بی بی سی کی بدترین اینگلنگ، ایسا کیوں ہو رہا ہے - محمد عامر خاکوانی

بی بی سی کے خلاف میرا مسلسل لکھنے کا ارادہ نہیں کہ یہ بھی ایک طرح کی کمپین لگتی ہے ، جس سے گریز کرنا چاہیے۔ افسوس کہ اس پلیٹ فارم پر مسلسل ایسی تحریریں آ رہی ہیں جو بدترین اینگلنگ کا شاہکار ہیں، ان کی نشاندہی کئے بغیر رہا نہیں جاتا۔ کسی کو اگر سیکھنا ہو کہ کیسے فیچر رپورٹ کے پردے میں حقائق توڑے موڑے جاتے ہیں اورچند مخصوص لوگوں سے بات کر کے ایک خاص قسم کا زہریلا امیج بنایا جاتا ہے تویہ سب سیکھنے کے خواہش مند بی بی سی کی یہ سٹوری پڑھ سکتے ہیں۔

یہ سٹوری مندرجہ ذیل عنوان سے شائع ہوئی ہے ’’ آیا صوفیہ، ارطغرل، کیا طیب اردوان کی ترک قوم پرستی کا ہدف سلطنت عثمانیہ کی بحالی ہے ؟‘‘ پہلے حصے میں ترکی کے خلاف اینٹی سعودی عرب جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی ، حقائق کا بڑا حصہ دانستہ نظرانداز کر کے ایسا کیا گیا، شریف حسین آف مکہ کا کردار کا ذکر بھی نہیں ہوا، لارنس آف عریبیہ، انگریز ایجنٹوں کی کارستانی کے لئے ایک سطر بھی استعمال نہیں کی گئی۔ ایسے ہی ہے کہ اردو کے حروف تہجی لکھے جائیں اور ج سے م تک کے حروف غائب کر دیے جائیں۔ مصنف اگلے مرحلے پر آیا صوفیہ پر حملہ آور ہوا، دانستہ یہ نہ لکھا کہ کئی سو سال تک یہ مسجد رہی، یوں تاثر دیا کہ پہلے یہ چرچ تھا اور پھر بعد میں مصطفیٰ کمال نے اسے میوزیم بنا دیا، اس سے پہلے کی تاریخ غائب کر دی۔

پھر یہ طنز فرمایا گیا کہ رجب طیب ایردوان مسلم دنیا کی قیادت چاہتے ہیں مگر عراق پر امریکی حملے کے موقعہ پر وہ امریکیوں کے ساتھ تھے ، تاہم پارلیمنٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا۔ یہ خود حقائق سے انحراف ہے، سچ یہ ہے کہ ترک حکومت دانستہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لے گئی تاکہ امریکہ دبائو سے نکلنے کا موقعہ ملے اور پارلیمنٹ سے امریکی فوجوں کو راستہ دینے کا بل نامنظور کرایا گیا۔ اگلے مرحلے پر اردوان پر یہ طنز کہ اس نےیہ کیوں کہا کہ ترک آبادی میں اضافہ ہونا چاہیے، فیملی پلاننگ کے خلاف بات کرنے کی جرات کیوں کی؟ یعنی اگر وہ چاہتے ہیں کہ ترک آبادی میں اضافہ ہو تو اس سے پہلے انہیں مذکورہ بھارتی مصنف سے منظوری لینی چاہیے۔ ان صاحب کو یہ یاد نہیں رہا کہ کئی یورپی ممالک میں اب دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر حکومت یا بلدیاتی اداروں کی جانب سےمالی ترغیبات دی جاتی ہیں کہ شرح پیدائش صفر ہوچکی۔ ترک حکومت مگرایسا کرے تو غلط۔

