عید،یوم جزا ء- ریحام عبد العلیم

اے کلمہء طیبہ کے وارثوں دیکھو رب کا کیسا معزز مہینہ تم پر سایہ فگن ہے۔تم ہر روز تراویح میں اس رب الشکور کے سامنے دیر تک کھڑے ہوتے ہو اور اسکی خوشی کی طلب تمھیں تھکان میں بھی پناہ دیتی ہے۔ تم اسکی محبت میں سحری کھاتے ہو اور وہ تمہارے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیتا یو جو افطار تک تمہارے لیے مغفرت اور بخشش کی دعائیں کرتا ہے۔

جب تم اپنے منہ میں بدبو محسوس کرتے ہو تو یکایک تمہارے ذہن میں آواز ابھرتی ہے۔۔۔ " روزے دار کے منہ کی بو اسکو مشک سے زیادہ محبوب ہے!"۔ پھر پورے دن نفس کی بغاوتیں عمل کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں۔ کبھی غصہ، کبھی غیبت، کبھی جھوٹ، کبھی بے ایمانی۔۔۔ مگر تم سب کو واپس کردیتے ہو۔ یہ تو محض چند مثالیں تھیں تم تو کیا کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو!مگر اب یہ مہینہ پلٹنے کو ہے۔اسکی رحمتیں سمٹنے کو ہیں کہ وہ دشمن اب کھلنے کو ہے۔
مگرصلہ بھی تو ملنے کو ہے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو خدا کے فرشتے تمام راستوں کے نکڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ، اے مسلمانو! رب کے پاس چلو جو بڑا کریم ہے اور جو نیکی اور بھلائی کی باتیں بتاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے پھر اس پر بہت زیادہ انعام دیتا ہے۔

تمہیں اسکی طرف سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے تراویح پڑھی، تم کو دن میں روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی تو اب چلو اپنا انعام لے لو،اور جب لوگ عید کی نماز پڑھ چکتے ہیں تو خدا کا ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ،"اے لوگوں ! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرمادی پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو! یہ عید کا دن انعام کا دن ہے اور اس دن کو فرشتوں کی دنیا میں (آسمان پر) 'انعام' کا دن کہا جاتا ہے"۔ (ترغیب وترہیب)

کیسا خوبصورت اختتام ہے! ذرا تصور کرو ان فرشتوں کی آمد کا۔ یہ خاص تمہیں بشارت دینے آئے ہیں کہ اے بنی آدم! آج تم اتنے ہی پاک کردیے گئے ہو جیسے معصوم تم پیدا ہوئے تھے۔ تمہارے کندھے آج ہر بوجھ سے آزاد کردیے گئے ہیں۔آج وہ تم سے خوش ہے جس کے لیے تم نے صبر کے گھونٹ پیے تھے۔ آج تم نئے سرے سے آغاز کرو۔ دیکھو،

تمہارا ایمان نہ جانے نہ پائے،

تمہاری روح مرجھانے نہ پائے،

وہ ناراض نہ ہونے پائے۔۔۔!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com