یہ توبہ کاوقت ہے- عابدرحمت

حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔کوئی پرسانِ حال نہیں۔دنیا کا ہرانسان بے بس اور مجبوروبے کس ہے۔کورونا وائرس نے کوئی قطعہ اراضی ایسا نہیں چھوڑا جہاں اپنے پنجے نہ جمائے ہوں۔کوروناکے شکارمریضوں کی تعدادمیں روزافزوں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ہرروزبڑھتی ہلاکتوں کی تعداد دل دہلاکر رکھ دیتی ہے۔ہنستی کھیلتی اوردوڑتی بھاگتی زندگی تھم سی گئی ہے۔

شہروں کے شہر ویرانیوں میں گھرے ہیں۔ بڑی بڑی طاقتیں اس وائرس کے سامنے سرنگوں ہیں۔دنیاکامعاشی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ذرائع مواصلات میں بھی رکاوٹیں درپیش ہیں۔سفرتوگویاخو دکسی لمبے سفرپہ نکل چکا ہے۔راہیں مسافروں کی راہ تک رہی ہیں۔مسافرسواریوں کے منتظرہیں۔اس وباء کے سامنے کھربوں ڈالرکے میڈیکل سسٹمز اور سائنسدان ہتھیارڈال چکے ہیں۔الغرض حالات کا نوحہ کرنے ، رونے پیٹنے اور کہنے کوتوبہت کچھ ہے لیکن اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ انسان خسارے میں ہے۔

انسانوں پر یہ وبائیں اور بلائیں کیوں عتاب بن کر نازل ہوتی ہیں ؟اس بارے میں ہر طبقے اور ہرانسان کی اپنی اپنی آراء ہیں۔بعض کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک وائرس ہے جو چمکادڑوں اورحرام اشیاء کو بطورِ خوراک استعمال کرنے پر پھیلا ہے۔ بعض احباب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بس ایک وباء ہے اور کچھ نہیں۔ کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ایک جنگ ہے جو دشمن کے خلاف د شمنوں نے شروع کی ہے۔اکثرلوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ بعض کے بقول یہ اللہ کاعذاب ہے جو ہم پرمسلط کردیا گیاہے۔ ان سب باتوں کابالاختصارتجزیہ کرنا ازحدضروری ہے تاکہ یہ پتاچلایا جائے کہ اصل حقیقت کیاہے اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہے؟جن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حرام اشیاء کے استعمال سے پھیلا ہے توانھیں یہ جان لیناچاہیے کہ غیرمسلموں کی اکثریت ہزاروں سال سے حرام خوری میں مبتلا ہے ۔جولوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک وباء ہے توانھیں تاریخ کے اوراق پلٹنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وبائیں جب بھی پھوٹی ہیںتووبائوں نے کسی ایک مخصوص علاقے میں ہی اپنامسکن بنایا۔ہاں بعض نے قرب وجوارکو بھی متاثر کیا۔جن کا یہ ماننا ہے کہ یہ ایک جنگ ہے تو ان کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ جنھیں اس وائرس کا ماسڑمائنڈ قراردیا جارہاہے ،وہ خوداس کاشکارہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سچی توبہ - عالیہ زاہد بھٹی

اب رہا یہ مسئلہ کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے توہمیں یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ آزمائش آتی کن لوگوں پر ہے ۔قرآن وسنت کی رو سے پتا چلتاہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر آزمائش ڈالتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں۔بطورِ مثال سیدناآدم ؑ سے لے کرآخری پیغمبرمحمدﷺ تک کی پاکیزہ زندگیوں کامطالعہ کیاجاسکتاہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کوآزمائش کی بھٹی سے گزارکراپنے قرب کی سعادت سے نوازتاہے۔ اب آخری بات ہی رہ جاتی ہے کہ یہ عذاب کی صورت ہے۔اس بارے میں اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے پتا چلتاہے کہ نافرمان قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتاہے۔قرآن وحدیث سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نافرمان اقوام پراپناعذاب مختلف شکلوں میں نازل کیا ۔کہیں زمین الٹ دی گئی ، کہیں قوموں کو غرق کردیا گیا توکہیں وبائیں پھوٹ پڑیں، کچھ قوموں پر پتھروں کی بارش برسائی گئی تو کسی کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔

یہ وباء اور وائرس اللہ تعالیٰ کا عذاب اورعتاب ہی دکھائی دیتاہے۔جس کاثبوت ہمارے اپنے گریبان میں جھانکنے سے بآسانی مل جائے گا۔ہم دین سے دوری اور اخلاقی پستی کالبادہ اوڑھ چکے ہیں ۔ہمارا بال بال معصیت میں جکڑا ہوا ہے۔ہم گروہوں اورفرقوں میں منقسم ہیں۔مذہب پر اپنے مفادات کو ترجیح دینے میں ہماراکوئی ثانی نہیں۔اسلام اوراسلامی تعلیمات ہمیں فرسودہ معلوم ہوتی ہیں۔دین کے حامل اور داعی ہمیں دقیانوسی خیالات کے حامل لگتے ہیں۔ہماری پیشانی ایک خداکے بجائے اوروں کے درپہ جھکتی ہے۔ نمازوں سے ہم تغافل برتتے ہیں۔ہمیں حلال وحرام کی تمیزتک نہیں رہی۔ہمارے اجسام لہوولعب کی دلدل میںدھنستے جارہے ہیں۔ بدعہدی ، بدکرداری اوربدعملی کالباس زیب تن ہے۔ اپنی خواہشات اورہوس کی تکمیل کے لیے حرام کردہ راہوں پرچل نکلے ہیں۔ہم بے اعتدالیوں اور بے انصافیوں کے علمبردارہیں۔

ہم نے ظلم وستم روارکھاہے۔ہم سے حقوق کی پامالی جیساسنگین جرم سرزدہوتاہے۔مختصراًہمارے کردارکی یہ حالت ہے کہ ہم نبی ﷺکے نام پر لوگوں کو لوٹتے ہیں۔بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔جسدواحدہونے کے بجائے باہم دست وگریباں ہیں۔ایک دوسرے کو دھوکافریب دینے کی کوشش میں لگے ہیں۔پڑوسی پڑوسی کواذیت دے کرراحت محسو س کرتاہے۔ اشیائے خوردونوش سے لے کر ہرچیز میں ملاوٹ اورگراں فروشی کا بازارگرم ہے۔ماپ تول میں کمی توجیسے ہماری گھٹی میں رکھ دی گئی ہو۔جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسوربن چکاہے۔سودخوری ، زناکاری اوررشوت ستانی عام ہوچکی ہے۔فحاشی اورعریانی سے بازاروں کی رونقیں قائم ہیں۔ہم جنس پرستی کو رواج دیاجارہاہے۔اللہ کے بنائے جسم کو میراجسم کہنے والوں کاتانتا بندرہا ہے۔ حرفِ آخر وہ کون ساگناہ ہے جوسابقہ اقوام میں پایاجاتاتھا اورہم اس میں مبتلانہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   سچی توبہ - عالیہ زاہد بھٹی

یہ اپنے گناہوں کی توبہ کاوقت ہے۔ہم اس قدرعاجزہیں کہ اللہ کے اس عذاب کامقابلہ کرنے سے قاصرہیں۔چہ جائیکہ ہم یہ کہیں کے کوروناسے ڈرنانہیں ، لڑناہے، ہم اسے شکست دے دیں گے، ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔یقین مانیں ساری ٹیکنالوجی ، ساری کوششیں ،سارے انسانی وسائل اورسارے حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ہم اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ جب تک ندامت کے آنسوئوں سے اپنے گناہ نہیں دھولیتے اس وقت تک اس مرض سے چھٹکارا پالینا، ایک دیوانے کے خواب کے سواکچھ نہیں۔ اس وائرس کواگرکوئی روک سکتاہے تووہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ہمیں تقدیرسے تقدیرکی طرف پلٹنا ہوگا۔ احتیاطی تدابیرکے ساتھ ساتھ اللہ کے حضور گڑگڑاکراپنے گناہوں سے توبہ کرناہوگی ۔امیدہے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں سے درگزر کرتے ہوئے ہمیں اس عذاب سے نجات دے گا۔ان شاء اللہ