ارطغرل ڈرامے کے خلاف تو مصنف کا زہر اپنی عروج پر ہے۔ بے بنیاد کمزور باتیں، استدلال سے عاری اور زیادہ تر حوالوں میں پرویز ہود بھائی سے رائے لی گئی۔ اخبار پڑھنے والا سکول کالج کا کوئی لڑکا بھی جانتا ہے کہ ہودبھائی کی رائے کیا ہوگی؟ ہم نے صحافت کی تمام تعریفوں میں فیچر کے بارے میں یہ پڑھا کہ اس میں مختلف زاویے کور کئے جاتے ہیں اور مختلف متضاد آرا لی جاتی ہیں تاکہ پڑھنے والے کے ذہن میں مکمل تصویر بنے، بی بی سی کے اس بھارتی یا بھارتی نژاد مصنف رجنیش کمار کو پورے پاکستان میں ایک بھی آدمی ایسا نہیں ملا جو ارطغرل کے بارے میں مثبت رائے رکھتا ہو اور اپنا نقطہ نظر بیان کر سکے۔

ارطغرل پر ایک بچگانہ اعتراض یہ کہ اس میں تلوار سے سر اڑائے جاتے ہیں، تو کیا آٹھ سو سال پہلے پستول سے گولی ماری جاتی؟ یہ بھی اعتراض کہ ہر قسط میں مسیحی لاشیں پڑی ہوتی اور غیر مذاہب کے لوگوں سے جنگیں ہیں۔ تو کیا تاریخ بدل دی جائے؟ کیا اس زمانے میں مسیحی ٹمپلرز نہیں تھے؟ منگول حملہ آور نہیں تھے؟ ترکوں کی مسیحیوں سے جنگیں نہیں ہوئیں؟ منگولوں سے لڑائیاں نہیں ہوئیں؟ اس طرح تو کروسیڈ پر بننے والی تمام فلمیں چھپا دی جائیں، سکینڈ ورلڈ وار کے حوالے سے نازی جرمنی کے خلاف سینکڑوں ہزاروں فلمیں، ڈرامے بنائے گئے، کیوں؟ بی بی سی کے ایڈیٹرز پر حیرت ہے۔ لگتا ہے ادارتی شعبہ ختم کر دیا گیا ہے یا پھر اسے فنڈنگ کرنے والا محکمہ بہت ہی عجلت میں ہے اور نہایت بھونڈے انداز میں پروپیگنڈہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بروقت تحریر ۔۔۔ بی بی سی کا برائے نام ہی سہی جو غیر جانبداری کا تاثر تھا، ختم ہو گیا ہے۔ اور یہ بس یک طرفہ پروپیگنڈا کا ادارہ بن کے رہ گیا ہے۔ بی بی سی کے اس یک رخے کردار کو بےنقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • غیر ملکی اردو خبر رساں ادارے ایک لمبا جال بچھا رہے ہیں، بی بی سی، واٰئس آف امریکہ، ڈی ڈبلیو اور اردو اور نام نہاد انڈیپینڈنٹ ویب سایٹس اب عربوں کے پیسے سے چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بغیر کسی بزنس ماڈل کے، بغیر اشتہارات کے یہ ادارے کیسے چل رہے ہیں اور اگر چل رہے ہیں تو پھر ان کے پاس سرمایہ کہاں سے آرہا ہے۔۔۔غہر ملکی ایجینسیوں کی پاکستانی میڈیا ھاؐوسز مین سرمایہ کاری کے بعد ، بہت سے لوگوں لوگوں نے اس بزنس ماڈل کو اپنا لیا اور اپنی خدمات ان غیر ملکی حکومتوں کو پیش کر دیں۔۔۔ جہاں تک انڈین بلاگرز کا تعلق ہے یہ بھی ایک مربوط نیٹ ورک ہے جو ڈی ڈبلیو اور آرٹی جیے نیٹوورکس پر بھی اوپن ایڈ کے نام پر بھارتی حکومت کے ماوتھ پیس بنے رھتے ہیں۔۔۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */