2020ء سال کے6 ماہ - ایاز رانا

جب سے سال 2020ء کا آغاز ہوا، اس کے بارے میں تمام جوتشیوں نے اسے بہترین سال قرار دیا تھا۔ اگر میں غلط ہوں تو آپ سالِ نو سے قبل کے پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام نکال کر دیکھ لیں، کیا بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے، مگر ان میں سے کچھ نے اس سال 6 گرہن کی بات کی تھی یعنی چاند اور سورج گرہن جو اس سال 6 کے قریب ہوں گے۔ اس کے کیا معنی ہے؟ مجھے نہیں معلوم! میں اس علم سے بالکل لا علم ہوں۔

حاصل معلومات کے مطابق، دنیا میں ہر بیس سال بعد کوئی نہ کوئی ایسی وبا آتی رہی ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا یا جہاں جہاں وہ وبا پہنچی، اس نے تباہی پھیلائی اور ٹھیک 20سال بعد کرونا وائرس کی وبا بھی آئی ہے، جس کے بارے میں ابھی تک دنیا تعین ہی نہیں کرپارہی اس کی کیا کیا علامات ہوسکتی ہیں اور نہ اس سے بچاؤ کے لیے کوئی تجربہ ابھی تک کامیاب ہوا ہے۔

باقی اس سے متعلق بہت کچھ بتایا گیا ہے اور بتایا بھی جارہا ہے، مگر شاباش ہماری قوم پر جو ابھی تک اس وبا کو مذاق ہی سمجھ رہی ہے۔ میں نے سنا ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت کرونا سے مرنے والے ہر ایک مریض پر حکومت کو گیارہ ہزار ڈالر دیئے جائیں گے۔ اب یہ خبر کتنی جھوٹی یا سچی ہے، اس سے درکنار مگر خبر نے پاکستان میں لوگوں کے اندر یہ تاثر چھوڑ دیا کہ بس کرونا ڈرامہ ہے۔ اگر اس کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اس طرح کہتی کہ جس ملک میں کرونا سے لوگ صحت یاب ہوں گے، ان کو دس ہزار ڈالر دئیے جائیں گے، تو شاید ابھی تک کرونا وائرس کا دنیا سے خاتمہ ہوچکا ہوتا۔ ایسا میرا ماننا ہے۔

خیر اس کرونا وائرس نے سب سے زیادہ ان انڈسٹریز کو نقصان پہنچایا جن میں انسان نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ جس میں پہلا نمبر صحت کا آتا ہے، چاہے ادویات، جدید آلات دریافت کیے گئے، مگر کرونا وائرس نے تمام دریافتوں کورد کردیا اور انسان کو قدرت کے سامنے اس کی حیثیت دکھادی۔ ہم امریکا اور یورپ کے ممالک میں دی جانے والی صحت کی سہولیات اور ترقی کی مثالیں کئی زمانوں سے سنتے چلے آرہے ہیں، مصنوعی دل، لیزر کے ذریعے آپریشن اور پتا نہیں کیا کیا۔۔۔ مگر وہاں کرونا وائرس نے کیا تباہی کی، آپ سب لوگ بخوبی جانتے ہیں، لیکن اس وبا نے اس شعبے پر قسمت کی دیوی کو فنڈز کی فراہمی اور ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے مہربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس کے بعد دوسری سب سے زیادہ ترقی یافتہ انڈسٹری، ائیرلائن انڈسٹری ہے۔ کرونا وائرس نے اسے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اب ایسے جہاز آگئے ہیں، جس میں آپ الگ اپنا کمرہ لے کر آرام دہ سفر کرسکتے ہیں۔ 17 سے 18 گھنٹے کا فضائی سفر اب کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا، مگر کرونا کے خوف نے ائیرلائن انڈسٹری کا بھٹہ ایسا بٹھادیا کہ نامی گرامی ایئرلائنز دیوالیہ کے قریب آگئیں۔

کرونا وائرس نے ہماری زندگی بدل ڈالی ہے۔ میں نے نائن الیون کے بعد دنیا کو بدلتے دیکھا اور اب 2020ء نے پوری دنیا پر جمود طاری کردیا اور لوگوں کا میل ملاپ اور رہن سہن ہی بدل گیا۔۔۔ میں نے اپنے اردگرد کرونا سے پہلے لوگوں کوبہت سفر کرتے دیکھا ہے۔ اندرون ملک صبح جانا شام کو واپس آنا۔۔۔ لاکھوں روپے کا بڑی کمپنیوں کا فضائی بجٹ جو کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بچ رہا ہے اور مزید ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ اب لمبے سفر اور فضائی رسک سے بچنے کے لیے آن لائن میٹنگ کو ہی ترجیح دیں گے، جس سے ایئرلائن انڈسٹری پہلے جیسے مزے نہیں لے سکے گی۔

اس کے علاوہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بھی پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ تر بند ہی ہورہی ہے۔ اگر میں کراچی کی بات کروں تو بڑے بڑے نامی گرامی ریسٹورانٹ بند ہوگئے، اور انھوں نے جو جگہ کرائے پر لی تھی، اب ان کو خالی کردیا ہے۔ اسی طرح شادی ہال اور ان سے جڑے کاروبار اور دیگر اور لوگ اس کرونا وائرس کی نذر ہوگئے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کے بارے میں کیا لکھوں، جب سے اقتدار میں آئی ہے، پاکستان کی سیاست اور دو فیصد اشرافیہ کو سمجھنے میں غلطی کرگئے اور میں اور آپ یہ منظر دو سال سے دیکھ رہے اور بالآخر میرا جو خوف تھا، اس کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور وہ ہے مائنس ون۔ یعنی کیا عمران خان بھی پاکستان کی تاریخ میں پانچ سال پورے کرنے والا پہلا وزیراعظم نہیں ہوں گے؟ یہ اپنے آپ میں خود ایک بہت بڑا سوال ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com