دعا قبول نہیں ہوتی کیوں - حافظ نعیم

حضرت ابراھیم بن ادہم کے پاس کچھ لوگ آئے اور ان سے سوال کیا :اے ہمارے امام ۔۔!
کیا بات ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتی،انہوں نے جواب دیا: تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو لیکن اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے،تم رسولﷺکی محبت کے دعوے کرتے ہو لیکن اس کی سنتوں کو تم نے ترک کردیا ہے ،تم شیطان کو دشمن قرار دیتے ہو لیکن اس کی پیروی کرتے ہو،تمہیں جنت کا علم ہے لیکن اس کے حصول کی کوشش نہیں کرتے، تمہیں جہنم کی ہولناکیوں کا ادراک ہے لیکن اپنے آپ کو اس کی طرف دھکیل تے جا رہے ہو،تم لوگ مانتے ہو کہ موت کا آنا یقینی ہے ،لیکن اس کے لئے تیاری نہیں کرتے،تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہو لیکن اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔

پھر تمہاری دعا کیسے قبول ہو۔۔۔؟ذرہ توجہ فرمائیں یہ صورتحال قدیم عہد کی ہے جب لوگ بنسبت ہمارے ایمان و امانت میں کہیں گنا زیادہ تھے،ان کی صداقت کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن باوجود اس کے ان کو دعا کی عدم قبولیت کی شکایت تھی،لہٰذا وہ اپنی شکایت لئے اس وقت کے ایک بزرگ کے پاس جمع ہوتے ہیں۔عرض کرتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی ،کیا کریں۔۔۔؟بزرگ فرماتے ہیں :اے لوگو۔۔۔!
دعا کی قبولیت کے تو کچھ شرائط ہیں اگر وہ پورے ہونگے تو دعا بھی قبول ہوگی بصورت دیگر دعا کی قبولیت کی بھی کوئی سبیل نہیں احکام خداوندی اور سنت رسولﷺ پر عمل ،شیطان کو دشمن جانتے ہوئے اس سے دوری،اللہ میاں کا شکر ،موت سے عبرت حاصل کرنا،جنت کے حصول کی کوشش اور جہنم سے بچائو کا سامان کرنا،اب خود ہی اپنے نفس کو حکم مکمل کرلو وہ تمہیں خود بتائے گا کہ یہ خصوصیتیں تمہارے اندر ہیں یا نہیںاگر جواب نفی میں ہو تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوکر گڑگڑائو،توبہ کروپھر تم خودبخود اس کا نتیجہ دعائوں کی قبولیت کی صورت میں اپنے سامنے پائوگے،کیونکہ میرے رب کی رحمت بہت وسیع ہے۔

لہٰذا اس دور کے لوگوں کو خصوصا اس بات کی فکر کرنی چایئے کہ اللہ تعالیٰ کے در پر دستک دیں،منکرات سے اجتناب کریں،اخلاص،صداقت و دیانت کہ دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں تاکہ دعا بھی قبول ہو اور ایمان بھی مضبوط ہو،لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب ہم ایمان کے دامن کو ترک کر بیٹھتے ہیںاور اللہ میاں سے صرف نظر کرکہ پیروں اور مزاروں کی اتباع میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اللہ میاں کے بجائے ان سے دعائیں مانگنا شروع کردیتے ہیں اگر دعا نہیں تو ان کو وسیلہ ضرور بناتے ہیں ،چناچہ اللہ میاں فرماتے ہیں:
واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ،اجیب دعوۃ الداع اذا دعان
فلیستجیبوالی ولیومنوابی لعلھم یرجعون(البقرۃ)
ترجمہ:ـــ جب آپ سے میرے متعلق میرے بندے پوچھیںتو انہیں بتادیں کہ میں ان سے قریب ہوں ،دعا مانگنے والا جب مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتاہوں،پھر مجھ ہی کو مانیں اور مجھ ہی پر ایمان لائیں۔۔ بہر کیف ہمیں اس آیت کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگنی چاہئے۔

کیونکہ وہ ہمارے نہایت قریب ہے اور اس ہی پر ایمان رکھنا چاہئے کیونکہ اس ہی میں ہماری ہدایت و فلاح مرموز ہے،اور ساتھ ساتھ ہمیں رسولﷺ کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہونا ہوگا کیونکہ فرمان رسولﷺ ہے"جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی"پس معلوم ہوا کہ دعائوں کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری شرط ہے۔لہذا ہمیں رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے تاکہ اللہ میاں ہم سے راضی ہوں اور ہماری دعائیں بھی اس کی بارگاہ میں مقبول ٹہریں ،اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com