یوم العرفہ، عہد الست کی یاددہانی - کرن وسیم

" ‏تمہارا قلب اپنی اصل میں شفاف پیدا کیا گیا
بس گناہوں سے گدلا ہو جاتا ہے
خلوت میں اس کا گدلاپن نیچے چلا جاتا ہے"
- ابن جوزیؒ

‏خوش نصیبی کاعروج تو یہ ہے کہ عشرہ ذی الحج میںوادیِ عرفات میں پڑاؤ ڈال آہ و بکا کرنےوالوں میں ہم بھی شامل ہوجائیں..اور اگرحج کا بلاوا نہ بھی آیا ہو تو اس عشرہ کی عبادات کی مشقت ہی اٹھائیں.مقرّبوں کےلیے دروازہ کھلنے کے دن ہم بھی بھِیڑ کر دیں اور بھکاریوں کی طرح گھُسنے کی ضد کریں."وتصدّق علینا" کا کشکول پھیلا کر کھڑے ہو جائیں..کیا بعید، ہاتفِ رحمت بول دے:لا تثریب علیکم الیوم...

ذرا روئیں !!! تو اپنا نام جہنمیوں کی فہرست سےباہر ہی کروا لیں.کوئی چیز ایسی ہےہی نہیں جو ہم اس وجہ سےنہ مانگیں کہ اس کےفیصلےتو ہو چکےاب میں کیا مانگوں۔ وجہ وہی کہ ’ہو چکے‘ اور ’ہوں گے‘ ہمارےحساب سےہے اُسکےحساب سےنہیں۔ ہمیں توبس مانگنا ہی ہے...اور پکارنا ہے

اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

شرک سے بیزار اور اللہ کی وحدانیت کے علمبرداروں کی یہ تکبیرات ایک دین ... ایک تہذیب... ایک تاریخ... ایک روایت... ایک زندگی... اور ایک ملت کا اِحیاء ہےیہ کچھ خاص دن اُس کی بڑائی کرنے کے.کچھ مبارک ایام... ایک قدردان، نوازشیں کرنے والی ہستی کو خالص ترین نذرانہ بندگی پیش کرنے کے...اس مادی دنیاکے وجود میں آنےسے پہلے جو عہد الست اس بزرگ ہستی سے کیا تھا..اس عہد کی یاددہانی کیلیئے یہ دن.. جو اُس نے خود مقرر فرمائے؛ چاہت رکھنے والوں کو اُس کی تعظیم اور تکبیر کرنے کیلیئے.تڑپتے , بلکتے بندے کو اپنی رحمت بھری آغوش میں سمیٹ لینے کیلیئے وہ خود ہی ایسی راتیں اور ایسے دن بخش دیتا ہے..ہر سال لبیک اللھم لبیک کی صدائیں شرک کے ہر دروازے کو بند کرتی رب رحمان و رحیم کی وحدانیت کو ذہنوں میں تازہ کرتی ہیں..جبھی تو وہ فرشتوں کو فخر سے بتاتا ہے کہ دیکھو یہ میرے بندے گڑگڑاتے , پکارتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئ معبود نہیں..گواہ رہنا ..یہ اپنا عہد دوہرا رہےہیں ..یہ دین فطرت سے باغی نہیں ہیں..گواہ رہنا..میں نے انہیں بخش دیا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے .«سنن ابن ماجہ -1727»..

یہ مکرم ایام , اسوہ ابراہیم ع کی ہر ہر سنت کو ذہن نشین کرواتے ہیں.. نفس اور طاغوت کے ہر حملے کو ناکام کرنے کیلیئے خانوادہ ابراہیمی کے نقش قدم اجاگر کرتے ہیں..ہم مسلمانوں کیلیئے اپنے جد امجد کی قربانیوں بھری زندگی کا ہر لمحہ قابل تقلید ہے.. اللہ رب العزت نے انکی سنتوں اور اخلاص کو عبادات اور تقلید کا معیار قرار دیا..عید قرباں اور حج کا کون سا ایسا رکن ہے جو ہمیں اس عبد منیب حضرت ابراہیم ع کی یاد نہ دلاتا ہو.. اس سال حج کے بلاوے بھی نہیں .. حاجیوں کی گہماگہمی بھی نہیں.

ترستی آنکھیں, تڑپتے دلوں کو تھامے .. بلاوے کے منتظر بہت سے بیقرار نفوس ذی الحج کے مہینے کو حسرت سے گزرتے دیکھ رہے.. تو پھر اس عشرے کا حق ادا کرنے پر ہی کمر بستہ ہوں ..بلکتی صداؤں کے ساتھ تکبیرات اور مناجات فاصلوں کے محتاج تو نہیں... آسمان کے دروازے کھل ہی جائیں گے.. بس پھر پکارنا تو میرے اختیار میں ہے.. لبیک اللھم لبیک...لبیک لاشریک لک لبیک..

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com