موجودہ حالات، تنقید اور حقیقت پسندی - اقبال زرقاش

ہمارے ملک میں قائدانہ صلاحیتوں سے عاری سیاستدانوں کی ہر دور میں بھر مار رہی ہے اس میں موروثی سیاست سے لے کر حادثاتی لیڈر شپ تک کے سب تجربات اس قوم کو بھگتنا پڑے جس سے نہ ہم نے پہلے کبھی سبق سیکھا اور نہ آئندہ سیکھنے کے لیے عملی طور پر تیارہیں یہی ہماری بدقسمتی ہے۔

ہماری لیڈر شپ میں حقیقت پسندی سے بغاوت کا عنصرہر دور میں نمایاں نظر آتا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت حقائق سننے کی سکت ہی نہیں رکھتی یا پھر سننے کے لیے تیارہی نہیں۔موجودہ سنگین ترین حالات میں جب پوری دنیا کورونا وائرس جیسی وباء کا شکارہو رہی ہے اور اس جان لیوا مہلک وائرس سے متحد ہو کر لڑ رہی ہے ہمارے ہاں آج بھی اپنی سیاست چمکانے کے لیے نئی نئی دکانیں کھل گئی ہیں اور ہر شخص اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے ۔ دوسری طرف حکومت حقیقت پسندی سے آنکھیں چرا کر اپنے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں حالانکہ مثبت تنقید سے ہی اصلاح کے پہلو نکلتے ہیں جو کہ ہمیں درست سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چائنا میں کورونا وائرس کی جب وباء نمودار ہوئی تو اس قوم نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا ، اس وباء سے نہ صرف چھٹکارا حاصل کیا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی مدد بھی کر رہی ہے۔ چائنا میں جب کورونا وائرس کی وباء سامنے آئی تو وہاں بھی ان کے صحافیوں و دانشوروں نے حکومت کی کوتاہیوں پر قلم اٹھایا اور آواز بھی بلند کی ,گو کہ دیگر میڈیا نے اس کو بہت زیادہ نہیں اچھالا لیکن تنقید وہاں بھی ہوئی ۔

یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی حکومت نے صحافیوں اور دانشوروں کے خلاف محاذ جنگ کھولنے کی بجائے تنقید کی روشنی میں اپنی اصلاح کی اور جو حکومت کی طرف سے کمی بیشی ہوئی اس کو دور کیا ۔جبکہ ہمارے ہاں حکومت کی کوتاہیوں پر جب تنقید ہوئی تو بجائے ان کی اصلاح کرنے کے حکومتی مشیروں اور پارٹی رہنماوںنے تنقید کرنے والے افراد کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر لیا جو حکومت کی سبکی کا باعث بن گیا ہر دور حکومت میں حکومتوں سے غلط فیصلے ہو جایا کرتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ خود کو عقل قل تصور کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں پر اپنا غصہ مختلف شکلوں میں نکالا جائے دراصل یہی منفی رجحان ہماری تباہی کا سبب ہے۔ہم تنقید کو مثبت انداز میں لے کر اپنی اصلاح کرنے کی بجائے نشاندہی کرنے والوں کی طرف اپنی توپوں کا رخ موڑ لیں یہ بحثیت قوم ہمارا المیہ ہے۔ وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کوہی دیکھ لیجیے جب کچھ صحافیوں نے موجودہ صورت حال پر حقائق سے پردہ اٹھایا اور پاک ایران باڈر تفتان کی صورت حال پر ایک بااثر مشیر زلفی بخاری کا نام لے کر ان کی مجرمانہ غفلت کا ذکر کیا تو وزیراعظم آگ بگولہ ہو گئے اور اس سوال کا جواب گول کرگئے ۔

اسی طرح دیگر صحافیوں نے چبتے ہوئے سوالات کیے جو ان کی طبعیت پر گراں گزرے حالانکہ یہ وہ من پسند صحافیوں کی ٹیم تھی جو عمران خان کو اقتدار میں لانے میں اور رائے عامہ ہموار کرنے میں پیش پیش تھی ۔یہ بدلتے تیور دیکھ کر وزیراعظم کو محسوس کر لینا چاہیے تھا کہ ان کی ٹیم جو سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے وہ غلط ہے حقائق کچھ اور بتا رہے ہیں۔یہ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے اختتام پر حکومت کی پوری مشینری صحافیوں کے خلاف حرکت میں آگئی ۔سوشل میڈیا پر صحافیوں کے خلاف گالی گلوچ اور نازیبا کلمات کی بوچھاڑ کردی گئی جیسے اصل جنگ کورونا وائرس سے نہیں بلکہ حکومت کی غفلت کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے ساتھ ہے ۔یہ رویہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ۔چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت فوری طور پر اس مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف انکوائری کرواتی اور ان کو فوری طور پر اپنے عہدوں سے برطرف کرکے باقی حکومتی ٹیم کے لیے ایک مثال قائم کرتی۔ بدقسمتی سے یہاں ہر دور حکومت میں ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی پسند و نا پسند کو اولیت دی جاتی ہے جو ہماری بربادی کی اصل وجہ ہے۔

اٹلی کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں کی حکومت نے بھی فیصلہ سازی میں تاخیر کی اور آج پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے ہم حقیقت پسندی کا دامن تھام کر درست اور بروقت فیصلے کریںاور جہاں جہاں کوتاہیاںسرزدہوئی ہیں ان کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر درست فیصلے تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے کریں اور ایک قوم بن کر اس ناگہانی آفت کا مقابلہ نہایت بہادری اور جرات سے کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com