جوہری نشتر تحقیق - میر افسر امان

برائے امن اور خدمتِ انسانیت

پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن

عام پاکستانی جب اپنے ملک کی ایٹمی قوت کے متعلق سوچتا ہے تو اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ایٹمی قوت ہی پاکستان کو بچائے ہوئے ہے۔ ایٹمی قوت کی وجہ سے ہمارے ازلی دشمن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایٹمی پروگرام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا ترقی کرتا ہوا نواز شریف کے دور میں۱۹۹۸ء میں چھ ایٹمی دھماکوں کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ ہمارے مایا ناز ایٹمی سائنسدانوں نے پاکستان کے چاغی میں پانچ اور خاران کی پہاڑیوں ایک ایٹمی دھماکہ کر کے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو اُس کی اوقات بتا دی۔

مگرایٹمی طاقت صرف ایٹمی بم ہی نہیں کہ جس نے ہمیں دشمنوں سے محفوظ کر دیا۔ بلکہ ایٹمی قوت کے پراُمن استعمال برائے تعلیم،توانائی،صحت اور زراعت بھی ایک انقلابی کام ہے۔ پاکستان کے پر امن ایٹمی پروگرام کی کس وقت اور کس نے بنیاد رکھی۔ کس کے زمانے میں یہ مکمل ہوئی۔ایٹمی قوت کون کون سے کارنامے انجام دے رہی ہے۔ یہ باتیں پہلی دفعہ ۱۵؍ کتابوں کے مصنف، سابق مشیر مرکز اور صوبہ سندھ،چیئرمین رابطہ فورم انٹر نیشنل، چیئر مین ویسٹ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(پاکستان) سینئر صحافی، دفاحی تجزیہ کار، خاص کر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی کاردگی پر درجنوں سیمینار کرانے والے، نصرت مرزا نے اپنی کتاب ’’جوہری نشتر تحقیق ‘‘میں پاکستانی عوام کے سامنے رکھیں ہیں۔

اس کتاب کے بار ے میں موجودہ چیئر مین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن جناب محمد نعیم فرماتے ہیں کہ’’ ایٹمی توانائی کمیشن زراعت،صحت،اور توانائی جیسے سماجی بہبود کے کام و دیگر اہم کاموں میں دن رات مصروف ہے۔ نصرت مرزا صاحب کی کتاب’’ جوہری نشتر تحقیق‘‘ برائے، امن اور خدمت انسانیت میں درج ہیں۔یہ اس طرز کی اُردو میں پہلی کتاب ہے۔پاکستان کے عوام اس کتاب سے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی کاوشوں سے بہتر آشنا ہو سکیں گے‘‘ نصرت مرزا صاحب نے محمد نعیم صاحب کا ٹی وی انٹر ویو بھی سچ ٹی وی پر نشر کیا ہے۔ پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کو سابق کا چیئرمین جناب ڈاکٹر نذیر احمد،ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی، منیر احمد، ڈاکٹر اشفاق، پرویز بٹ،انور علی،ڈاکٹر انصر پرویز اور محمد نعیم صاحبان نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی دی ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان نے ۸دسمبر ۱۹۵۳ء کو ’’ایٹم برائے امن‘‘ کے پروگرام کے تحت اس کی ابتدا کی۔ امریکا سے اس سلسلے میں ۱۱؍ اگست ۱۹۵۵ء کو ایک معاہدہ طے پایا۔امریکا نے پاکستان کو ایک پروٹو ٹائپ ایٹمی ری ایکٹر ر فراہم کر دیا۔۱۹۵۶ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن یا پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن وجود میں آیا۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے ۱۶؍دسمبر ۱۹۷۱ء کو بنگالی قومیت کے نام پر مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ ہمیں ڈرانے کے لیے ۱۹۷۴ء میں پکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر دیے۔ ان ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے جذبہ،غیرت ،جوہر ادراک، جذبہ تحقیق کو جگایا۔ حکیم الامت علامہ شیخ محمد اقبالؒ کے ان اشعار میں جو سوال اُٹھے تھے اُن کے جواب میں کام شروع کیا:۔

آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے!

کھویا گیا کس طرح ترا جوہر اداراک؟

کس طرح ہوا کُند تیرا جوہر اداراک؟

ہوتے نہیں کیوںتجھ سے ستاروں کے جگر چاک؟

مصنف لکھتے ہیں کہ۱۹۶۱ء میں پاکستان نے معدنی اشیاء کے دو مراکز ایک لاہور اور دوسرا ڈھاکہ میں قائم کیے۔ ہمارے سائنسدانوں نے یورینیم کے ذخاہر دریافت کرنے کی ٹھان لی۔ڈیرہ غازی خان میں خام یورینیم کے ذخائرملے۔کینڈین کمپنی سے ۱۹۷۰ء میں کراچی پیرا ڈایز پوائنٹ میں ری ایکٹر لگایا۔ یہ بعد میں کینپ کہلانے لگا۔۱۹۷۴ء کے بھارتی ایٹمی دھماکہ کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی۔ پاکستان ایٹمی سائنسدانوں نے اس کوخود چلایا اور اب تک چلا رہے ہیں۔ اب چین کی مدد سے کینپ ۲ اور کینپ ۳ بھی لگائے

جا رہے ہیں ۔جن سے ۲۰۲۱ء میں بجلی کی فراہمی شروع ہو گی۔ ۲۰۳۰ء تک ۸۸۰۰ میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔۱۹۸۹ء میں چشمہ کے مقام پر چین کی مدد سے چشمہ ۱،چشمہ ۲ ،چشمہ ۳؍ اور چشمہ ۴ سے بجلی کی پیدا وار مل رہی ہے۔مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے تحت تعلیم،صحت،توانائی،زراعت اوراعلی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے۔تعلیم وتربیت کے تحت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پیسٹیک) اسلام آباد میں نیلور کے قریب واقع ہے۔ یہ ادراہ دسمبر ۱۹۶۵ء کو قائم ہوا۔جہاں سے بہترین سائنسدان، گریجویٹ اور ڈاکٹر پڑھ کر نکلتے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈسائنسز(پیاس) ۱۹۶۷ء اسلام آباد میں قائم ہوا۔ یہ ایک تسلیم شدہ ممتاز فیڈرل یونیورسٹی ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وقف ہے۔یہاں انجینئرنگ، قدرتی سائنسز، فیزیکل سائنس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر پاور انجینئرنگ (کنپو) یہ ادراہ کراچی میں واقع ہے۔

ملک کو سند یافتہ آپریٹرز اور انجیئنرنگ جو کینپ ایٹمی بجلی گھر کو چلانے کے لیے تعلم اور تربیت اور دیکھ بھال کی تربیت دیتا ہے۔چشنپ سینٹر فار بیو کلیئر ٹرینینگ(چیسنیٹ) یہ ادراہ چشمہ ایٹمی بجلی گھر کے قریب و جوار میں واقع ہے۔کینیپ کی طرح یہ بھی آپریٹرز اور انجینئرز جو چشمہ بجلی گھروں کو چلانے اور دیکھ بھال کا کام کرنے والوں کوتعلیم فرہم کرتا ہے۔ پاکستان ویلڈنگ انسٹیٹیوت(پی ڈبلیو آئی) یہ ادارہ اسلام آباد میں ۱۹۸۵ء میں قائم ہوا۔ ویلڈنگ ،پلوں کی تعمیر،ریلوے ٹریک وغیرہ بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ صحت کے تحت کینسر کا تحقیقی ادارہ( پی سی آر)پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن نے خدمت خلق میں پورے پاکستان میں لا علاج و موزی مرض کینسر کے مفت علاج کے لیے جدید ترین آلات اور ادویات سے آراستہ ۱۸؍اسپتال قائم کیے ہوئے ہیں۔جوہری ادراہ برائے زراعت (نیا)زراعت و خوراک کے لیے جوہری توانائی برائے زراعت تحقیقی مرکز ۲۲؍ نومبر ۱۹۶۹ء میں حیدر آباد سندھ کے قریب ٹنڈو آدم میں افتتاح کیا گیا۔

اس میں پودوں کی افزائش اور جینیاتی نقشہ پر مثبت تبدیلیاں کر کے پیدا وار کو بڑھانے اور پودوں کے تحفظ کے علاوہ مٹی یا زمین کے سائنسی مطالعہ اور پودوں کے اعضا کے مطالعہ میں یہ ادارہ مہارت حاصل کر چکا ہے۔ جوہری ادارہ برائے زراعت و حیاتیات (نیاب) یہ ادارہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۷۲ء کوزراعت، صنعتی اور سائنسی تحقیق کے لیے فیصل آباد پنجاب میں قائم کیا گیا۔ یہ زراعت اور خوراک کا تابکاری سے بچائو کے لیے قومی تحقیقی ادارہ بن چکا ہے۔یہ ادراہ جوہری توانائی اور جوہری ادارہ برائے خوراک اورزراعت(نیفا) کے زیر نگرانی کا کرتا ہے۔نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایکلچر(نیفا) جوہری ادارہ برائے خوراک و زراعت پشاور خیبر پختونخواہ نے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۲ء سے وزارت خوراک کے لیے پاکستانی جوہری توانائی کمیشن کے دائرہ کار انتظام میں کام شروع کیا۔فصلوں کی پیداوار اور تحفط پر تحقیق کرنے، زمین کو زرخیز بنانے، پانی کا نظام و بندوبست اور خوراک کے وسائل کو قیمتی بنانے کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرنا ہے۔

قومی ادارہ برائے جوہری ٹیکنالوجی اور جینیات سے متعلق انجینئرنگ (نجی) پاکستان جوہری توانائی کمیشن کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ اس نے جوہری ٹیکنالوجی کو استعمال کر تے ہوئے زراعت کی پیداوار کو بڑھانے اورز مین درست کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔اس میں ۱۱۱؍ قسم کی فصلیں تیار کی ہیں۔پاکستان جوہری توانائی کمیشن کسانوں کا دن بھی مناتی ہے۔تحقیق برائے توانائی میں توانائی کے حصول کے ذرائع، پانی کے بہائو جسے ہائیڈرو پاور کہا جاتا ہے۔پاکستان کے پاس ڈیم کی کمی ہے۔ کالا باغ ڈیم بننا چاہیے تھاجو سیاست کی نظر ہو گیا۔ ویسے گلگت بلتستان کا علاقہ پاکستان کی بجلی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔پاکستان کو اسوقت توانائی کی سخت ضرورت ہے۔پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

توانائی کے حصول کا جوہری ذریعہ محفوظ، سستا، دیر پا اور ماحولیات دوست ہے۔ اعلی ٹیکنالوجی صنعتی انجینئرنگ کے تحت ہیوی مکینکل کمپلیکس ۳ ٹیکسلا میں قائم ہیوی میکینیکل کمپلیکس ایک بڑی بھاری انجینئرنگ کمپنی ہے جو ریاستی انجینئرنگ کارپوریشن کی ایک شاخ ہے۔ اس ادارہ کو ۱۹۷۹ء میں چین کی مدد سے قائم کیا گیا ۔ قومی مرکز برائے عدم تخریب جانچ پڑتال ۱۹۷۴ء میں اسلام آباد میں قائم کیا گیا۔ اس ادرارہ نے فضائی حدود،کیمیاوی، بھاری میکینیکل مشینوں یا پزاہ جات کی پیدا وار، بجلی کی پیدا وار، ہر قسم کی گاڑیاں،جہازسازی کا کام ہے۔ قومی ادارہ برائے لیزر اور آپٹرونکس ۲۰۰۷ء میں لیزر پر تحقیق اور اس کی نئی ایجاد اور استعمال کے آگے بڑھانے کے لیے ایک مرکزی ادارہ بنایا گیا۔جو لیزر پر نئی ٹیکناوجی کو پروان چڑھانے کا کام کر رہا ہے۔

پاکستان جوہری توانائی کی ریگولیشن کاا دارہ جو تمام جوہری بجلی گھروں اور اداروں کے سلسلے میں موجود کاوشوں اور تاب کاری کے اخراج کو رکونے اور اُن کو محفوط بنانے کے لیے ،پاکستان نے ۲۰۰۱ء میں ایک مکمل خود مختیار ادارہ کی داغ بیل ڈالی جسے پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جوہری ایندھن کاحصول اور استعمال کے لیے پاکستان نے ڈیرہ غازی میںیورینیم کی سپلائی کی فراہمی کا نظام وضع کر رکھا ہے۔ یہ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای ایف اے) کے زیر نگرانی ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔جوہری توانائی سستی اور محفوظ ہے۔ اس لیے پاکستان اسے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو۲۰۳۰ء تک ۸۸۰۰ میگاواٹ بجلی مل جائے گی۔جوہری توانائی سے ۳۱ ؍ممالک ۳۹۲ گیگا واٹ بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ زراعت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زرعی ادارے ٹنڈو آدم،فیصل آباد،لاہور اور پشاور میں کام کر رہے ہیں۔ ۱۱۱؍ اقسام کے بیجوں کو متعارف کرایا گیا ہے۔چاول کی ۳۰ کپاس کی ۲۰،گندم کی ۲۰ ؍ اور ۱۲؍ فی صددیگر اجناس حاصل کی جارہی ہیں۔

لائیو اسٹاک میں بھینس، گائے اور دیگر جانوروں تحقیق ہو رہی ہے۔ساہیوال کی زیبی گائے دنیا میں بہترین دودھ دینے والی بہترین گائے سمجھی جاتی ہے۔ صحت کے شعبہ میں پاکستان انرجی کمیشن نے کینسر کے علاج کے لیے ۱۸ مراکز قائم کیے ہوئے ہیں۔تعلیم کے میدان میں کنپو کے نام سے چار بجلی گھروں کا چلانے والوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔چشمہ کے مقام پر چشنم کے نام سے انجینئر پیدا کیے جارہے ہیں۔ غذا کے تحفظ کے متعلق یہ بات ہے کہ کاشتکار پاکستان ایٹمی کمیشن کے تیار کردہ بیج استعمال کر کے بہتر پیداوار حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پاکستانی جوہری جوانائی کمیشن نے پیش بہا خدمات دی ہیں۔پنسٹیک کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ کام کر رہا ہے۔این ایس جی کے تحت نیو کلیئر سپلائی گروپ کو کہتے ہیں۔

