ســفر (قسط 6) - عظمی ظفر

یہ جتنے رشتے ناتے ہیں

اثـاثـــہ ہی بنــاتے ہیں

مــحبت آزمـــاتے ہیں

مـحبت بانٹ جاتے ہیں

جو ان سے دور جاؤ گے

اکیــلے ہوتے جاؤ گے

کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے روک لیے جائیں مگر انسان کی خواہشات سے بڑھ کر گردشِ حالات ہوتے ہیں، جن کے دائروں میں گھومنا پڑتا ہے۔ محسن کلیم کی زندگی میں تمکین کے نام کا بھنور بننے لگا تھا۔ بچپن سے اس گھر میں آناجانا تھا۔ چاندنی بوا نے اسے بھی اپنے بچوں کی طرح پالا تھا۔ وہ بھی ان کی عزت اپنی والدہ کی طرح کرتا تھا۔ایک دن یونہی باتوں ہی باتوں میں چاندنی بوا کے ہاتھ میں تمکین کے نام کے جگنو چھپا دیے تھے کہ وقت آنے پر نانا میاں سے مانگ کر لے جاۓ گا۔"خدا جانے کیا بات ہے؟ کیوں بلایا چاندنی بوا نے؟" محسن یہ سوچتا ہوا کمرے کے پاس آیا۔

"میں آجاؤں بوا؟" اس نے اجازت چاہی۔"ہاں بیٹا! ہم ادھر ہی ہیں آجاؤ" چاندنی بوا کی آواز میں گھبراہٹ نمایاں تھی۔ ایک جانب تمکین کھڑی دوپٹے کا کونا مروڑ رہی تھی۔محسن نے ایک نظر اس پر ڈالی پریشانی اس معصوم چہرے پر بھی نمایاں تھی۔ محسن نے تشویش سے پوچھا،"بوا! سب خیریت تو ہے نا؟" چاندنی بوا نے زیور کی پرچی اور گلوبند اس کے سامنے کردیا اور پوری بات اس کے گوش گزار کردی۔ محسن کے لیے یہ بات بہت حیران کردینے والی تھی ادکاری کی اڑی اڑی خبریں سن رہا تھا مگر معاملہ اس حد تک چلا جاۓ گا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔"کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟ ہمیں اختلاج ہو رہا ہے، دل بیٹھا جا رہا ہے، جلدی کچھ کرو اور یہ بھی لے لو، یہ مزید پیسے ہیں۔" چاندنی بوا ہاتھ مسلے جارہی تھیں۔"اوہو ،، بوا یہ پیسے تو اپنے پاس رکھیں۔" وہ خفگی سے بولا۔ "آپ رسید مجھے دیں میں دیکھتا ہوں یہ معاملہ،ملازم کو واپس بھیجتا ہوں باقی سب میں سنبھال لوں گا، نانا میاں سے کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ فی الحال تو آپ عارفین چچا کے لیے چائے بھیجیں اور کھانے کا انتظام کریں۔"

" اۓ!! یہ تیرے عارفین چچا۔۔۔ سچ پوچھو تو زہر لگتے ہیں مجھے یہ موۓ شاعر واعر ، بیوی سے لڑ کر مہینوں جم کر بیٹھ جائیں گے یہاں، چاۓ پر چاۓ اور بھٸی واہ بھٸی وا !!! کرتے رہیں گے ہاں نہیں تو۔۔۔"چاندنی بوا کا مسئلہ کیا حل ہوا تھا، ان کی تو جیسے توانائی ہی لوٹ آئی تھی، جون ہی بدل گٸی تھی۔محسن اس طرح انھیں بولتا دیکھ کر حق دق رہ گیا۔تمکین کے منہ سے ہنسی کے فوارے چھوٹ گئے، روکتے روکتے بھی ہنستی گٸی۔" بوا آپ بھی نا!!!"محسن نے اس ہنسی کی جلترنگ کو دیکھا مگر وہ اس میں گم ہوکر کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیے جلدی وہاں سے نکل آیا۔

فاطمہ کی شادی کے دن قریب آ رہے تھے، وہ تیاریوں میں مصروف تھی۔ قندیل کو آج یونیورسٹی بھی نہیں جانا تھا۔ اس لیے گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر وہ خود ہی اس سے ملنے چلی آئی۔ راحیلہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہوگئیں۔ وہ فاطمہ کے لیے بہت خوبصورت سی شال بن رہی تھیں۔ قندیل خاموشی سے شال کے کنارے کی نرم سطح کو چھونے لگی۔"کیا بات ہے جنابہ؟ جب سے یونیورسٹی جانے لگی ہیں ہم سے تو بات کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔" فاطمہ نے دوپٹے پر شیشہ بٹھاتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں میں بھی دیکھ رہی ہوں کچھ دنوں سے بہت چپ چپ سی ہے، یقیننا بھابھی نے ڈانٹ دیا ہوگا،،قندیل ان کی باتوں کا برا مت منایا کرو۔" راحیلہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔قندیل نے یاسیت بھری ایک مسکراہٹ بکھیری مگر چونکہ ماں کی وہ بات ہر پل کچوکے لگا رہی تھی اس لیے راہ ملتے ہی آنسو چھلکنے لگے۔

" ارے ،،، ارے!!! تمہیں کیا ہوا ؟ یہ اچھا ہے رخصتی میری ہونے والی ہے اور رو تم رہی ہو۔" فاطمہ نے حیریت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔"کچھ نہیں بس ویسے ہی دل بھر آیا تھا۔" قندیل نے بات کو ٹالنا چاہا۔ راحیلہ دل مسوس کر کے رہ گئیں، پوچھ کر بھی کیا کرتیں جانتی تھیں۔ وہ تمکین کی بیٹی ہے، حالات سے لڑ جائے گی مگر منہ سے شکوہ نہیں کرے گی۔ جو آج تک شوہر کی سرد مہری کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں اور لب پر شکوہ نہیں لاتی تھیں۔ وہ بیٹی کی تربیت میں شکایت کرنا کیسے ڈال سکتی تھیں۔راحیلہ کا ذہن ماضی پر دستک دینے لگا جب اس کے اکلوتے لاڈلے خوبرو بھائی محسن کلیم نے امی کے سامنے چہکتی بلبل تمکین کا نام لیا تھا کہ وہ جلد راحیلہ اور ابا کے ساتھ جاکر نانا میاں سے اس کے رشتے کی بات کریں۔ راحیلہ تو مارے خوشی کے بھائی کے سر ہوگئی تھی۔

"سچی بھائی !!! آپ نے تو میرے دل کی بات کردی، تمکین باجی تو مجھے اور امی دونوں کو پسند ہیں، الله !!! کتنا مزہ آئے گا نا امی بھائی جان کی شادی میں۔" راحیلہ تو خوشی سے دیوانی ہو رہی تھی مگر محسن کی والدہ تذبذب کا شکار تھیں کہ بڑی بہن کے ہوتے ہوۓ تمکین کا ہاتھ کیسے مانگیں گی؟راحیلہ تو بھائی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر ہی واری صدقے ہوئے جارہی تھی۔ڈھولک بجا کے سہیلیاں بلا کے،بندڑے کی گیت میں گاؤں گی اپنے بھیا کو دولہا بناوں گی!!!

کچھ دن سے آتے جاتے محسن کو دیکھ کر راحیلہ کی گنگناہٹ شروع ہو جاتی، تبسم بیگم بھی بیٹے کی پسند کا مان رکھتے ہوئے جانے کے لیے مان گٸیں تھیں مگر یہ صرف دو دن کی خوشی تھی۔بجھا بجھا سا محسن اس شام جب گھر آیا تو راحیلہ جو دوپٹے پر ریشم کے پھول کاڑھ رہی تھی، فریم چھوڑ چھاڑ بے تابی سے کہنے لگی،
"بھائی جان!!! امی پوچھ رہی ہیں کہ کس دن چلیں نانا میاں کے گھر، بلکہ میں تو کہتی ہوں ابھی ہی چلتے ہیں۔" راحیلہ تو جیسے دیوانی ہو رہی تھی،بچپن کی دوست کو بھائی کی دلہن بنانے کا ارمان جو پورا ہونے جا رہا تھا۔"راحیلہ،،،!!! " محسن کے لہجے میں بلا کا سناٹا تھا۔ وہ ٹھٹھک کر رہ گٸی،،،" جی بھائی جان؟"" امی سے کہنا کل ہی چلی جائیں اور نانا میاں سے ،،، ثروت،،، کا ہاتھ مانگ لیں،،،" محسن نے قدرے رک رک کر اپنی بات مکمل کی ،"میں زبان دے آیا ہوں کہ ثروت کے لیے راضی ہوں اور تمکین والی بات اب کبھی نہیں ہوگی اس گھر میں سمجھیں!!!"

یہ کہہ کر وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔اس خبر کو سن کر بے یقینی کی کیفیت میں راحیلہ نے اسے جاتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں جب سوئی چبھی تو اسے درد کا احساس ہوا لیکن وہ محسن کی تکلیف کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی۔" میرے اللہ یہ کیا ہو گیا،،"خوشی اتنی تھوڑی بھی ہوتی ہے اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔"چچی جان ! آپ نے اس لائن میں غلط ڈیزائن بنادیا۔" قندیل نے راحیلہ کے سوچوں کا در حال میں کھول دیا۔

آج کافی دنوں بعد سر شام جب ثروت واپس آئی تو بہت خوش نظر آرہی تھی ورنہ تو وہ رات کو ہی واپس آتی جب تمکین سو چکی ہوتی تھی۔ امتحانات کی وجہ سے وہ خود بھی اس واقعہ کا ذکر کرنا نہ چاہتی تھی۔ کمرے میں آ کر بستر پر پڑ گٸی اور لیٹے لیٹے گاتے ہوئے ہاتھوں کو رقص کے انداز میں گھمانے لگی، اس بات سے یکسر بے نیاز کہ تمکین کتاب کھولے کچھ یاد کر رہی تھی۔"باجی!!" تمکین نے کتاب بند کی،"تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ تم نے کیا حرکت کی ہے۔اگر نانا میاں کو پتہ چل جاتا تو انھیں کتنا دکھ ہوتا۔" ہوا میں لہراتے ثروت کے ہاتھ رک گئے۔"کک کیا مطلب ہے تمہارا؟؟" چوری تو بہرحال چوری ہی تھی ثروت بھی اس لمحے گھبرا گئی۔
مگر اگلے ہی پل جی کڑا کرکے بولی، "تم کہنا کیا چاہ رہی ہو یہ پہلیاں مت پوچھا کرو گھریلو عورتوں کی طرح" اس نے اپنا خوف رعب میں زائل کیا۔

"تم نے نانی اماں کا گلوبند کیوں بیچا؟" تمکین نے بھی ہمت کرتے ہوئے غصے سے کہا۔"آخر تمہیں اتنی بڑی رقم کی کیا ضرورت پڑ گٸی اچانک، تم نانا میاں سے مانگ لیتی، پہلے بھی تو ان کے پیسے اڑاتی رہی ہو ۔۔۔"تمکین نے صرف دو سال کے چھوٹے پن کو بُھلا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔" پہلی بات تو یہ کہ وہ زیور امی کا ہے نانی اماں کا نہیں اور دوسری بات یہ کہ تم ہوتی کون ہو میرے معاملے میں بولنے والی، میں جو بھی کروں، اپنا برا بھلا سمجھ سکتی ہوں ،،،" ثروت لڑنے پر اُتر آئی تھی۔"باجی،، وہ زیور نانی کا ہے جو امی نے ہمارے لیے ہی رکھا تھا، وہ تو شکر ہے کہ محسن بھائی نے اس معاملے کو سنبھال لیا۔ نفیس صاحب نے آج یہ واپس بھجوا دیا، مگر آخر کیا کرنا ہے آپ کو پیسوں کا ؟؟؟"تمکنت نے گلوبند اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔

ثروت آنکھوں دیکھی مکھی تو نگل نہیں سکتی تھی اپنی جھینپ مٹانے کے لیے ہچکچائی ،، " چلو اچھا ہوا اب یہ گلوبند تم ہی رکھنا مجھے نہیں چاہیے گلے کا پٹہ ہونہہ،،،"اس بحث کے بعد دونوں خاموش ہوگئے مگر سچ کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور نانا میاں باہر کھڑے وہ کان بن چکے تھے۔ مگر ان کا دل دبتا جا رہا تھا، اس لڑکی کو کیسے لگام دیں۔ کچھ گھنٹوں قبل طلال نے جس طرح اخباری نماٸندوں کے سامنے جو گھٹیا بات اچھالی تھی وہ بمشکل سن کر گھر پہنچے تھے کہ ثروت سے اس کی تردید کروا لیں گے مگر یہاں تو کہانی ہی کچھ اور تھی۔

وہ چپ چاپ وہاں سے چلے آئے۔جبکہ دل شدت ِ غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ کام بہت تھے، لاہور جانا بھی اشد ضروری تھا، کئی جلسے منتظر تھے۔ سالوں کی محنت ڈوبنے والی تھی۔۔۔ جب یہ سفر شروع کیا تھا تب وہ خود جوان تھے لیکن اب بالوں کی سفیدی نے ان کے بڑھاپے کا سفر تیز کردیا تھا۔ عمرِ رفتہ میں کئی تلاطم آئے، بیگم داغ مفارقت دے گئیں، اکلوتی اولاد لاڈلی بیٹی اور داماد کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا، نواسیوں کو سینے سے لگا کر رکھا، لوگوں کی نظروں سے چھپا کر حفاظت کرتے رہے مگر کبھی تھکے نہیں ۔۔۔سیاسی حریفوں نے کئی چالیں چلیں، انھوں نے ہار نہیں مانی مگر جب ثروت کے شوق اور ارادوں کی خبریں طلال سے ملیں تو انھیں لگا ان کی عزت تو مٹی میں مل گئی ۔

کس قدر مکارانہ لہجے میں سب کے سامنے کہا تھا اس نے،"احتشام الدین صاحب سیاست میں دوسروں کی بیٹیوں کے سروں پر چادر رکھنا آسان ہے، مگر اپنی نواسی کے بارے میں کچھ بتائیں گے جو کلاسیکل ناچ سیکھنے پڑوسی ملک جا رہی ہے،،،" طلال نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا۔ اگر ساتھی لیڈر اس لمحے ہمراہ نہیں ہوتے تو شاید وہ اس کا منہ نوچ لیتے، گھر آکر نیا امتحان سامنے تھا۔بہ مشکل اپنے کمرے تک آئے۔اسی اضطراب میں چند لمحے گزرے کہ جب محسن کی آمد میں انہیں اپنے مسٸلے کا حل نظر آیا اور انھوں نے جھکی گردن کے ساتھ اپنے بڑھاپے کی لاج اس کے سامنے بلکہ اُس کے قدموں میں رکھ دی لیکن افسوس کہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر نہیں دیکھا جہاں ساری تمنائیں دم توڑ رہی تھیں۔۔۔

چاہیے دنیا سے ہٹ کر سوچنا
دیکھنا صحرا، سمندر سوچنا

مار ڈالے گا ہمیں اس شہر میں
گھر کی تنہائی میں اکثر سوچنا

دشمنی کرنا ہے اپنے آپ سے
آئینہ خانے میں پتھر سوچنا

چاندنی، میں، تو، کنارِ آب جو
بند آنکھوں سے یہ منظر سوچنا

ایک پل ملنا کسی سے اور پھر
اہلِ فن کا زندگی بھر سوچنا

چاند ہے یا اس کے پیکر کے خطوط
جھیل کی تہہ میں اتر کر سوچنا

رفعت دار و عروجِ بام کو
دوستو نوک سناں پر سوچنا

جاگتے رستوں میں کیا کچھ کھو گیا
اوڑھ کر خوابوں کی چادر سوچنا

خشک پتوں کی طرح محسن کبھی
تم بھی صحرا میں بکھر کر سوچنا

دکھ اور آنسو تھے جو حرف حرف موتی بنا کر الفاظ کی صورت میں محسن نے اپنی ڈائری میں خوبصورت انداز میں لکھے تھے۔کھلے صفحے پھڑ پھڑا رہے تھے، قلم بھی کھلا پڑا سوکھ گیا تھا، شاید وہ لکھتے لکھتے سو گیا تھا۔راحیلہ جو بھائی کو چائے دینے آئی تھی یہ منظر دیکھ کر بے اختیار رو پڑی۔ جاری ہے...........

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com