سید منور حسن مرحوم،میرے ناظم اعلیٰ - ُ پروفیسر جمیل چودھری

سید منور حسن اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔لیکن ان کی یادیں دلوں میں محفوظ ہیں۔مجھے ان کانظامت اعلیٰ کادور نہیں بھولتا۔یہ دور3۔سالوں پرمشتمل تھا۔تب وہ اورہم طالب علمی کے دور میں تھے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کی ذمہ داری کے بعد وہ بہت جلد قومی سطح پرآگئے تھے۔اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ بن گئے تھے۔انہوںنے اپنے دور میں پورے ملک میں طوفانی دورے کئے۔میں تب اپنے2۔ساتھیوں ظفر جمال بلوچ اورنسیم عادل کے ساتھ گورنمنٹ کالج جھنگ میں تھا۔اپنے ان3سالوں میں انہوں نے جھنگ کاکئی دفعہ دورہ کیا۔

انکے ہاتھ میں ہروقت ایک ننھا سا سیاہ رنگ کا بیگ ہوتاتھا۔انہیں کہاکہاں تقریر کرنی ہے اور طلباء سے کہاں کہاں ملنا ہے۔یہ پروگرام ہم نے پہلے سے طے کیاہوتاتھا۔ہم انکار پروگرام کسی پرائمری سکول میں رکھتے یاہائی سکول میں انہوں نے وہاں جانے سے کبھی بھی انکار نہیں کیا۔طلباء کی تعداد کم ہویازیادہ اس کی بھی انہوںنے کبھی پرواہ نہیں کی۔کئی دفعہ ہم محترم ناظم اعلیٰ کو پیدل ہی لئے اداروں میں پھرتے رہتے تھے۔طلباء کے ساتھ انکی گفتگو بہت ہی ماثر ہوتی تھی۔دین کی بنیاد پر حق اورسچ کہنا انکی زندگی کا مقصد تھا۔طلباء کو دین کی دعوت کا انکا اپنا طریق کارتھا۔اگرجھنگ میں رات گزارنی پڑتی تومرحوم ظفر جمال بلوچ کا ڈیرہ استعمال ہوتاتھا۔یہ ڈیرہ بھی عجیب تھا کہ مرحوم ظفر جمال کے والد جمال خاں وکیل سوشلسٹ خیالات کے تھے۔انکی سیاسی وابستگی بھی ایسی ہی پارٹیوں کے ساتھ تھی۔وہ بھی اپنی سیاسی وابستگیوں میں کافی سرگرم رہتے تھے۔ظفر جمال بلوچ بھی اسلامی جمعیت طلباء میں آگے بڑھتے گئے اورناظم اعلیٰ تک پہنچے۔ہم جمال خاں بلوچ کے سرخ خیالات اورظفر جمال کے سبز خیالات کومرحوم منورحسن کے ساتھ شئیر کیاکرتے تھے۔

وہ یہ باتیں بڑے شوق سے سنا کرتے تھے۔سیدصاحب ظفر جمال کو والد صاحب کی عزت کاخیال رکھنے کی تلقین کیاکرتے تھے۔اب دونوں اس دنیا میں نہیں ہیں۔مجھے یہ3سالہ دوراب تک تروتازہ ہی لگتا ہے۔یہی دور تھاجب میں بھی اسلامی جمعیت طلباء کارکن بنا اور کئی سال بعد روایتی تعلیم کے مکمل ہونے کے بعد مطیع الرحمن نظامی کے زمانہ نظامت اعلیٰ میں بیت المکرم ڈھاکہ کے پتہ پر استعفیٰ ارسال کیا۔اورپھر تنظیم اساتذہ پاکستان کے قافلے میں شامل ہوگئے۔مولانا مودودی کالٹریچر پڑھنے کی طرف وہ ہماری توجہ اکثر دلایا کرتے تھے۔لیکن ایک بات ہمیں جو نہیں بھولتی وہ ہے کہ وہ "دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات"نامی چھوٹی سی کتاب کی طرف بہت ہی توجہ دلاتے تھے۔ہمیں انکے ایک اورساتھی نے بتایاتھا کہ یہ چھوٹی سی کتاب سید منور حسن نے اتنی دفعہ پڑھی کہ وہ انہیں زبانی یاد ہوگئی تھی۔کتاب میں تحریک اسلامی کے3 ۔بزرگوں کے مضامین ہیں۔پہلا مضمون سید مودودی مرحوم کاہے۔اس کاعنوان دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار ہے۔دعوت اسلامی کا اس مختصر مضمون میں انتہائی ماثر اور مختصر انداز میں تعارف ہے۔دعوت اسلامی اور اسکی کامیابی کے اصول پرمولانا امین اصلاحی مرحوم نے گفتگو فرمائی ہے۔دعوت اسلامی اوراس پر لبیک کہنے والوں کے فرائض کی یاد دہانی مرد درویش میاں طفیل محمد نے کرائی ہے۔

یہ چھوٹی سی کتاب اب تحریک اسلامی کے نصاب کاحصہ ہے۔ہم نے بھی اسے سید منورحسن کے کہنے کے بعد اسے پڑھا اور سمجھا۔سید منور حسن مرحوم کی دہلوی انداز کی ماثر اردو کاطلباء پر بڑا اثر ہوتاتھا۔تحریک اسلامی کاطلباء ونگ اس دورمیں بڑاپھلااور پھولا۔بہت سے طلباء سید صاحب کے دور میں اسلامی جمعیت کی طرف آئے اوریہیں کے ہوکررہ گئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب قابل اور لائق طلباء اسلامی جمعیت طلباء میں آتے تھے۔سید مودودی کاجاندار اورماثر لٹریچر پڑھ کر دین کا صحیح تصور ذہنوں میں بٹھاتے تھے۔نوجوانوں کی زندگیاں واقعی تبدیل ہوئیں۔طلباء اپنی تعلیم کی طرف بھی توجہ دیتے اور ساتھ ساتھ زندگی کامقصد اعلیٰ بھی جان لیتے۔بے شمار طلباء منورحسن مرحوم اوربعد کے دورمیں تحریک اسلامی کاحصہ بنے۔اور اب تک صراط مستقیم پرچل رہے ہیں۔یہ وہ دورتھا جب طلباء کی قیادت دینی لہاظ سے مخلص تھی اور طلباء کو واقعی دین کی طرف بلاتی تھی۔اسلامی جمعیت طلباء میں کئی دہائیوں کے بعد سیاست کی طرف زیادہ توجہ ہوگئی۔یونیورسٹیوں اورکالجوں میں بندوق بردار طلباء نظر آنے لگے۔اس ماحول میں بہت سے طلباء کاجانی نقصان بھی ہوا۔سید صاحب نے جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد اپنا تحریکی سفرجاری رکھا۔وہ90ء کی دہائی میں سیکرٹری جنرل اور2009ء میں امیرجماعت کی ذمہ داری پر منتخب ہوئے۔

اپنی امارت کے زمانے میں وہ دینی دعوت کا کام ماثر انداز سے نپٹاتے رہے۔ان کے سیاسی فیصلوں سے لوگوں کو اتفاق نہیں ہوتاتھا۔فوج سے متعلق دیاگیا ایک بیان کافی اختلافی ہوگیاتھا۔لیکن وہ اپنے موقف پرڈٹے رہتے تھے۔امارت سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے گھر کراچی میں ڈیرے لگالئے تھے۔اسلامی ریسرچ اکیڈمی کے کام کی دوبارہ نگرانی شروع کردی تھی۔ان کی نگرانی کے پہلے اور دوسرے دور میں اکیڈمی کی طرف سے کئی قیمتی کتابیں شائع ہوئیں۔ وہ اپنے ابتدائی دورمیں کراچی سے شائع ہونے والے2۔انگریزی رسالوں کے چیف ایڈیٹر بھی رہے تھے۔سید منور حسن مرحوم کو1977ء میں قومی اسمبلی کاممبرمنتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔انہوںنے اس الیکشن میں پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لئے تھے۔لیکن اس اسمبلی کااجلاس کبھی نہ ہوسکا۔سید صاحب مولانا مودودی کے مخلص ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

جب مطالعہ کے بعد انہیں معلوم ہوگیا کہ حق کاصحیح ترین راستہ یہی ہے تو انہوں نے تمام زندگی اسی راستے پرچلنے کو مقصد عظیم قرار دے لیا۔دوسرے نظریات والے لوگ انہیں اس صراط مستقیم سے نہ ہٹا سکے۔مخلص لوگ ہی تحریکوں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔انہی لوگوں سے تحریکیں پھلتی پھولتی اورآگے بڑھتی ہیں۔میرے دل میں انکے جنازہ میں شرکت کی خواہش تھی۔لیکن اپنی صحت کی خرابی کی وجہ سے کراچی جانے کی جرات نہ کرسکا۔اﷲ ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عطاکرے۔