سید منور حسن سے چند تلخ سوالات - سید عدنان کریمی

"نہیں! وہ میاں طفیل صاحب نہیں تھے بلکہ ہماری جماعت کے علاقائی ناظم تھے جو روزانہ مجھ سمیت دیگر کارکنوں کو رات کے اندھیرے میں قبرستان لے جاتے، وہاں فاتحہ خوانی کرتے، بعد ازاں کسی بوسیدہ قبر پر کھڑے ہوکر ہمیں متوجہ کرتے پھر دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی فکر اور موت کی تیاری کی تلقین کرتے۔ ایک روز مجھے بھی رات کی تاریکی میں ایک قبر کے پاس لے جاکر کھڑا کردیا، زار و قطار رونے لگے پھر قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے: منور حسن! اپنی اس جگہ کو ٹھیک کرلو سب ٹھیک ہوجائے گا، دنیاوی مال و منال، عزت و شہرت سب اس خاک کی مار ہیں، اپنی قبر درست کرلو تمہاری دنیا و آخرت دونوں سنور جائے گی۔"

مذکورہ واقعہ میرے اس سوال کا جواب تھا جس میں خاکسار نے استفسار کیا کہ یہ بات زبان زد عام ہے کہ ایک دفعہ میاں طفیل صاحب نے آپ کو قبرستان میں کھڑا کرکے عملی طور پر دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی فکر دلائی تھی، اس بابت آپ کیا فرمائیں گے۔

سید عدنان کریمی کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر

سن ساٹھ سے اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم کارکن پھر جماعت اسلامی کی رکنیت سے امارت تک کا سفر کیسا رہا؟ میرے دوسرے سوال نے گویا ماضی کے اوراق ان کے سامنے کھول کر رکھ دیے، بڑی متانت سے گویا ہوئے: میرے نزدیک جماعت اسلامی کی امارت تو درکنار، اس کی رکنیت بھی کسی بڑے بوجھ سے کم نہیں۔ جماعت کا کوئی بھی عہدہ، خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، ذمہ داریوں کا پہاڑ ہے، یہ سنگِ میل نہیں بلکہ سنگِ گراں ہے۔ دوسری جماعتوں میں لوگ عہدوں کے خواہشمند جبکہ ہماری جماعت میں لوگ عہدوں سے خائف رہتے ہیں۔ جماعت کی رکنیت میں بھی کارکن رہنا پڑتا ہے اور امارت بھی خدمت ہی سے عبارت ہوتی ہے۔ اس سفر میں محمود و ایاز یکساں مسافر ہوتے ہیں، ہر ایک کو نشیب و فراز اور اونچ نیچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا رکنیت سے امارت تک کا سفر بھی کوئی انوکھا نہیں بلکہ انہی اسفار کا ایک تسلسل ہے جو ایک صاحبِ کردار، باہمت اور حوصلہ مند امیر نے شروع کر رکھا تھا۔

کیا یہ تاثر درست ہے کہ مولانا مودودی رح کے بعد آپ متنازع ترین امیر رہے ہیں؟ یعنی جماعت کے دونوں سیّدوں سے لوگ ہمیشہ شکوہ کناں رہے ہیں۔ تیسرے سوال نے اُن کے چہرے پر مسکراہٹ کو بکھیردیا، قدرے توقف کے بعد بولے: ممکن ہے کہ یہ تاثر کسی حد تک درست ہو، تاہم مکمل طور پر اس تاثر کے نرغہ میں رہنا خبط کے سوا کچھ نہیں۔ میری ناقص رائے میں مجھے اور مولانا مودودی کو ایک ہی طرح کے دوست و دشمن میسر آئے، گو کہ بُعدِ زمانی موجود ہے تاہم اُس دور کے اور آج کے دور کے حلیفوں اور حریفوں کا اندازِ تکلم بھی یکساں اور برتاؤ بھی ایک جیسا ہے، وہ الزامات کا دور تھا اور آج میڈیا کا دور ہے، اُس وقت پروپیگنڈہ کا رواج تھا تو اِس وقت دشنام کا راج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منٹوں، سکینڈوں میں تنازعات کھڑے نہیں ہوتے بلکہ کھڑے کیے جاتے ہیں، جس کا تصفیہ کرتے کرتے انسان خود متنازع بن چکا ہوتا ہے۔

متنازع سے میری مراد یہ ہے کہ مولانا مودودی اپنی کتاب میں کوئی اختلافی بات لکھتے اور آپ اپنے بیانات اور انٹرویوز میں اختلافی بیان ریکارڈ کرواتے، جیسے فوج، طالبان اور دیگر حساس ایشوز پر آپ کی اپنی صرف ایک رائے ہی نہیں بلکہ اگر آپ کا تفرد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اس سوال کو کیسے جسٹیفائی کریں گے؟ چوتھے سوال نے ان کو انگیختہ کرنے کے بجائے اور نرم کردیا، نہایت تحمل و ملائمت سے کہنے لگے: جی بالکل! آپ درست کہتے ہیں کہ وہ سب میری اپنی آراء اور تفردات تھے، میری ذاتی رائے میں جماعت کا اور جماعتی پالیسیوں کا عمل دخل نہیں۔ میں نے تو اپنی رائے کبھی ماتحتوں پر مسلط کی نہ ہی جماعت کو اپنی رائے کا پابند بنایا بلکہ میں تو دوسروں پر اپنی رائے کا احترام بھی لازم نہیں سمجھتا۔

شنید ہے کہ آپ کے انہی غیر متزلزل مؤقف نے جماعت کے لیے مسائل پیدا کیے، آپ اپنے پیشرو قاضی حسین احمد کی طرح صلح جو امیر ثابت نہیں ہوئے، اسی لیے جماعت نے فیس سیونگ کے لیے اگلے انتخابات میں آپ کا نام شامل نہیں کیا، نیز کیا کبھی شوریٰ نے آپ کو ان بیانات پر شوکاز بھی جاری کیا یا نہیں؟ جواب دینے سے قبل ہی ان کے چہرے کا زاویہ بتا رہا تھا کہ اس سوال کی انہیں سو فیصد توقع تھی، سوال ختم ہوتے ہی اپنی جگہ سے اٹھے، اضافی لائٹ کا سوئچ آن کیا، دوبارہ اپنی نشست پر براجمان ہو کر کہنے لگے: یہ سوال شاید کسی کی "شدید" خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقت کچھ بھی نہیں، جماعت کے کسی بھی فرد نے انفرادی یا شوری نے اجتماعی اس ضمن میں کبھی بھی مجھ سے نہ باز پرس کی، نہ ہی مجھ کوئی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہوا۔ جماعت نے میری آرا پر سکوت کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی جو اس وقت کے حالات کے مطابق ایک نہایت دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ رہا انتخابات میں امارت کی فہرست میں میرا نام، ضعف، علالت اور مصروفیت کے باعث میں نے اصرار کیا کہ میرا نام آئندہ انتخابی لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ یاد رکھیے! جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے جو ہوا کی لہروں اور طوفانی موجوں سے اپنا نظریہ اور قبلہ تبدیل نہیں کرتی، ہم اتنے کمزور نہیں کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر ایک دوسرے کو فارغ کردیں، لہذا یہ پورا سوال ہی باطل ہے، اگر باطل نہیں کہہ سکتے تو یہ کہہ لیں کہ یہ سوال نہیں بلکہ خواہش ہے اور خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

آپ کے مختلف انٹرویوز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بڑے سخت مزاج ہیں، رکھ رکھاؤ کے قائل نہیں، اس کی واضح مثال شاہ زیب خانزادہ جب ایکسپریس میں تھے تو انہوں نے "ٹو دی پوائنٹ" کے لیے آپ کا انٹرویو کیا، چند سوالات کے بعد آپ نے کالر پہ لگا مائیک پٹخ دیا، میزبان بار بار اصرار کرتا رہا: "سر! لگا لیجیے، سر! مائیک لگا لیجیے۔" لیکن اس کے باوجود بھی آپ انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے، شاہ زیب خانزادہ کے لیے وہ موقع ایسا یادگار بنا کہ جیو نیوز میں اپنے پروگرام کے پرومو کے لیے آپ اور اینکر کی قیل و قال کا وہ حصہ مختص کردیا۔ کیا یہ سخت گیری نہیں؟

چئیر کو میز کے قریب کیا اور دونوں ہاتھ میز پر ٹیکتے ہوئے بولے: نہیں، بالکل نہیں! یہ سخت گیری اور اکھڑ مزاجی نہیں بلکہ اصول پسندی ہے، شاہ زیب صاحب اور اس قبیل کے دوسرے اینکر صاحبان کا وتیرہ رہا ہے کہ یہ مہمان سے پلانٹڈ سوالات کرتے ہیں اور پلانٹڈ جوابات کے خواہاں ہوتے ہیں۔ شاہ زیب صاحب کا مائیک میں نے پھینکا نہیں بلکہ انٹرویو چھوڑ کر جب میں جانے لگا تو مائیک اتارتے ہوئے میرے ہاتھ سے نیچے گر گیا، میں اٹھا کر دینے لگا تو شاہ زیب صاحب اصرار کرنے لگے۔ اینکر صاحب بار بار ایک ہی سوال گھما پھرا کر مجھ سے پوچھتے رہے تاکہ میں انہیں من پسند جواب دے سکوں، میں نے جب غور کیا تو باآسانی اُن کا ایجنڈا بھانپ لیا، لہذا میں نے انٹرویو دینے سے معذرت کرلی، بعد ازاں ان کی خاطر مدارت کا ن

اصرف بھرپور اہتمام کیا بلکہ دروازے تک آکر انہیں رخصت بھی کیا۔

آخر میں آپ مجھ سمیت دیگر نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ مسکراتے ہوئے کہنے لگ

ے: میں کون ہوتا ہوں کسی کو پیغام یا نصیحت کرنے والا، بہرحال خشیت، تقوی اور للہیت اپنے اندر پیدا کیجیے اور اس بات کو اپنا شعار بنا لیجیے:

"بہار ہو کہ خزاں ۔۔۔ لاالہ الا اللہ"

(یہ ملاقات 30/01/2018 کو کراچی میں ہوئی)