یہ دنیا رفتہ رفتہ کشمیر بن رہی ہے - طوبیٰ ناصر

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیس چار لاکھ پچیس ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 19 ہزار کے قریب پہنچ گئی جبکہ اس بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ دس ہزار ہے۔انڈیا میں منگل کی شب سے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں جہاں وائرس سے 6820 ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر کے تعلیمی ادارے، سیاحتی مقامات بند کر دیے گے ہیں۔یورپی یونین نے وائرس کے پھیلاؤ کے بعد 30 روز کے لیے یونین کے باہر سے تمام مسافروں کے لیے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔امریکہ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 53 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور واشنگٹن نے اپنے شہریوں کو بیرون ملک سفر کرنے سے منع کر دیا ہے۔کچھ محسوس ہوا؟ کوئی ایسا جملہ جو سنا سنا لگا ہو؟ جیسے یہ صورتحال تو کہیں پہلے بھی سننے کو ملی تھی؟ سوچیں سوچیں۔۔۔ کچھ یاد آیا؟ نہیں چلیں میں یاد کرواتی ہوں۔

کشمیری پانچ اگست2019 سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔۔۔۔۔اب تو کچھ یاد آ گیا ہو گا۔۔۔۔۔ کشمیری پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہے لیکن کسی کے کان پر سے جوں تک نہیں رینگی۔۔۔کشمیر میں کرفیو نافذ ہو گیا کوئی کچھ نہیں کر سکا کیوں کہ دنیا کے سب ممالک ترقی کی راہ پر گامزن تھے ۔۔۔سب نے بہت ترقی کرنی تھی سب نے ایک دوسرے سے آگے نکلنا تھا،طاقتور ہونا تھا کس کے پاس وقت تھا کے کشمیریوں کے بارے میں سوچے، کون تھا جو ان کے لاک ڈاؤن کو ختم کروانے کے لیے بات کرتا، کس نے محسوس کیا کے ان پر کیا گزر رہی ہو گی، وہ کیسے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنوں کو مرتا دیکھ رہے ہوں گے لیکن کچھ کر نا پاتے ہوں گے،کیسے جب وہ سوچتے ہوں گے کے دنیا کیسے آزادی سے زندگی گزار رہی ہے تو ان پر کیا گزرتی ہو گی ان کی آواز ہم تک تو نہیں پہنچ پاتی تھی لیکن قدرت تک پہنچتی تھی، پھر آتا ہے قدرت کا فیصلہ۔وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا ۔

انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے۔جو آزادی ایک حطے سے لے لی گئی تھی کسی نے کچھ محسوس نہ کیا پھر وہی صورتحال اپنے اوپر آئی تو کچھ کچھ سمجھ آنے لگی۔۔ جب انسان دوسرے گھر میں لگی آگ دیکھ کر خاموش رہے اپنے گھر میں سکون سے بیٹھا رہے اور یہ سوچے کے آگ تو دوسرے گھر میں ہے مجھے کیا ضرورت اپنا سکون برباد کروں تو اس سب میں وہ یہ بھول جاتا ہے کے وہ آگ اس کے گھر تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لے گی اور آج یہ سب دیکھ لیا ہم نے جب انسان انسان کی مدد کے لیے آگے نا بڑھا تو ساری انسانیت ایک وبا کی لپیٹ میں آ گئی۔

وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت

پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے

ابھی بھی وقت ہے ابھی بھی ہم اپنے حصے کا کام کر سکتے ہیں پوری دنیا جس وبا میں مبتلا ہے اس وبا سے لڑ بھی رہی ہے سب کے پاس سہولیات ہیں سب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو بن پڑھ رہا ہے کر رہے ہیں لیکن کشمیر ایسی وادی ہے جو اپنی بقا کی جنگ بھی نہیں لڑ پارہی، عرصے سے لگے کرفیو اور لاک ڈاؤن سے انھیں پہلے ہی کمزور کیا گیا ہے،خوراک اور دواؤں کی قلت تو پہلے ہی تھی اب اس وبا سے لڑنے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
کرونا وائرس پر منعقدہ سارک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور سارک کے دیگر سربراہان مملکت کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اطلاعات کی ترسیل ناگزیر ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاؤن ختم کرے اور اطلاعات کی ترسیل پر پابندیاں اٹھائے۔خیال رہے کہ سات ماہ سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کا شکار مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے پانچ کیسز سامنے آ گئے ہیں۔

مقبوضہ وادی کے لاکھوں مظلوم مکین پانچ اگست 2019ء سے بھارتی افواج کے نرغے میں ہیں۔کشمیریوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں نہ ہی مقبوضہ وادی میں موذی وائرس سے نمٹنے کیلئے مودی حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث کرونا وائرس سے ہلاکتوں کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا بالخصوص ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو ہنگامی طور پر صورتحال کا نوٹس لینا ہوگا۔یاد رہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ماضی میں سارک فورم کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ ہمسایہ ملک نے پاکستان میں سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے بھی انکار کیا تھا اب جبکہ نریندر مودی کا تکبر ٹوٹا ہے تو امید ہے کہ عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے خطے کے ممالک سے تعاون کا خواہشمند بھارت مقبوضہ وادی میں بھی طویل لاک ڈاؤن ختم کرے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل پر بھی پیشرفت ہو سکے اور ابھی ہی وقت ہے جب ہم اس مسئلہ پر آواز اٹھا سکتے ہیں دنیا کو ایک بار پھر جنجھوڑنا پڑے گا کہ اس ظلم کو اب ختم کروایا جائے۔ بھارت پر زور ڈالا جائے کے وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کرے اور انھیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دے۔ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے آج پوری دنیا ان حالات سے گزرتے ہوئے بھی کشمیریوں کا مسئلہ نہیں سمجھ سکی تو کبھی کچھ نہیں ہو سکے گا۔ ابھی حالات بدلے جا سکتے ہیں بھارت کمزور پڑھ رہا ہے۔ کشمیر کی حکومت نے بدھ کے روز علاقے میں سوشل میڈیا کے استعمال پر کئی ماہ سے جاری پابندی ختم کر دی ہے۔ تاہم، براڈ بینڈ سمیت ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروسز پر پابندی کو 17 مارچ تک بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ بھی ظلم ہی ہے ابھی جہاں دنیا 5جی یا 6جی پر پہنچ چکی ہے وہاں کشمیریوں کو 2جی بھی میسر نہیں ہے لیکن کم ازکم پابندی ہٹائی تو گئی ہے۔ابھی وقت ہے ابھی پوری دنیا کے ممالک کو ایک دوسرے کی مدر کی ضرورت پڑے گی اور بھارت بھی مدد کے لیے دوسرے ممالک کی طرف دیکھے گا اس وقت پاکستان کو بطورِ کشمیری سفیر کشمیر کی آواز اٹھانی چاہیے۔ بھارت پر عالمی برادری کی طرف سے دباؤ ڈلوایا جائے کے وہ کشمیر سے کرفیو ختم کرے اور باقی تمام پابندیاں ختم کرے تاکے کشمیری اپنی مرضی سے اپنی زندگیاں گزار سکیں اور انھیں تمام تر طبعی سہولیات فراہم کی جائیں تاکے وہ اس وبا کا مقابلہ کر سکیں اور اگر ہم نے اب بھی ایسا کچھ نہیں کیا تو ہم دیکھ رہے ہیں کے ساری دنیا کشمیر بنتی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے جیسے ہم کشمیر کی مدد کو نہیں پہنچے ایسے ہی ہماری مدد بھی نہیں کی جائے گی، ہم اپنی آنکھوں سے پوری دنیا کو کشمیر بنتا دیکھیں گئے۔

تحیل میں اچانک تصویر بن رہی ہے

یہ دنیا رفتہ رفتہ کشمیر بن رہی ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com