تجدید عہد کا دن‎ -عمار نسیم

بہار کی ضرورت ھے گلستان و چمن کو

خدا نظر بد سے بچائے ھمارے وطن کو

١٤ اگست ١٩٤٧ کو یہ ملکِ خدادا عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے بعد دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا اور اس ملک کو وجود میں لانے کا صرف ایک ہی مقصد اور نعرہ تھا "لا اله الا الله" مگر افسوس در افسوس کہ جس مقصد کے لئے مردوں نے اپنے سروں کی فصلیں کٹوائیں اور عورتوں اور بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے آج ہم نے اس نظریے کو فقط اپنے مفادات کے لئے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔آج ہم سب قومی٬لسانی اور مسلک کی بنیادوں پر بٹ کر رہ گئے۔پاکستان کو بنانے کے لئے سب نے مل کر جدوجہد کی اور پاکستان میں کلمہ طیبہ کا نظام نافذ کرنے کے لئے بھی سب کو ایک ہو کر اور مل جل کر کام کرنا ہوگا۔کیونکہ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو"(سورہ انفال آیت :١)

اس وطنِ عزیز کے تخت پر بیٹھے حکمران اس کے اس مقصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ان حکمرانوں نے اس قوم کواخلاقی وذہنی پستی میں ڈال دیا۔لوٹ مار٬دہشتگردی٬مہنگائ٬چور بازاری اور لوڈشیڈنگ نے اس ملک کو تباہ کر دیا۔اس قوم نے بھی اس ملک کے ساتھ ذرا انصاف نہ کیا اور ان بے حس حکمرانوں کو اپنے سروں کا تاج بناتے رہے۔نتیجتا" یہ ملک اب مشکل حالات سے دو چار ہے۔اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور نیک اور امانت دار لوگوں کو منتخب نہیں کیا تو یاد رکھئیے وہ مقصد ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگا جس پر درجنوں جانیں قربان ہوئیں۔ہم نے "لا الہ الا اللہ" کا نعرہ لگایا تو گویا اپنے رب سے وعدہ کیا کہ ہم یہاں اسلامی نظام قائم کریں گے ۔

اگر اللہ سے کئے اس وعدے کو پورا نہ کر سکے تو روزِ محشر کیسے اپنے رب کے سامنے جوابده ہونگے۔ذرا سوچئے!اللہ تعالی ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور اسلامی نظام قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */