لاک ڈائون - حاجی محمد لطیف کھوکھر

وزیر اعظم کا بارہا کہنا ہے میں دن میں بار ہا سوچتا ہوں کہ سفید پوش لوگوں کا گزارا کیسے ہو رہا ہو گا، باقی ممالک اپنے عوام کو کورونا سے بچارہے ہیں، ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچارہے ہیں، لاک ڈاؤن کھولنا ہماری مجبوری ہے کہ ہم مکمل اور سخت لاک ڈائون نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کو کم آمدنی والے افراد کا پورا پورا خیال ہے ۔

مزید کہا کہ ان اگر کوئی یقین دلاتا کہ 2 یا 3 ماہ کے لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس ختم ہوجائے گا تو ہم ایسے کرلیتے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ محض لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس پر قابو پانا نا ممکن ہے اور ایک سال تک بھی کوئی ویکسین آنے کا امکان نہیں، اب اس وائرس کے ساتھ ہمیں زندگی گزارنے کو سیکھنا پڑے گا، ملک مسلسل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لاک ڈاؤن سے ملک میں 15 کروڑ لوگ متاثر ہیں۔عوام کو روزگار نہ دیا تو کورونا سے زیادہ فاقہ کشی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ فی الوقت ملک میں جزوی لاک ڈائون جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متعدد کاروبار کو تو کھولنے کی اجازا ت دے دی گئی ہے مگر ایک بڑا حصہ بدستور بندشوں کی زد میں ہے ۔جبکہ دوسری جانب امریکہ یورپ سمیت پوری دنیا میں لاک ڈائون کی پاندیاں اٹھائی جارہی ہیں ، حتیٰ کہ اسپین اور اٹلی وغیرہ میں تو سیاحت کا شعبہ بھی کھول دیا گیا ہے ایسے میں پاکستان میں حکومتی پالیسیاں مسلسل ابہام کا شکار ہیں ۔

کابینہ اور خود وزیر اعظم صاحب ابھی تک خود فیصلہ نہیں کر پائے کہ لاک ڈائون کے حوالے کونسا راستہ اپنایا جائے ۔ ادھر ملک کی حالت یہ ہے کہ حکومتی اور میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کرونا کیسز کی تعداد میں اضافہ اورصورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیر سردار درمحمد ناصر سمیت 80 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ‘ مریم اورنگزیب اور انکی والدہ بھی کرونا کا شکار ہو گئے۔اگر ہم لاک ڈاون کی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیں تو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ اس سارے عرصے میں حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آئی۔جہاں دکانیں ‘ بازار‘ مالزاورصنعتیں بند ہیں ‘مگر عوام دندناتے پھر تے رہے ‘ انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔حکومت اتنا بتا دے‘ اگر عوام نے سنجیدہ نہیں ہونا تو کاروبار بندکرنے کا فائدہ ہوا؟ تو غریب دکان والے کا کیاقصور ؟ اس کے بچوں کو کیوں بھوکا مارا گیا ؟

ایک اندازے کے مطابق‘ پاکستانی معیشت کو اب تک دوہزار ارب روپے کا نقصا ن ہو چکا ہے۔ اس سے زیادہ حکومت اور کیا قیمت ادا کر سکتی ہے؟ عوام جان لے اب ہمیں بطورِ قوم کوروناوائرس اور خراب معیشت کے ساتھ لڑنا ہے‘ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بیروزگاری کی انتہا ہے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کے گھروں میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں ۔ اب توپوری دنیا نے لاک ڈاون کھول دیا ہے اور امیر ترین ممالک بھی یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ کوئی ملک لاک ڈاون زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ لاک ڈاون کے اثرا ت معیشت پر پڑے ہیں، جس کے باعث بیروزگاری ہوئی ہے اور غربت بڑھ گئی ہے۔کورونا کے بحران اور لاک ڈائون نے معاشی صورت حال کو خراب کر دیا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 68 سالوں کے بعد پاکستانی معیشت کو منفی گروتھ کا سامنا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت منفی 2.2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی آمدن پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ اس قسم کی صورت حال 1951ء میں پیدا ہوئی تھی اس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔امریکا جیسا ملک، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کورونا سے مرچکے ہیں، انہوں نے بھی ملک کو ایس او پیز کے ساتھ کھول دیا ہے ۔ ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسا اعلان کر دے کہ اگرچہ اور اس دوران وائرس پھر سے پھیلنا شروع ہوگا لہذا لوگ ایس او پیز پر عمل کرکے کاروبار کریں اس سے وبا ء آہستہ پھیلے گی۔ ملکی دگر گوں معاشی حالات کے پیش نظر اشد ضرورت ہے کہ پاکستا ن میں بھی تمام کاروبار کو احتیاطی تدا بیر کے ساتھ کھول دیا جائے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے لوگوں بالخصوص لوگوں کی میڈیا کے ذریعے ذہن سازی کی جائے کہ کس طرح اس وباء کے ساتھ ہم نے زندگی گزارنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا کر اسے عوام کو ہانکنے پر لگا دیا جائے ۔ لاک ڈائون کے نفاذ سے لیکر اب تک پولیس اس بہتی گنگا میں بہت ہاتھ دھو چکی ہے ۔

صرف شاہ عالمی جیسی بڑی مارکیٹ میں دوکانداروں سے دکان ٹائم کے بعد کھولنے کی صورت میں ہزاروں کما چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کورونا فنڈ کے 1200ارب روپے سے ان کی مدد کیوں نہیں کی گئی؟۔چار ماہ بعد بھی حکومت کے پاس تعلیمی نظام کو بحال کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں۔ حکومت بند کئے گئے تعلیمی اداروں کا بوجھ خود اٹھائے ، اساتذہ کو تنخواہیں ،بلڈنگز کا کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز حکومت ادا کرے اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے بھی ریلیف پیکج کا اعلان کرے ۔بیرونی دنیا میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے سر پر بیروزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے اور کئی ممالک سے پاکستانی بیروزگار ہو کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ اس سے ایک تو زرمبادلہ پر اثر پڑ رہا ہے دوسرا یہ کہ ملک میں بیروزگاروں کی فوج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں لاک ڈاؤن کسی معاشرے کا مطلوب ومقصود نہیں ہو سکتا۔ ملک دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے باعث ملک کی متعدد صنعتیں اور کارخانے بند ہیں اور یہاں کام کرنے والے افراد کو متعدد معاشی اندیشوں اور خطرات کا سامنا ہے۔

حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود چھوٹی بڑی صنعتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو یا تو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے یا غیر معینہ مدت کے لیے بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنے کا کہا جا رہا ہے۔سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں متعدد صنعتوں سے وابستہ افراد، کئی مزدوروں اور فیکٹریوں کو نوکری سے یہ کہہ کر نکالا جا رہاہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث اس وقت صورتحال غیر یقینی ہے۔سندھ حکومت نے حال ہی میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ صوبے میں جاری پابندی کے دوران کسی بھی ملازم یا مزدور پیشہ فرد کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا اور تنخواہیں بروقت دی جائیں گی لیکن اس اعلامیہ پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ملک میں مزدوروں سے منسلک قوانین یا تو ایک صوبے کی حد تک محدود ہیں یا پھر ان کا اطلاق نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں ۔

اور ان کے پاس اپنی بات کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اس وقت ٹرانسپورٹ، ٹریول، ہوٹل ، ایوی ایشن، ٹور ازم، پرنٹنگ، شادی ہالز اور اسی طرح کے دیگر کئی کاروبار بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سمیت کئی کاروبار اب تک بند ہیں۔ ٹریول ایجنسیاں، عمرہ سروسز اور سیاحت کا شعبہ بھی بند ہے۔ اگر حکومت نے سستے قرضوں کے ذریعے آسان شرائط کے ساتھ ان شعبوں کی مدد نہ کی تو کاروبار دیوالیہ ہو جائیں گے۔ حکومت کو چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے جامع پیکیج دینا چاہیے تا کہ ان کو دوبارہ کاروبار شروع میں کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ وگرنہ لوگ کورونا سے سڑکوں پر نہیں مرے مگر بھوک ، افلاس ، غربت اور بے روزگاری سے چوکوں اور شاہرائوں پر موت کی ہچکی لیتے ہوئے نظر آئیں گے جس کا یقینا ریاست مدینہ کے حکمران اللہ کے آگے جوابدہ ہونگے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */