سمارٹ لاک ڈاؤن - ذیشان نور خلجی

میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے۔ صاحبو ! کہیں دھوکے میں نہ رہیے گا میں دراصل کرونا وائرس کی بات کر رہا ہوں۔ وہ ہم سے ڈرتا ہے تبھی تو ہمیں شکار نہیں کرتا نا۔ اور جب ابھی تک وہ ہمیں یا ہمارے کسی جاننے والے کو متاثر نہیں کر سکا تو ہم کیسے مان لیں کہ اس کا وجود ایک حقیقت ہے۔

بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب تو ہم یہ بھی کہیں گے، ایچ آئی وی وائرس جو کہ ایڈز جیسی لاعلاج بیماری کا موجب ہے اس کا بھی حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ کیوں کہ ابھی تک ہمیں یا ہمارے کسی جاننے والے کو اس کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ درحقیقت بات تو یہ ہے کہ ہم ایسی قوم سے ہیں جن کا لیبارٹری ٹیسٹ اگر نارمل آ جائے تو افسوس کرنے لگتے ہیں کہ خواہمخواہ پیسے ضائع کئے۔انہی سوچوں میں گم، مٹر گشت کرتا ہوا میں مارکیٹ پہنچ گیا ہوں۔یہ شہر کا ایک معروف بازار ہے۔ لوگ دو اور چار کی ٹولیوں میں بٹے خریداری میں مصروف ہیں۔ میری طرح یہاں ہر کوئی ایس او پیز کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ اور دوکانوں میں رش کا یہ عالم ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔
میں ایک دوکان کے باہر لگے منیاری کے سٹال پر رکتا ہوں، جسے ایک چھوٹا چلاتا ہے۔ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ مارکیٹیں کھلے تو کافی دن ہو چکے ہیں اور حکومت نے سختی سے تنبیہ بھی کی ہے کہ سوشل ڈسٹینسنگ کو برقرار رکھا جائے۔ پھر یہاں کیوں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے؟

چھوٹا کیا کہتا ہے، اسی کی زبانی سنئیے۔" باؤ جی ! اس کے بہت سے اسباب ہیں۔سب سے پہلے تو یہ کہ دو ماہ بعد دوکانیں کھلی ہیں تو اتنا رش ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ کیوں کہ لوگوں کی ضروریات اور استعمال تو لاک ڈاؤن کے دوران بھی وہی رہے، لہذا لاک ڈاؤن کھلنے سے رش بن گیا۔دوسرا یہ کہ جب اعلان کیا گیا کہ ہفتے میں چار دن کام ہوگا اور تین دن چھٹی ہوگی تو سمجھیں سات دن کا بوجھ چار دنوں پر تقسیم کر دیا گیا۔ یعنی ہر روز کام کا بوجھ دگنا ہو گیا۔
تیسرا یہ کہ مارکیٹ کے اوقات کار بجائے بڑھانے کے گھٹا دئیے گئے۔ یعنی چوبیس گھنٹے والا دن، جس میں ہم نے دو دنوں کا بوجھ ایڈجسٹ کرنا تھا، اس کی ٹائمنگ کم کر دی گئی۔ لہذا اس وجہ سے بھی رش بڑھ گیا۔چوتھا اور سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ عام حالات میں جب کہ ہمیں دوکانیں کھولنے اور بند کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی لاک ڈاؤن کا سامنا ہوتا تھا پھر بھی عید کے دنوں میں رش زیادہ ہو جاتا تھا اور اب جب کہ تمام اسباب اکٹھے ہو گئے ہیں تو رش کا اتنا زیادہ ہونا کچھ حیرانی کی بات نہیں۔"

میں نے کہا تم اتنے سیانے ہو۔ یہ بتائو پھر اس کا حل کیا ہے۔ وہ کہنے لگا۔ "باؤ جی ! اس رش کو کم کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ حکومت ہفتے میں سات دن اور چوبیس گھنٹے کام کرنے کی اجازت دے۔ ورنہ دوسری صورت میں پھر سے مکمل لاک ڈاؤن لگا دے۔ لیکن یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہ کرے۔ اب یہ مویا کرونا کوئی ہمارا پابند تھوڑی ہے کہ تین دن کام کرے گا اور ہمارے کام کے دنوں میں یہ چار دن کی چھٹی پر چلا جائے گا۔ لہذا یہ سمارٹ لاک ڈاؤن والی ڈرامے بازی بند کی جائے۔ "میں سوچنے لگا، سو روپے دیہاڑی والا یہ چھوٹا درحقیقت کتنا بڑا ہے۔ کم از کم ہماری وفاقی و صوبائی حکومت سے تو بڑی سوچ ہی رکھتا ہے کہ جنہیں دو جمع دو چار والی سیدھی سی بات بھی سمجھ نہ آ سکی۔ پھر میں سوچنے لگا، کیا ہماری حکومت سوچتی بھی ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */