ندامت کے آنسو - شبانہ ضیاء

یہ کیسی خطا تھی یا کیسی سزا ہے
جدا ہو گئے کیسے انسان سے انسان

عقل دنگ ہے یہ سب کیا ہوگیا
کہ پل بھر میں دنیا ہوئی کیسے ویران

غفلت کی چادر جو اوڑھے ہوئے ہیں
پلٹ آؤ پھر نہ ملے موقع دوبارہ

لقمہ اجل بن گئی دنیا ساری
ہوگئی زندگی کتنی حیراں پریشاں

وہ سجدے وہ آنسو نظر کرم میں
کہ فرشتے بھی ہے کس قدر حیراں حیراں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */