بنیاد پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارا کردار - الف افضال

یوں توبرصغیر پاک و ہند میں قائم مسلم حکومت کی بنیادیں اورنگزیب عالمگیر کے سنہری عہد کے بعد ہی لرزنا شروع ہو گئیں تھیں مگراس مرتی ہوئی سلطنت کے تابوت میں آخری کیل 1857 میں ٹھونک دی گئی۔ اور ہندوستان میں ایک شاندار عہد اپنے انجام کو پہنچا۔بر صغیر کے مسلمانوں نے جب اپنا سات سو سالہ اقتدار چھوڑا تو وہ ایک طرف سے ہندوﺅں اور دوسری طرف سے انگریزوں کے تسلط میں گھر چکے تھے: اور شدید کسمپرسی کی حالت میں تھے۔

اب مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو انگریز اور ہندو کے غلام بن کر رہیں یا پھر ان دونوں طاقتوں کے تسلط سے آزادی حاصل کر کے اپنا مسلم تشخص برقرار رکھیں۔ایسے میں مسلمان زعماءنے سر جوڑ لیے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جیسے فلسفی شاعر نے اپنا تصور مسلم مملک پیش کیا اور مسلمانوں کو ایک راہ عمل بتا دی اور وہ راہ عمل کیا تھی؟ اور وہ راہ عمل یہ تھی کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر برصغیر کے مسلمانوں کو اپنا الگ ملک دیا جائے۔ پھر کیا تھا مسلمانوں نے اپنا تن من دھن اس نظریے پہ وار کر اپنا الگ مسلم تشخص بچا لیا اور اپنا الگ وطن حاصل کیا۔ تاریخ انسانی کا یہ معجزہ 27 رمضان المبارک کو معرضِ وجود میں آیا۔ 14 اگست 1947ءمیں بر صغیر کے مسلمانوں نے منزل مراد پالی۔

قیام پاکستان کے بعد اس نومولود سلطنت کو کئی مسائل درپیش تھے۔ کچھ ایسے جن کو فوری حل کی ضرورت تھی اور انہیں فوری طور پر حل بھی کیا گیا۔ کچھ مسائل کے حل کے لیے وسائل کی ضرورت تھی جن میں سے بیشتر ابھی بھی وسائل کی کمی کی وجہ سے حل طلب ہیں۔ جیسے کشمیر کا مسلہ، بجلی کا مسلہ، پینے کے صاف پانی کا مسلہ، تعلیم کا مسلہ، پناہ گاہ کا مسلہ، دو وقت کی روٹی کا مسلہ ، کاروبار اور معیشت کا مسلہ۔ کون کون سے مسائل گنوائے جائیں کہ جس طرف نگاہ اٹھائیں مسائل کا ایک انبار دکھائی دیتا ہے۔ الا ماشاءاللہ! من حیث القوم ہماری یہ عادت ہو چلی ہے کہ ہم ہر معاملہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ گویا آنکھیں بند کر لینے خطرہ ٹل جاتا ہے۔

1947 میں ہندوستان میں تقریباً 22 کروڑ مسلمان آباد تھے، جن کی ایک ہی خواہش، ایک ہی خواب، ایک ہی تمنا، ایک ہی چاہت تھی "پاکستان"۔ اور پھر انہوں نے دس لاکھ جانوں کا نذرانہ دے کر اپنے خواب کی تعبیر کو پا لیا۔ آج ایک بار پھر ہم 22 کروڑ ہیں، لیکن کتنے مختلف! ہمارے 22 کروڑ خواب ہیں،22 کروڑ خواہشات،22 کروڑ تمنائیں ہیں اور 22 کروڑ چاہتیں! مگر پھر بھی تہی دامن اور خالی ہاتھ ہیں۔ قیام پاکستان کی روح نظریہ پاکستان ہے اور نظریہ پاکستان ہی دراصل دو قومی نظریہ ہے۔ آج ہم اس دو قومی نظریے کی اصل روح کو فراموش کر چکے ہیں۔ ہم اجتماعی طور پر اس نظریے کو بھول چکے ہیں۔ ہم نے اپنی نئی نسل کو اس سے آگاہ ہی نہیں کیا۔ تو ظاہر سی بات ہے اس نظریے کی راحتوں اور برکتوں سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں۔ قرآن پاک میں واضح ہے کہ ایک قوم نہ چاہتی ہو کہ اس پر اسلامی نظام نافذ ہو، ایک قوم نہ چاہتی ہو کہ اس کے معاملات نیک اور خدا ترس لوگ چلائیں۔

ایک قوم خود بے ایمان اور بد دیانت کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو زبردستی نیک لوگ نہیں دیتا۔ نیک لوگوں کا اجر تو اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ اس لیے نیک لوگ کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ ناکام تو وہ قوم ہے کہ جس پر سے نیکو کاروں کا ہاتھ ہٹا لیا جائے۔ اسی لیے آج ہم اتحاد کھو چکے ہیں۔ تنظیم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہر معاملہ، ہر مسلہ دوسروں کے سر پر ڈال کر، سب اچھا ! کا چورن چاٹ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کچھ کام حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ مگر بہت سے کام افراد کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد چند ٹکوں کے عوض غیر ممالک سے اپنی صلاحیتوں کا سودا کر لینا کہاں کی حب الوطنی ہے۔

کھاتے پاکستان کا ہے اور گاتے امریکہ کے لیے ہیں۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ارے اور کچھ نہیں تو ٹریفک سگنل کی ہی پاسداری کر لیں۔ امپورٹڈ اجناس کے بجائے دیسی مال کو ترجیح دیں۔ گاڑی سے لے کر بچے کی ٹرائی سائیکل تک اور کوکنگ آئل سے لے کر ٹوائلٹ سوپ تک ہر چیز امپورٹڈ چاہتے ہیں اور پھر روپے کی گراوٹ کا رونا بھی روتے ہیں۔ معاف کیجئے گا ملکی معیشت کو ہم اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں۔ اگر بجلی چوری سے گریز کریں تو لوڈ شیڈنگ کا مسلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ خدا کی پناہ! یوم آزادی پر بھی ہم لوگ غیر ملکی گاڑی پر قومی پرچم لہراتے ہیں اور دشمن ملک کے گانے بلند آواز میں بجا کر وطن کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اور تو اور دن رات اپنی جانیں ہتھیلی پر لیےاور سروں پر کفن باندھے ہمارے سکون و چین کے ضمانت دینے والی افواج پاکستان بھی ہمارے ہذیان گوئی سے محفوظ نہیں۔ دن رات افواج پاکستان پر بھونکنے والے ان کتوں نے اپنے بھائی بیٹے تو امریکہ اور کینیڈا ایکسپورٹ کر دیئے ہیں اور وطن عزیز کے سرفروش بیٹوں کے لیے یاوا گوئی کرتے ہیں۔ اس وطن کی عزت اور حرمت آرمی سے بڑھ کر شاید کوئی نہیں جانتا کہ وہ پرچم جو یوم آزادی منانے کے بعد کوڑے کے ڈھیر پر پڑا ملتا ہے اس پرچم کے گرنے سے پہلے سرحد پر ایک آرمی والا گرتا ہے۔ 8 گرام کی گولی جب 750 کلومیٹر کی رفتار سے جب کسی آرمی والے کے سینے میں گھستی ہے نا! تو اگلے ہی لمحے کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کی کل کائنات مٹی میں مل جاتی ہے۔ اس لیے خدارا! اس وطن کی، اس آزادی کی قدر کیجئے۔

بطور ایک پاکستانی کے، اگر اور کچھ نہیں کر سکتے، تو صرف اور صرف وہ ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کریں جو ایک فرد واحد کی حیثیت سے آپ پر واجب ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر ایک یہ عہد کر لے اور پھر اس پر عمل پیرا بھی ہو تو خدا کی قسم! دنیا کی کوئی طاقت وطن عزیز کو اوج ثریا تک جانے سے نہیں روک سکتی۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */