کورونا کو مت چُھونا - عامر بھٹی

کورونا ایک وائرس ہے جس سے ایک وبا COVID-19 پھیلی ہے۔ یہ وبا پاکستان سمیت درجنوں ممالک کے لیے درد سر بن چکی ہے بلکہ یہ کہیں کہ وبال جان بن گئی ہے۔ اس وبا نے تقریباً عالمی دنیا کو ساکت کر دیا ہے۔ ہوائی سفر رک گیا ہے سرحدوں کو بند کر دیا گیا ہے اور پاکستان سمیت متعدد ممالک لاک ڈاؤن میں جا چکے ہیں۔

کیونکہ اس وبائی مرض کی ابھی تک کوئی مستند دوائی نہیں بنائی جا سکی تو اس کے تدارک اور روک تھام کے لئے حفاظتی اقدامات ہی مؤثر ترین ثابت ہوئے ہیں۔ "پرہیز علاج سے بہتر ہے" کا مکمل اطلاق دنیا بھر میں اس بیماری پر قابو پانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی بنیاد پر عالمی سطح پر کیے گئے اقدامات اور ان کے نتائج کی بنیاد پہ چند بنیادی احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہیں تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ ہو اور اس وبائی مرض کی روک تھام میں کردار ادا کیا جا سکے۔

1۔ گھر سے باہر نکلنا ترک کر دیں۔ اگر نہیں کر سکتے تو کم از کم محدود کر دیں
۔
2۔ عوامی اجتماع سے اجتناب کریں۔ شادی بیاہ کی تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور شاپنگ مال سے کنارہ کش ہو جائیں۔

3۔ مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں۔ زبانی سلام دعا پر ہی اکتفا کریں۔

4۔ گھر سے باہر آنے جانے والا شخص اپنے دوسرے خاندان کے افراد سے صابن سے نہائے بغیر، یا صابن سے ہاتھ منہ دھونے سے پہلے ہرگز نہ ملے۔ خاص طور پر بزرگوں سے جسمانی میل جول میں احتیاط کرے۔ اگر ممکن ہو تو بزرگوں اور بچوں کو ایسے شخص سے علیحدہ رکھا جائے۔

5۔ ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے منہ، ناک، آنکھوں اور چہرے کو ہاتھ نہ لگایا جائے یا صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونے کے بعد ایسا کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس کا ڈیٹا چھپانے کے معاملے پر چین اور امریکا آمنے سامنے آگئے، وضاحتیں آگئیں

6۔ کسی بھی ایسے شخص سے دوری اختیار کریں جس نے ایک آدھ ہفتے پہلے تک، جہاز میں اور خاص طور پر باہر کے ملک کا سفر کیا ہویا کسی باہر کے ملک سفر کرنے والے فرد سے میل جول رکھا ہو۔ اگر سفر کرنے والا آپ کا قریبی عزیز ہے تو اس کو کم از کم دو ہفتوں کے لیے الگ تھلگ کر دیا جائے۔ یاد رکھیں، کہ وائرس چودہ دن میں بیماری کے اثرات ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران یا تو متاثرہ شخص بیمار ہو جائے گا یا وہ مکمل صحت یاب ہو گا۔ اسی وجہ سے یہ دو ہفتوں کی علیحدگی نہایت اہم ہے۔

7۔ عمرہ و زیارات کی مبارک باد صرف فون پہ دیں۔ اور بنفسِ نفیس مبارک باد کم از کم ایک ماہ تک کے لیے مؤخر کر دیں۔

8۔ گھر داخل ہوتے وقت پہلا کام صابن سے ہاتھ منہ دھونے کا کریں۔

9۔ صابن، وائرس کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر ہو سکے تو ہر گھنٹے بعد صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں یا کم از کم دن میں دس دفعہ صابن سے ہاتھ دھوئیں۔ ضروری نہیں کہ کوئی نامی گرامی یا مہنگا صابن استعمال کیا جائے۔ مارکیٹ میں دستیاب عام صابن بھی کارگر ہے۔

10۔ صابن کم ازکم بیس سیکنڈ تک مساج کریں۔ مساج کرنے کا طریقہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یوٹیوب کے اس لنک پہ دیکھا جا سکتا ہے۔

11۔ کسی کو ہلکا سا بھی زکام، کھانسی یا بخار ہو تو فوراً اس کا کمرہ، بستر، برتن الگ کر دیں۔ اس کو ماسک استعمال کروائیں۔ پانی زیادہ پلائیں۔ تیمار داری کرنے والوں سے دور رکھیں۔

12۔ اگر طبیعت تین دن تک سنبھلنے کی بجائے بگڑے، یعنی خشک کھانسی بڑھ جائے، سانس لینے میں دشواری ہو، بخار نہ اترے تو پھر اپنے علاقے کے مطابق محکمہ صحت کی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر کال کریں۔ ہسپتال کا رخ انتہائی حالات میں کریں بلکہ محکمہ صحت والوں کی ہدایت پہ ایسا کریں۔ مریض اور اس کے لواحقین ماسک پہنیں اور دوسروں سے دوری اختیار کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے - آصف محمود

13۔ چھوٹی موٹی علامات یعنی زکام، معمولی کھانسی، اور ہلکا پھلکا بخار میں ہسپتال نہ بھاگیں۔

14۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مدد و پناہ مانگیں۔ استغفار کریں اور کچھ مسنون دعائیں عافیت کے لئے پڑھیں۔

یاد رکھیں کہ اسباب کی تلاش انسان کا فرض ہے اور نتیجہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اختیار۔ چنانچہ اسباب کا ضرور اہتمام کریں اور نتائج اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ مصیبت و پریشانی کی اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب احتیاطی تدابیر و معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بنیں نہ کہ اپنی بے احتیاطی کے ذریعے وائرس کے پھیلنے کا باعث بنیں۔