نفاذ اردو اور ہماری ترجیحات - حافظ امیرحمزہ سانگلوی

کوئی بھی قوم و ملک اس وقت تک حقیقی معنوں میں کامیابی و ترقی نہیں کر سکتے، جب تک وہ اپنی قومی زبان کو زندگی کے ہر شعبہ میں لازم و ملزوم نہیں کر لیتے۔ ہر قوم کے رہن سہن، مزاج اور تہذیب اپنی مادری زبان سے اچھی طرح جڑے ہوتے ہیں کہ جس کا ہر ایک لفظ زبان سے اچھی طرح جھلکتا ہے۔ اس لیے اپنی مادری قومی زبان کو چھوڑ کر اوروں کی زبان کا سہارا لینا اور ان کی تہذیب کو اپنانے کی کوشش کرنا اپنی سوچ اور افکار کو تبدیل کرنا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے وطن عزیز’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں روز اوّل سے ہی غیروں کی زبان یعنی انگریزی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اِسے غیر قانونی طور پر وطن عزیز میں نافذ کیا ہوا ہے اور پھر اسے اپنی ترقی و کامیابی کا راستہ بھی سمجھا ہوا ہے۔ جو کہ حقیقت میں بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیا میں بولی جانے والی مختلف دوسری زبانوں کو بطور ثانوی زبان بولنا چاہیے نہ کہ مستقل اور اس سے کسی کو کچھ اختلاف اور انکار بھی نہیں ہے۔ جبکہ اپنی زبان کو اوّلین حیثیت دینی چاہیے ،کیونکہ اسی میں ہمارے وطن عزیز’’پاکستان‘‘ کی شان و شوکت ہے۔ اسی میں کامیابی کا راز پنہاں ہے اور اسی کو اختیار کر کے وطن عزیز کے باصلاحیت افراد کے لیے تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں۔

ہم نے انگریز سے آزادی تو حاصل کر لی مگر انگریزی زبان کی غلامی سے ہم آج بھی نہیں نکلے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کا فرمان واضح طور موجود ہے کہ ملک’’پاکستان‘‘ کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔ ہم پاکستانی باشندے ہیں لیکن اپنی قومی زبان اردو سے زیادہ انگریزی زبان کو ترجیح دے کر توہین قومی زبان کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری قومی زبان ایک دوسرے سے رابطہ اور ما فی الضمیر بیان کرنے کا ایک بہت بڑا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے جب ملک پاکستان میں ہر سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں قومی زبان کو اختیار کیا جائے گا تو سب اداروں اور قوم کی ترقی دن بدن عروج پر جائے گی۔ کیونکہ جو بھی کسی ادارے نے شرائط اور قوانین وغیرہ بنائے ہوتے ہیں وہ سمجھانے والا اچھے طریقے سے اپنا ما فی الضمیر بیان کر کے مخاطب کو سمجھا دیتا ہے اور مخاطب بھی بخوبی سمجھ جاتا ہے۔

میں نے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ انہیں راستے میں جاتے ہوئے کسی جگہ سے کوئی انگریزی کا ورق ملا اور اس نے انگریزی جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی سرسری سا اس کو دیکھا اور بے معنی سمجھتے ہوئے پھینک دیا۔ ایسے ہی اس کے برعکس کئی لوگوں کو بھی دیکھا کہ انہیں کہیں راستے میں یا کسی جگہ سے کوئی ورق ملا اور اس پر قومی زبان اردو میں کچھ لکھا ہوا ہے، تو اسے اس نے دل لگی سے پڑھنا شروع کر دیا اور پڑھ کر اس ورق کو پھینکا نہیں بلکہ مفید سمجھتے ہوئے اچھے طریقے سے لپیٹ کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔

ان دو لوگوں کے مختلف رویوں کو دیکھ کر نفاذ اردو کی ضرورت اور اہمیت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہماری پاکستانی قوم کی علم تک آسانی سے رسائی بھی عملی طور پر نفاذ اردو سے ہی ہے۔ اپنی زبان رائج ہو تو معاشرے میں بسنے والے ہر خاص و عام تک پیغامات پہنچانے میں آسانی ہو جاتی ہے، لیکن جب اس کے برعکس ہو تو پڑھنے میں بھی دشواری اور سمجھنے میں بھی دشواری رہتی ہے۔ اسی طرح اکثر کسی دفاتر میں جانے یا بنک وغیرہ میں جانا ہوتا ہے، تو وہاں جو کوئی پمفلٹ ہوتا ہے یا بنک میں سلپ پُر کرنی ہوتی ہے، تو اکثر ایسے افراد آتے ہیں جو سلپ پر انگلش لکھی ہوئی دیکھ کر خود پڑھ بھی نہیں پاتے اور اسے پُر بھی نہیں کر پاتے وغیرہ…بہرحال اس بات کا بھی بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان کی بھی معاشرے میں بہت اہمیت و ضرورت ہے ۔

اور وقت کی پکار بھی، لیکن یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس کی آڑ میں اپنی قومی زبان ’’اردو‘‘ کو پس پشت ڈال کر بے رُخی اور یتیم نہ کیا جائے۔آج معاشرے میں یہی اہم ضرورت ہے کہ اپنے حلقہ و احباب میں بھرپور طریقے سے اپنے اپنے انداز میں نفاذ اردو کے لیے کوشش کی جائے، جو تحریکیں نفاذ اردو کے لیے کاوشیں کر رہی ہیں ، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا بھرپور ساتھ دیا جائے تاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے فرمان کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */