معاشی معجزہ - پروفیسر جمیل چودھری

ہم اپنے ملک کے معاشی حالات کااکثرذکر کرتے رہتے ہیں۔اورکوشش کرتے ہیں کہ کسی شعبہ سے کچھ اچھا ہونے کاپتہ چل جائے۔میری توکوشش بھی ہوتی ہے کہ صرف منفی پہلوؤں کاذکرنہ ہو۔بلکہ مثبت باتوں کابھی ذکر کیاجائے۔اندھیروں کے ساتھ اجالوں کی بات بھی کرتارہتا ہوں۔میری تحریوں کاآخری مجموعہ جو ایک سال پہلے شائع ہوا اس کا نام بھی میں نے"اندھیرے اجالے"رکھاتھا۔اگرگلاس آدھا بھراہوا ہواور آدھا خالی ہوتو آدھے بھرے ہوئے کاذکر اکثرکرتارہتا ہوں۔پروفیسر راؤ جلیل احمد نے دیباچہ میں میری اس فکر کی تعریف کی تھی۔

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراخ

اندھیری شب میں ہوچیتے کی آنکھ جس کا چراغ

آج میرا دل چاہتا ہے کہ پاکستان کے متصل ہی ملک میں ایک بڑے معاشی معجزے پرگفتگو کی جائے۔جب میں نے سترکی دہائی کی ابتداء میں پڑھانا شروع کیاتھا۔توکتابوں میں دیئے ہوئے اعدادوشمار میں پاکستان کی معاشی حیثیت پڑوسی ملک چین سے بہتر بتائی جاتی تھی۔فی کس آمدنی توچین سے زیادہ ہی تھی۔اخبارات میں یہ بھی پڑھتے تھے کہ وزیراعظم چین چواین لائی جب پاکستان کے پہلے دورے پرآئے تھے۔تویہاں انہوں نے مشین ٹولز فیکٹری کراچی اور بیکو فیکٹری لاہور کا وزٹ کیاتھا۔تب ان دونوں فیکٹریوں میں بہت اچھی مشینری وآلات تیارہوتے تھے۔اخبارات میں یہ رپورٹ ہواتھا کہ یواین لائی نے یہ کہاتھا کہ ہم بھی چین میں اسی طرح کے کارخانے لگائیں گے۔دوستو ذرا تصور کروکہ آج کل کی سپر پاور تب پاکستان کی فیکٹریوں کی تعریف کیاکرتی تھی۔پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں اور بھی ایشیائی ملک ہمارے بہتر معاشی حالات کودیکھنے آتے تھے۔

ہمارا دوسرا پنج سالہ منصوبہ(1960-65)جب مکمل ہوا تو اس کی کامیابی کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی تھی۔میں تو انہی 2۔دہائیوں کو پاکستان کاسنہری دورکہاکرتاہوں۔چین میں تب مرکز مرتکز نظام یعنی کمیونزم تھا۔معیشت بڑھ تو رہی تھی لیکن اپنی ایک خاص سست رفتار سے ۔ماؤ اورچواین لائی کے بعد نئی لیڈرشپ نے ملکی معیشت کو کھول دیا۔پرائیویٹ شعبہ کو بھی کاروبار کی آزادی ملنی شروع ہوگئی ۔باہرسے سرمایہ اورٹیکنالوجی آنی شروع ہوئی۔یہ کام1978ء سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔گزشتہ 4۔دہائیوں میں ہی یہ معجزہ ہوا۔کہ اب چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔چینیوں نے بے شمار ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری قوم کارکن ہے۔لیبرفورس میں78کروڑ لوگ شمار ہوتے ہیں۔ذراتصور کریں کہ یہ78کروڑ ایک تنکا اٹھا کررکھیں گے۔تو وہ ایک بڑاڈھیر شمار ہوگا۔معاشی ترقی تو دنیا کے اور ممالک نے بھی کی۔لیکن انکی ترقی کادورانیہ صدیوں پرمشتمل ہے۔

لیکن یہاں صرف4۔دہائیوں میں ہی سب کچھ ہوگیا۔آجکل چین کی جی ڈی پی 14.140 ٹریلین ڈالر شمارہوتی ہے۔امریکہ کے بعد یہ دوسری بڑی خام قومی پیداوار ہے۔گزشتہ دہائیوں میں اوسطاً 7۔فیصد سالانہ شرح نمو کے لہاظ سے چینی معیشت میں اضافہ ہوا۔اور ایک ارب39کروڑ آبادی کے ہوتے ہوئے فی کس سالانہ آمدنی بھی10۔ہزارڈالر فی کس سے بڑھ چکی ہے۔اور چین میں مہنگائی کی شرح صرف3فیصد سالانہ۔اور2018میںغربت سے نیچے کل آبادی کا1.7فیصد رہ گیاتھا۔اور اب آکرHuman Development Index (.758)ہے جو بڑا اونچا شمار ہوتا ہے۔کوئی زمانہ تھا کہ لوگوں کی اکثریت زراعت سے وابستہ تھی۔لیکن اب صرف27۔فیصد لوگ جدید انداز کی زراعت سے وابستہ ہیں اور29فیصد لوگ صنعتوں میں کام کررہے ہیں۔بے روزگاری کی شرح2020کے شروع میں4.3فیصد تھی۔چین میں اب دنیا بھر کی کمپنیوں اوراشیاء سازی کے کارخانے ہیں۔جہاں لیبر اورخام مال سستا ہو۔سرمایہ ادھر ہی رخ کرتا ہے۔

اب سادہ سے سادہ اشیاء سے لیکر پیچیدہ اور اعلیٰ ترین درجے کی مشینیں چین میں ہی تیار ہوتی ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی معیشت شمارہونے والا امریکہ چین سے20فیصد اشیاء درآمد کرنے پرمجبور ہے۔اور ایسے ہی یورپی یونین۔جاپان اوربھارت بھی بے شمار معیاری اورسستی اشیاء درآمد کرنے پرمجبور ہیں۔چین کے پاس اکتوبر2019ء تک ڈالر کابڑا ذخیرہ موجود تھا۔یہ مقدار3.219ٹریلین ڈالر تھی۔چین اور امریکہ کی لفظی جنگ چلتی رہتی ہے۔دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوتا۔چین کو پتہ ہے کہ اسکی برآمدات کا20فیصد حصہ صرف امریکہ میں فروخت ہوتا ہے۔چینی اشیاء کی طلب کم ہونے میں نہیں آرہی۔ٹرمپ چاہے درآمدی ٹیکسز میں اضافہ بھی کردے۔تب بھی چین کی سستی اور معیاری اشیاء امریکی خریدنے پرمجبور ہوتے ہیں۔یہی صورت حال جاپان ،یورپی یونین،بھارت اور برازیل جیسے ملکوں کی بھی ہے۔چین کی بنی ہوئی اشیاء نے دنیا کی منڈیوں پراپنے معیار کے لہاظ سے قبضہ کرلیاہے۔دنیا مجبور ہے کہ وہ چینی معیاری اور سستی اشیاء کے بغیر رہ نہیں سکتے۔چین اب دنیا کی مشین سازی اور اشیاء سازی کامرکز شمارہوتا ہے۔

چین سے بحری جہاز اور ریل گاڑیاں ہروقت تیار مال لیکر دنیا کے مختلف ممالک کی طرف روانہ ہوتی رہتی ہیں۔اب تک چین کاترقی کامرکز صرف مشرقی چین تھا۔اب چین نے شمال اورمغرب کی طرف توجہ کرلی ہے۔سی پیک راستے کی ضرورت بھی چین کو اسی لئے محسوس ہوئی۔مغربی چین کے علاقے کی تیاراشیاءShortest routeسے گوادر کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک آسانی سے جاسکتی ہیں۔اور یہ راستہ اب استعمال ہوناشروع ہوگیا ہے۔چین میں یہ معاشی معجزہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ہوگیا ہے۔1970ء کے اعدادوشمار اور2020ء کے اعدادوشمار ان دونوں سالوں کے اعدادوشمار کاکوئی مقابلہ ہی نہیں۔اگرامریکی حکومت پرسرکاری قرضہ دیکھا جائے تو امریکہ چین سے بھی معاشی لہاظ سے کافی پیچھے نظر آتا ہے۔دفاع کا انحصار ہوتا ہی معاشی قوت پر ہے۔چین نے جدید ٹیکنالوجی کی بناء پر پہلے معیشت پرتوجہ دی اور اب آکر اس نے دفاع میں جدید ترین ہتھیار تیارکرنے شروع کئے ہیں۔

امریکہ کا دفاع بھی معاشی قوت پرکھڑا ہے۔مورخ پال کینڈی نے اپنی اہم کتاب "عظیم طاقتوں کاعروج وزوال"میں جدید چین کاتفصیلی ذکرکیا ہے۔یہ کتاب80ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی اور گزشتہ5۔صدیوں کی تجزیاتی تاریخ ہے۔ان کی ایک پیشن گوئی درست ثابت ہوئی کہ چین2020ء تک یورپ کی تمام طاقتوں سے آگے نکل جائے گا۔اس نے دفاع پر شروع میں بہت ہی کم خرچ کیا۔اب جب اسکی دولت میں اضافہ ہوچکاہے۔اب وہ اپنی دفاعی طاقت میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے۔دوراندیش طاقتیں اپنے دفاع کومضبوط اس وقت کرتی ہیں۔جب وہ معاشی طورپر بڑی قوت بن چکی ہوں۔پال کینیڈی جیسے بڑے مورخ کی کئی پیشین گوئیاں جوچین کے بارے تھیں غلط بھی ثابت ہوئیں۔چین کی تیز رفتار معاشی ترقی نے پوری دنیا کوہی حیران کررکھا ہے۔اس معاشی معجزے کے پیچھے کونسے عوامل ہیں۔اس کا مختصر ساجائزہ پیش خدمت ہے۔چین کی معیشت میں معجزہ1978ء سے شروع ہوا۔نئی قیادت نے پرائیویٹ لوگوں کے لئے معیشت کوکھول دیا۔

اور چند دہائیوں میں نئی قیادت کی پالیسیوں سے کروڑوں چینی غربت نے نکل کر خوشحالی کی زندگی بسرکرنے لگے۔اورپھر دنیا نے دیکھا کہ چین میں20لاکھ لوگ ارب پتی بن گئے۔اس نے فیکٹریوں کاپورے ملک میں جال بچھادیا۔جہاں چھوٹے چھوٹے کھلونوں سے لیکر اعلیٰ درجے کے موبائل فون تیارہورہے ہیں۔اوردنیا کوبرآمد کئے جارہے ہیں۔ہزاروں طرح کے دیگر آلات اورمشینیں بھی برآمدی لسٹ میں شامل ہیں۔یوں چین کرۂ ارض کے لئے اشیاء سازی کی فیکٹری بن گیا ہے۔اور سب سے بڑاتاجر بھی۔چین نے دوسری بڑی معیشت جاپان کو2010ء میں پیچھے چھوڑ دیاتھا۔اور اب یہ عظیم ملک صرف اورصرف امریکہ سے پیچھے ہے۔جیسا کہ شروع میں اعدادوشمار بتائے گئے ہیں۔اوراب دنیا کے ماہرین یہ پیشین گوئی کررہے ہیں کہ چین 2030ء میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔پیمائش کاایک طریقہPurchasing power parityکہلاتا ہے۔اس طریقہ کے مطابق چین اب بھی دنیا میں نمبر ایک پر ہے۔یہ تمام کارنامہ 1978ء کے بعد آنے والے چارلیڈروں کا ہے۔یہ تمام لیڈر لمبے عرصے تک اپنے ملک کی قیادت کرتے رہے ہیں۔

اورموجودہ صدر زی جن پنگ کوتوعمر بھر کے لئے صدر منتخب کرلیاگیاہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی صرف کارکردگی پرنظر رکھتی ہے۔چین کی شرح نمو10فیصد سالانہ بھی رہی ہے۔اورآج کل اوسطاً7فیصد سالانہ ہے۔تمام معیشت دان یہی بتاتے ہیں کہ ترقی کاراز پورے ملک میں فیکٹریوں کاجال بچھا دینا ہے۔جوچھوٹی سے چھوٹی شے سے لیکر اعلیٰ درجے کی صرفی اشیاء اورمشینری تک بنا کر دنیاکو بھیج رہے ہیں۔اشیاء سازی میں کام کرنے والے کارکنوں کی تعداد78۔کروڑ ۔زراعت سے لیکر معدنیات اورصنعت تک ہرطرف کارکنوں کی افواج کام میں مصروف ہیں۔بغیر کام کے زندگی گزارنے والے وہاں نظر نہیں آتے۔جیسے پاکستان میں بے شمار لوگ بغیر کام کے زندگی گزاررہے ہیں۔بغیر کام کے معاوضے پاتے ہیں۔اس طرح کاتصور پورے چین میں نہیں ہے۔2015تا2017ء کے درمیان چین دنیا بھرمیں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑاملک تھا۔چین میں سب سے بڑا ارب پتیMaHuatengماہیوٹنگ ہے۔

اس کے بعد ارب پتیوں کی ایک لمبی لائن ہے۔امریکہ کی معیشت اب21ٹریلین پرپہنچ گئی ہے۔اور یوں چین جو اب14۔ٹریلین پرہے۔اسکے 2/3 کے برابر ہے۔اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔دنیا اب پھرBipolarنظام کے تحت آگئی ہے۔روس کی جگہ اب چین نے سنبھال لی ہے۔معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور دفاعی قوت بھی بڑھتی جارہی ہے۔چینی مسلح افواج کی تعداد اب20۔لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ہم نے چین کی گزشتہ 5۔دہائیوں کی ترقی کا جائزہ پیش کیا ہے۔دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے۔جس نے اتنے قلیل عرصے میں اتنی ترقی کی ہو۔اسے ہم معاشی معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں۔مخلص اورجرأت مند قیادت اورصحیح منصوبہ بندی اس معاشی معجزہ کے بنیادی عوامل ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com