پہلے پانچ ایٹمی ممالک تھے۔ بھارت نے ۱۹۷۴ء میں دھماکے کر کے چھٹا ملک بن گیا ۔ پاکستان نے۸ ۱۹۹ء پانچ چاغی اور ایک خاران کی پہاڑیوں میں ایٹمی دھماکے کر کے ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ دنیا بھارت کے ایٹمی ملک ہونے پرواجبی سا رد عمل کیا۔ مگر پاکستان کا ایٹمی ہونا انہیں ہضم نہیں ہو رہا۔ پاکستان دشمنی میں نیو کلیئرسپلائر ز گروپ تشکیل دیا گیا۔پہلے ۷سے۸ممبران تھے۔ پھر ۴۸ ہو گئے۔ ان سب کو ویٹو پاور حاصل ہے۔سوائے پاکستان کے دوست ملک چین کے سارے ممبران بھارت کو اس کا ممبر بنانے پر راضی ہیں۔ جبکہ پاکستان کو ممبر نہیںبنایا جارہا۔چین کہتا ہے کہ جب تک پاکستان ممبر نہیں بنے گا بھارت بھی نہیں بن سکتا؟پاکستان جوہری پروگرام کے لیے توصیفی اسناد ملی ہیں۔پاکستان ہمیشہ سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلائو کے خلاف ہے۔اس لیے امریکا نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے۔ عالمی سربراہی کانفرنسز برائے ایٹمی تحفظ کی پہلی جو ۲۰۱۰ء امریکا واشنگٹن ڈی سی میں،دوسری۲۰۱۲ء جنوبی کوریا سیول میں تیسری ۲۰۱۴ء نیدر لینڈ( ہالینڈ) چوتھی ۲۰۱۶ء امریکا میں منعقد ہوئیں۔ ان سب میں پاکستان نے بھر پور شرکت کی۔

مصنف نصرت مرزا صاحب رابطہ فورم انٹر نیشنل کے سربراہ ہیں۔ اس ادارے کے تحت یکم مارچ ۲۰۱۴ء کراچی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں ایٹمی سائنسدان، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز اور دیگر دانشورں کے سامنے ایٹمی توانائی کے بجلی گھروں کے متعلق سوالات کے جوابات پیش کئے گئے۔ ۱۰؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو کراچی میں دوسرا سیمینار منعقد کر کے عوام کے ذہنوں میں ڈالے گئے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ عوام کو بتایا گیاایٹمی بجلی گھر ماحولیات دوست اور سستی بجلی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک اور سیمینار ۴ جون ۲۰۱۵ء کو کراچی میں منعقد کر کے عوام کو بتایا گیا کہ جوہری بجلی گھر سمندری مخلوق کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ان سیمینار کے علاوہ مذید آگاہی کے لیے نصرت مرزا صاحب نے۲۴ دسمبر ۲۰۱۷ء کو پاکستان ایٹمی انجی کمیشن کے چیئر میںمحمد نعیم صاحب اور جناب شاہد ریاض کے تعاون سے کراچی کے پروفیسروں ، اخبارات کے ایڈیٹروں، طلبا کی ایک بڑی تعدادکو پاکستان جوہری توانائی کمیشن کے تعاون سے کراچی میںکے ون کے ٹو اور کے تھری بجلی گھروں کا دورہ کرایا۔

صاحبو! یہ ہیںپاکستان ایٹمی انرجی کمیشن کی ترقیاں، جسے نصرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب’’ جوہری نشتر تحقیق ‘‘برائے امن اور خدمتِ انسانیت میں بیان کی ہیں
۔ایٹمی پروگرام صرف ایٹمی بم ہی نہیں بلکہ پاکستان کا پر امن ایٹمی پروگرام انسانیت کی خدمت بھی کر رہا ہے جسے دنیا نے توصیفی سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیے ہیں۔ نیو کلیئر سپلائی گروپ کے ۴۸ ملکوں کو چاہیے ہے کہ پاکستان سے تعصب نہ برتیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائی گروپ کا ممبر بنائیں تاکہ پاکستان انسانیت کی مذید خدمت کرے۔ بقول شاعرخواہ میر درد:۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com