رانی بی بی کتنی ناشکری ہے - آصف محمود

19 سال بعد ہی سہی اس کو تو پھر بھی انصاف مل گیا۔ کیسی ناشکری عورت ہے، احسان مندہونے کی بجائے مالی مطالبات پر اتر آئی ہے؟رانی بی بی بھی کتنی نا شکری ہے، 19 سال جیل کی کوٹھڑی میں پڑے رہنے کے بعد انصاف اس کی دہلیز تک آن پہنچا اور وہ بے گناہ قرار دے کر رہا کی گئی تو اب این جی اوز کے بہکاوے میں آ کر ریاست سے پیسے مانگنے نکل پڑی ہے کہ باقی کی زندگی گزارنے کا اہتمام کر سکے۔

اسے اتنا بھی خیال نہیں کہ حکومت نے بھی جواب میں رجسٹر کھول لیا کہ بی بی رانی ہم نے تمہیں 19 سال روٹی کپڑا اور مکان دیے رکھا، ذرا اس کے واجبات تو ادا کرتی جاؤ، تو کیا ہو گا؟رانی بی بی کو ذرا بھی احساس نہیں کہ اس کی وجہ سے ملک کا سافٹ امیج متاثر ہو رہا ہے۔ کیا ہوا جو اس کی ماں باپ اور بھائی کو بے گناہ جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کی بے گناہ ماں وہیں جیل میں مر گئی ، کیا اب اس کا یہ مطلب ہے کہ ملک کے نظام تعزیر کو دنیا بھر میں تماشا بنا دیا جائے؟ یہاں تو سڑک پر بچوں کے سامنے ماں باپ بھون دیے جاتے ہیں اور وزیر اعظم قطر سے واپس ہی نہیں آتے۔ 19 سال بعد ہی سہی اس کو تو پھر بھی انصاف مل گیا۔ کیسی ناشکری عورت ہے ، احسان مندہونے کی بجائے مالی مطالبات پر اتر آئی ہے؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی یہ ذمہ داری تھی وہ سرکاری وکیل کے ذریعے رانی بی بی کی مقررہ وقت میں اپیل دائر کرواتا لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اب کیا صاحب بہادر کو لٹکا دیا جائے؟ کیا یہ عورت کوئی ایک مثال پیش کر سکتی ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے اس کے حسن سلوک کی بابت وطن عزیز میں کوئی سوال ہوا ہو؟ تو کیا ایک عورت کے لیے ہم اپنی عشروں کی روایات بھلا دیں؟رانی بی بی کون سی نواز شریف تھی کہ پیشیوں پر لے جانے کے لیے روٹ لگائے جاتے، سینکڑوں اہلکار تعینات کیے جاتے، جیل میں اس کے لیے خصوصی میڈیکل یونٹ تعینات کیا جاتا اور ا س کے واش روم کی دیواروں کی سیلن کے نوحے لکھے جاتے؟ اسے تو ماں کے مرنے پر بھی کسی نے پیرول پر رہا نہیں کیا تھا۔ حشرات الارض بھی بھلا کبھی پیرول پر رہا ہوئے؟

رانی بی بی کی بے نیازی دیکھیے۔ یہاں عدالتوں سے لوگ بری ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ تو اس سے پہلے ہی پھانسی پا کر قبر میں لٹائے جا چکے۔ ایسا کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے تو رانی بی بی کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ 19 سال وہ جیل میں رہی دس سال اور پڑی رہتی تو کون سا طوفان آ جانا تھا۔ اس کی ماں کا جنازہ بھی تو جیل ہی سے اٹھا تھا۔ اس کا بھی اٹھ جاتا تو کون سی قیامت آ جاتی۔ لیکن اس خوش قسمت کو انصاف ملا۔ یہ نصیبوں جلی اب اپنی قسمت پر ناز کرنے کی بجائے شکوہ کناں ہے۔ کیسی بے نیازی ہے اور کیسا خوفناک ناشکرا پن ہے۔

نیم خواندہ عورت قانون سے بھی لاعلم ہے۔ قانون میں ایسی کون سی شق ہے کہ کسی بے گناہ کی زندگی کے انیس بیس سال جیل میں برباد ہو جائیں تو رہائی کے بعد ریاست اس کی مالی مدد کرے گی؟ اب یہ تو کسی کتاب میں بھی نہیں لکھا۔ ہمارے معزز اراکین پارلیمان کو کیا پڑی وہ یہاں قانون سازی کرتے پھریں۔ ان کے اپنے جھمیلے کم ہیں کیا؟ کیا وہ ایوان میں اس لیے آتے ہیں کہ رانی بی بی جیسوں کے لیے قانون سازی کرتے پھریں؟

19 سال جیل میں رہنے سے رانی بی بی کا دماغی توازن بھی شاید ٹھیک نہیں رہا۔ وہ اپنے 19 سالوں کی بربادی کے بعد نئی زندگی کی ابتدا کے لیے زر تلافی چاہتی ہے۔ قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ لکھ دیا ہے کہ 'This court feels helpless in compensating her' ۔ اب ایسا کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی درکار ہے۔ تو کیا صرف ایک انتہائی مقامی قسم کی غیر اہم عورت کے لیے قانون سازی کی جائے؟

رانی بی بی زمینی حقیقتوں سے بھی لاعلم ہے۔ یہاں تو صدیوں پرانے قوانین سے کام چلایا جا رہا ہے۔ ۔ تعزیرات پاکستان کے نام سے جو قانون یہاں رائج ہے وہ 159سال پرانا ہے۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری 121سال پرانا ہے۔ سیلز آف گڈز ایکٹ 89سال پرانا ہے۔ سپیسیفک ریلیف ایکٹ کو بنے 140سال ہو گئے ہیں۔ سٹیمپ ایکٹ 119سال کا ہو چکا ہے۔ ٹرانسفر آف پراپرٹی کا جو قانون ہم نے رائج کر رکھا ہے وہ 136 سال پرانا ہے۔ ایکسپلوسیوز ایکٹ کی عمر 134 سال ہے۔ پاسپورٹ ایکٹ 98 سال پرانا ہے۔ پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس کا قانون 157 سال پرانا ہے۔ ایکٹریسٹی ایکٹ کی عمر 108 سال ہے۔ فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ کو بنے 163 سال ہو گئے ہیں۔ جنرل کلاز ایکٹ 121سال کا ہو چکا ہے۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 128 سال پرانا ہے۔ لینڈ ایکوی زیشن ایکٹ کی عمر 124سال ہے۔ میجورٹی ایکٹ 143 سال پرانا ہے۔ لمیٹیشن ایکٹ کو بنے110 سال ہو چکے ہیں۔ نگوشییبل انسٹرومنٹ ایکٹ کی عمر 137سال ہے۔ اوتھ ایکٹ 145سال کا ہو چکا ہے۔ پارٹیشن ایکٹ کو 125 سال ہو چکے ۔ پارٹنرشپ ایکٹ86سال پرانا ہے۔ پاور آف اٹارنی ایکٹ 136 سال کا ہو چکا ہے۔ پنجاب لاز ایکٹ کی عمر 146سال ہے۔ پنجاب ٹیننسی ایکٹ 131سال پرانا ہے۔ رجسٹریشن ایکٹ 110سال پرانا ہے۔ ریونیو ریکوری ایکٹ کو 128 سال ہو چکے ہیں۔ قانون سازی کا جو بھاری پتھر ہمارے معزز اراکین پارلیمان آج تک نہیں اٹھا سکے کیا اب رانی بی کے لیے وہ یہ پتھر اپنی کمر پر لاد لیں؟

اس وقت ملک ویسے بھی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ رانی بی بی کو خود غرضی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنی ذات سے بلند ہو کر سوچنا چاہیے۔ وہ رہا ہو گئی ، یہ خوشی کا موقع ہے۔ خوشی کے اس موقعے پر اسے قوم کے لیے کچھ کر گزرنا چاہیے۔ رانی بی بی چاہے تو گردہ بیچ کر اس میں سے آدھی رقم ڈیم فنڈ میں یا کرونا ریلیف فنڈ میں عطیہ جمع کرا کر ذمہ دار شہری ہوونے کا ثبوت دے سکتی ہے۔ اس صورت میں وہ کسی قانونی کارروائی سے بھی محفوظ رہے گی کیونکہ فنڈ میں رقم دینے والوں سے ذریعہ آمدن نہیں پوچھا جا سکتا۔ تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو یہی سمجھا جائے گا وہ این جی اوز کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، ملک کے نظام تعزیر کے خلاف سازش کر رہی ہے اور دنیا میں ہمارا امیج تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
مجھے تو یہ عورت تھوڑی تھوڑی یہودی ایجنٹ لگتی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */