطنت کی حدود شروع ہوتی تھیں. انہوں نے کہا " پتری! اب پگ پگ پر میں تمہیں سچ کا سامنا کروانے والا ہوں. دیکھتی جاؤ، غور کرتی جاؤ دیکھو کہ سچ کیا ہے؟ فریب کیا ہے؟ چھل اور کپٹ کیا ہے؟ تمہارے تمام سوالوں کے جواب میری ون یاترا میں ہی چھپے ہیں."

آریہ سومنتر ہر قدم پر چلتے رہنے کے ساتھ ساتھ ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر، شیش نوا کر انھیں واپسی کے لیے درخواست کرتے تھے، لیکن اٹل فیصلے والے راج پتر کو منانا اب ان کے بھی بس سے باہر ہوچکا تھا. وہ چپ نہیں رہ سکی." پتاما، سچ کیا ہے؟ " " ایشور ستیہ ہے،" انہوں نے ترنت جواب دیا.

لیکن پتا شری، ہماری دنیا میں ایشور کون ہے؟ ہم سات ہزار سال آگے کی دنیا کے باسی ہیں ۔ اور سات ہزار برسوں میں دنیا بہت حیرت انگیز ہوچکی ہے. ہاتھی گھوڑے، رتھ، استر شستر، وید گیان، پاٹھ پوجا، منتر تنتر، جوگ سنجوگ سب ایک نئے مفہوم میں ڈھل چکے ہیں. اب اس دھرتی کی آبادی سات ارب ہے. ہمارے پاس کتھائیں لکھنے والے لیکھک وہ مہا منی جنہوں نے آپ کی کتھا لکھی تھی، ان سے بھی زیادہ دلکش اور حیرت ناک کتھائیں لکھتے ہیں. لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ سب لوگ کون ہیں؟"

انہوں نے گہری مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا...

"پتری میں پہلے ہی بتاچکا ہوں، میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتی."
ہاں تو ایشور کی جگہ کہاں ہے؟ مسجد، مندر، کلیسا، گوردوراے ایشور ہر جگہ سے باہر نکالا جاچکا ہے. پتا شری ہم راکٹ سائنس کو بھی بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں، ہم تو دھرتی چھوڑ کر چندرما اور منگل دیو  پر گھر بنانے کی تیاریوں میں ہیں، ہمارے ہاں طبقاتی تقسیم در تقسیم نے بہت سے خلا پیدا کردیے ہیں اور ایشور کا سچ ان خلاؤں کے درمیان گُم ہوچکا ہے. کس نے دیکھا ہے ایشور؟..... 

لیکن ٹھہرئیے اس سے پہلے کہ یہ کہانی آگے بڑھے، مجھے کہنے دیجیے کہ نروان پانے کے بعد کلام کے لیے مادی اجسام کی ضرورت باقی نہیں رہتی، لیکن محسوس ہوتا تھا وہاں شیشے کے پار دھندلے عکس میں دو انسان پاس پاس کھڑے محو کلام تھے. میں نے جھانک کر دیکھا. 

ہاں تو اس سے پہلے کہ تم مجھ سے مزید سوال پوچھو، کیا مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت ہے؟ 

وہ مبہم سا مسکرائی، " آپ تو سب جانتے ہیں لیکن آپ اگر پھر بھی آپ مصر ہیں تو پوچھیے". 

تم مجھے ہر روز اس شیشے کے پار سے آواز کیوں دیتی تھی؟ ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ تم مجھے کھوجنے نکل پڑیں؟ 

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */