لگتا ہے کہ حکومت کو لاشے درکار ہیں۔سجاداحمدشاہ کاظمی

باقی ممالک کتنا معاملے سنجیدہ لیتے ہیں یا پھر کیا اقدامات اٹھاتے ہیں؟ اس بات سے بالا تر ہمیں یہ سوچنا چاہئے تھا کہ ہم نے کیا کرنا ہے؟۔ کرونا وائرس نے چین کے بعد ایران کو متاثر کیا، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہمارے ملک کی شیعہ کمیوینٹی اکثریت کے ساتھ ایران کے دورے پر ہوتی ہے ۔

لہذہ ایران سے ہمیں یہ خدشہ تھا کہ وائرس براستہ ایران پاکستان میں آئے گا۔ وہی ہوا جسکا خوف تھا ۲۶فروری سے پہلے یحییٰ جعفری ایران کے دورے سے واپس کراچی پہنچا اور ۲۶ فروری کو یحییٰ جعفری میں کرونا کی تشخیص ہوئی۔ یہی وہ وقت تھا جب حکومت کو کرونا بارے فکر مند ہونا چاہئے تھا لیکن نہیں بجائے اسکے کہ حکومت ملک بھر میں لوگوں کو کرونا بارے ایجوکیٹ کرتی اور ملک کے تمام داخلی رستے، کمرشل پروازیں اور دیگر ذرائع آمد و رفت کو بند کر دیا جاتا، حکومت نے ایران میں موجود ہزاروں زائرین کو کرونا سمیت پاکستان آنے کی اجازت دے دی۔ ان ہزاروں زائرین میں سے سیکڑوں ایسے تھے جو کرونا کے کنفرم مریض تھے مگر ان کے جسم میں تاحال علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، لہذہ ان میں سےاکثر کے ٹیسٹ بھی نہ کئے اور یہ لوگ مختلف علاقوں میں پھیل کر کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن گئے۔

لا پرواہی کا یہ سلسلا بارڈر کھولنے تک محدود نہیں رہا بلکہ ۲۴ مارچ تک حکومت نے پورا ملک اس صورتحال کے باوجود بغیر کسی احتیاط کے کھلا رکھا اور اسکے بعد لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ لاک ڈاؤن تھا یا تماشہ؟ کہ سبزی منڈیوں، بینکوں، اسپعتالوں اور راشن ڈپوز میں تو رش جوں کا توں برقرار تھا مگر دور دراز علاقوں میں پولیس گھر سے باہر قدم رکھنے والوں کو روڈ پر مرغا بنا کر انکی ویڈیوز فیسبک پر اپلوڈ کرنے لگی، پولیس کی فرعونیت حد سے بڑھی تو ایک بیٹے کے سامنے باپ کو مرغا بنانے پر دو پولیس اہلکاروں کا قتل نتیجہ کے طور پر سامنے آ گیا۔ بات یہاں بھی محدود نہیں رہی مساجد و مدارس لبرلز کی تنقید کا آسان حدف بنے، مولوی، تبلیغ، مسجد، مدرسے اور نماز کو کرونا پھیلاؤ کا سبب قرار دیا گیا، لوگوں نے فرقہ واریت کو خوب پرموٹ کیا اور ایران سے وائرس ایمپورٹ کرنے والی کمیونٹی نے سارا ملبہ اٹھا کر تبلیغی جماعت کے منہ دے مارا اور اس مارا ماری کے بیچ کرونا پانچ ہزار سے زاید لوگوں پر اثرانداز ہونے میں کامیاب ہوگیا جبکہ ایک سو زندگیوں کو نگل گیا۔

مارچ سے ۱۴ اپریل کے درمیانے عرصے میں کرونا پے در پے وار کرتا رہا، شیعہ سنی ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے اور دوسری طرف مرکز اور صوبوں کے درمیان لفظی گولا باری جاری رہی۔ ہمارے لئے بحثیت قوم اس سے بڑی افسوسناک صورتحال بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟ کہ انتہائی حساس حالات میں ہمارے وزیراعظم کا موقف الگ رہا، قوم کچھ اور مانگتی رہی، صوبائی حکومتیں اور ہی مقاصد کو لئے الگ الگ ڈٹی رہیں۔ اپوزیشن کا کام تھا کہ غلطیوں کی نشاندہی کرے سو اپوزیشن نے یہ کام خوب کیا مگر بدقسمتی اس قوم کی کہ اب کی بار اپنی غلطیوں کو سدھارنے والے حکام ہی اس قوم کے لئے ناپید تھے۔

بہر حال اب تک ہم بحثیت قوم سو سے زاید زندگیاں گنوا کر، بائیس کروڑ سے زاید لوگوں کو خطرے میں ڈال کر اور اربوں بلکہ کھربوں کا معاشی نقصان برداشت لینے کے بعد بھی کسی متفقہ لائحہ عمل کو اپنانے میں ناکام ہیں اور ہماری حکومت نے موت اور بھوک میں سے عوام کو بھوک سے بچا کر موت کے منہ میں دینے کا فیصلا کر لیا ہے۔ اب لاک ڈاؤن کو جزوی حیثیت دے کر مارکیٹ میں بہت سارے سیکٹرز کو کھولا جا چکا ہے جسکا انجام بھیانک ہوگا۔

وہ اسطرح اور اس لئے کہ مارکیٹ میں لوگ احتیاطی تدابیر کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے یا نہیں دے پا رہے۔ پسماندہ اور دور دراز ایریاز میں وہی میل ملاپ اور وہی طرز حیات ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ لوگوں کی آمد ورفت عام ہو چکی ہے اور کرونا دن بدن اپنے پنجے بھی گاڑھے جا رہا ہے۔ یہ ساری صورتحال حکومت سے مخفی نہیں ہے حکومت جانتی ہے کہ عوام شعور و آگہی سے عاری ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے اس عوام کو حکمت کے ساتھ کنٹرول کر کے ہی کرونا سے بچایا جا سکتا ہے۔

مگر حکومت ایسا نہیں کر رہی جس سے واضع معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی امداد سمیٹنے اور اپنی تمام ناکامیوں کا بوجھ مستقبل میں کرونا کے سر ڈالنے کے لئے حکمران جماعت کو لاشوں کی بہرحال سخت ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */