حقیر مخلوق - قرۃالعين

"اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر مخلوق کی تمثیل بیان کرے"۔سورہ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت کا مفہوم اس سے قبل اتنی گہرائی سے کبھی سمجھ نہ آیا کہ آخر اللہ نے مچھر جیسی چھوٹی مخلوق کی ہی مثال کیوں دی؟موجودہ وباء اور دنیا کی بے بسی نے یہ بات عیاں کر دی کہ اللہ کو جو کام منظور ہو وہ کسی ادنی یا اعلی نفس کا محتاج نہیں بلکہ صرف اس کے کلمہ" کن" کا منتظر ہوتا ہے۔

مخلوق کی ہیئت کو ہم جیسے پیمائشوں میں الجھے ہوئے انسان اہم سمجھتے ہیں ۔کارخانہ قدرت میں تو سب ایک سے بے اختیار ہیں ۔لیکن انسان اپنے اشرف لقب کے زعم میں یہ حقیقت فراموش کر بیٹھتا ہے کہ وہ کتنا بے بس ہےاور جب جب انسان نے اس حقیقت سے آنکھیں چرائیں تب تب اللہ کی ایسی ہی ادنی مخلوق نے اس کے غرورکا سر نیچا کیا۔نمرود کی اکڑ کو ایک مچھر سے توڑنے والے رب نے موجودہ انسان کی اکڑ کو توڑنے کے لئے اپنی فوجوں میں سے ایسی فوج کو استعمال کیا جس کو دیکھنے کے لئے بھی آلات کی مدد لینا پڑتی ہے ۔آج کے انسان کی اکڑ بھی تو نمرود سے کئی گنا زیادہ تھی۔پانی پر تیرتا انسان فراموش کر بیٹھا کہ وہ خود پانی کی ایک بوند سے بنا ہے،فضاؤں کو چیرتا انسان بھول گیا کہ وہ تو سانس سانس کا محتاج ہے،دھرتی کو ادھیڑتا ابن تراب اس بات سے انجان ہو گیا کہ اس کے اپنے وجود کا خمیر مٹی ہی ہے۔

مالک الملک تو نے کیسے ایک ہی جھٹکے میں انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دی،جب قرآن کی زبان سمجھ نہ آئی تو ایک خوردبینی کیڑے کی زبانی سمجھا دیا کہ ثریا تک پہنچنے والا ابن آدم اپنی ذات میں مٹی ہے اورتیری خدائی کے آگے بے بس ہے۔ایک ادنی سی جان کو بے قابو کر کے انسان پر مسلط کیا اور اس بات کا ادراک کروایا کہ کتنی ہی بڑی ہئیت اور مضبوط مخلوقات جو انسان کے تابع اوراس کے جینے کا سامان بہم پہنچاتے ہوئے زندگی کی راہیں ہموار کررہی ہیں، اصل میں کسی عظیم الشان ہستی کے حکم پر اسکی ماتحت ہیں ۔اپنی ذات میں نقصان دہ مخلوقات کو انسان کے لئے مفید بنانے والے اور اس کے لئے اپنی کائنات کو مسخر کرنے والے تیرا صد شکر۔اگر انسان کی سر کشی کا ذرا سا بھی عکس کسی ایک بھی مخلوق پر پڑ جائے اور مالک اسے بے قابو ہونے کا اذن دے دے تو یہی انسان جو کبھی فرعون اور نمرود بنا کائنات پر خدائی کے دعوے کرتا ہے ایک لمحے کو بھی جی نہیں سکتا۔

آج کاانسان اپنی مادی ترقی کے عروج پر ہے لیکن ایک معمولی جرثومے کے آگے اسکی ساری ترقی بے کار،اسکی عقل جامد،آنکھیں خیرہ کرنے والی ٹیکنالوجی ہاتھ باندھے ساکت اور اانسان خود بے یقینی کی کیفیت میں لرزاں و پشیماں ہے کہ اس درد کا کیا درماں کرے۔اے خدا تیری عظمت و جلال کے کیا کہنے،ایک ادنی سا کیڑا ہمیں کتنا سبق سکھا گیا۔مالک آج ہم سب انسان تیرے جلال کے آگے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ،تیری رحمت کے منتظر ہیں، ہمارا ہر انگ اس بات کی شہادت دے رہا ہے۔لا اله الا انت سبحانك انى كنت من الظالمين.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */