مائنس آل، ماورائے آئین اقدام نہیں ہوگا - حبیب الرحمن

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور بات مائنس ون ٹو تھری سے آگے بڑھ کر مائنس آل تک جاپہنچی ہے۔ حکومت 22ماہ سے مصنوعی آکسیجن پر چل رہی ہے۔ ہاتھ تھامنے والوں کا خیال تھا کہ تھوڑے بہت سہارے سے یہ چلنا سیکھ جائیں گے مگر تمام تجربات ناکام ثابت ہوگئے ہیں۔

کے پی کے سمیت ملک بھر میں ترقی کا پہیہ جام ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر انہو ں نے دیر بالا میں کارکنوں کے تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امیر جماعت کی اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت ملک چلانے میں سخت ناکام ہو چکی ہے لیکن اس بات میں ضرور شک ہے کہ اس کا دھڑم تختہ ہونے والا ہے۔ پاکستان میں نہ تو کسی محکمے کا سب سے بڑا عہدیدار اپنے شعبے کا بااختیار ہوتا ہے، نہ وزیر، نہ صدر اور نہ ہی ملک کا وزیر اعظم۔ یہ سب جہاں سے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے آپریٹ کئے جاتے ہیں، وہ بھی سٹلائٹ لنک کے ذریعے کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ان کو لانے والے انھیں لانے کے فوراً بعد سے ہی پریشان ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن اس لئے خاموش تھے کہ شاید آگے چل کر کوئی حل نکل ہی آئے۔

ہاتھ تھامنے والے لانے کا اختیار بے شک رکھتے ہوں لیکن کسی کو بھی دائیں بائیں کرنے والی خود مختاریاں انھیں بالکل بھی حاصل نہیں کیونکہ وہ خود بھی کہیں اور سے کنٹرول کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خان صاحب کے از خود 90 دن میں ملک کی تقدیر بدل دینے کے دعوے کی مدت اپنی تمام تر "عزت مآبی" کے ساتھ ختم ہونے کے قریب پہنچی تو ہاتھ تھامنے والوں نے قوم سے "چھ" ماہ کی مدت مانگی۔ پاکستان میں جو مدت کسی بھی کام کیلئے عارضی طور پر مانگ لی جاتی ہے پھر وہ مدت قیامت تک ختم ہو کر نہیں دیتی۔ جیسے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ یا کراچی بد امنی آپریشن کے 90 دن۔ اسی طرح مانگے گئے "صرف چھ" ماہ ہر چھ ماہ کے اختتام پر مزید چھ ماہ کی مہلت میں تبدیل ہوتے ہوتے یہ دن آچکا ہے۔ چند ہفتوں قبل خود خان صاحب نے اپنے وزرا کو جو چھ ماہ کی مہلت دی ہے اس کا بھی علم نہیں کہ اللہ جانے اس کا اختتام کہاں جاکر ہوگا۔

پاکستان میں شاید ہی کوئی طبقہ، سیاسی پارٹی، مذہبی گروہ، یہاں تک کہ عام آدمی تک امیر جماعت کی طرح اس بات کا اظہار کرتا چلا آ رہا ہے کہ موجودہ حکوت آئی نہیں ہے لائی گئی ہے، یعنی الیکٹڈ نہیں ہے سلیکٹڈ ہے۔ اس کے باوجود بھی تمام تر ناکامیوں کا ذمہ دار خان اور خان کی حکومت ہی کو کہا جا رہا ہے۔ جب تمام سیاسی و سماجی رہنما، تجزیہ نگار، کالم نویس اور ٹی وی اینکرز اس بات کو دہراتے نظر آتے ہیں کہ موجودہ حکومت کسی کی مہربانیوں کے نتیجے میں بنی تھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا رہنما یا چھوٹے سے چھوٹا اینکر، ڈوریاں ہلانے والوں کا نام لیتے ہوئے کیوں شرماتا ہے۔ بار بار مائنس ون، ٹو، تھری یا اب آل کی بات ہو رہی ہے۔ کیا آئین میں کوئی ایسا آرٹیکل ہے جو مائنس ون، ٹو، تھری یا آل کی اجازت دیتا ہے؟۔ اگر نہیں، تو پھر وہ کونسی ملکی یا غیر ملکی، زمینی یا خلائی طاقت ہے جو ایسا کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

بے شک اس وقت عمران خان کی پوزیشن بہت خراب ہو چکی ہے لیکن کوئی بھی "دستوری" حکومت، خواہ وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوری، اسے بر طرف کرنے کے قانونی راستے ضرور ہوتے ہونگے۔ جب عمران خان کی حکومت کی پوزیشن غیر یقینی ہو چکی ہے اور وہ ملک چلانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں تو آخر تمام سیاسی پارٹیاں مائنس مائنس کی کیا رٹ لگائے ہوئی ہیں۔ وہ قوتیں جو بہت ماضی سے تا حال مائنس مائنس کھیل کھیل کر ملک کو اس حال میں پہنچا چکی ہیں ان قوتوں کی راہیں مسدود کرنے کی منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتی ہیں۔

ماضی میں حکومتوں کی برطرفیاں بے شک ایک معمول رہا ہے لیکن ان برطرفیوں سے ملک پر اتنے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے جتنے منفی اثرات لیڈر شپ کو ان کی اپنی اپنی پارٹیوں سے دور کرنے کے سامنے آ رہے ہیں۔ اگر کوئی ہاکی یا کرکٹ کی ٹیم بنا کپتان کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتی یا بار بار کی تبدیلیاں ٹیم کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں تو ملک و قوم کی تقدیر بنانے والی سیاسی جماعتوں کے سربرہوں کی جبراً تبدیلیاں ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کے مترادف نہیں؟۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں مائنس پلس اور پلس مائنس کے اس کھیل کو بند کرانے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صرف یہ حکومتوں کا ہی مائنس پلس نہیں ہوگا بات بہت آگے تک بھی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی کا سقوط مشرقی پاکستان اسی کھیل کا نتیجہ تھا لیکن غفلت کا خمار ہے کہ وہ اتر کر ہی نہیں دے رہا ہے۔ اس میں جتنی تاخیر ہوگی پاکستان تباہی و بربادی کے اتنا ہی قریب تر ہوتا جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com