روایتی یا گوریلا جنگ - سلمان رضا

دیکھئے یہ جنگی صورتحال ہے۔ سو حکمت عملی بھی جنگی ہی اپنانی پڑے گی۔ دشمن کی جب طاقت بہت زیادہ ہو، تعداد بہت زیادہ ہو، یا مد مقابل میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت یا پیش قدمی روکنے کی سکت نہ ہو، تو ایسے میں روایتی جنگ لڑنا اپنی افرادی و مادی قوت کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ ایسے میں گوریلا جنگ کا آپشن زیادہ مناسب اور موثر ہوتا ہے۔

کورونا وائرس دنیا بھر میں جس تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور جس کثرت سے لوگ اس کا شکار ہو کر بیمار یا فوت ہوتے جا رہے ہیں، اس کے بعد اس وائرس کے سامنے آ کر لڑنا ہرگز دانش مندی نہیں۔ اگر کوئی اس وائرس کو آسان لے رہا ہے تو وہ خود کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور اپنے متعلقین کو بھی۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ موجودہ صوتحال میں ہمارے پاس گوریلا جنگ سے زیادہ موزوں آپشن کوئی نہیں ہے۔

گوریلا جنگ کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ فوری طور پر اپنے افرادی و مادی وسائل کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا جائے۔ آپ کے لیے سب سے محفوظ مورچہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ خواہ مخواہ باہر نکلنا خطرناک ہی نہیں تباہ کن ہو سکتا ہے۔ آپ دشمن کو گھر کی راہ دکھا سکتے ہیں۔ یا دشمن آپ کا تعاقب کر کے آپ کے کسی عزیز یا متعلقہ فرد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اگلے مرحلے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی ہو گی۔ کمزوریاں تلاش کرنی ہوں گی اور موقع تاک کے چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں گی۔ کورونا کے مدمقابل ہتھیار یعنی دوا اس وقت دستیاب نہیں ہے۔ دوا کی تلاش و تیاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ صورت چھاپہ مار کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ اللہ تعالی انسانیت پر رحم فرمائے اور جلد از جلد اس وائرس کا توڑ عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون الہی اور کورونا وائرس - حسین اصغر

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں اضافہ کے ساتھ وائرس کا زور ٹوٹنا شروع ہو جائے گا، دوسرے الفاظ میں وائرس تھکنا شروع ہو جائے گا۔ کمزور پڑ جائے گا۔ اللہ عافیت فرمائے کہ ایسا ہی ہو۔ تب شاید ہلکے پھلکے ہتھیار بھی کارآمد ثابت ہوں۔ اس وقت تک دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنانی ہو گی۔

جنگ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ دشمن کے جاسوسوں سے بھی محتاط رہا جائے۔ سوائے انتہائی قابل اعتماد افراد کے، کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ صورتحال میں یہ انتہائی قابل اعتماد افراد صرف اور صرف آپ کے اپنے اہل خانہ ہو سکتے ہیں۔ باقی تمام رشتہ دار متعلقین دوست احباب دفتر کے ساتھیوں کو اس وقت جاسوس کی فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ لہذا عقلمندی اسی میں ہے کہ محتاط رہا جائے۔

اپنا دفاع بھی مضبوط کرنا ہے اور اپنی سیکیورٹی بھی۔ دفاع کی مضبوطی قوت مدافعت کی مضبوطی پر منحصر ہے۔ سو ایسی غذا استعمال کرنی ہو گی جس سے قوت مدافعت کو تقویت ملے۔ نزلہ زکام کھانسی کا باعث بننے والی اشیاء کو فی الحال ترک کرنا ہو گا۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا ہو گا۔ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ ضرورت کے مطابق دستانے ماسک کا بھی استعمال کرنا ہو گا۔ دیگر مجوزہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہوں گی۔

اپنی سیکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ انٹرنیٹ کی مثال سے سمجھنا بہت آسان ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ پر وائرس اور ہیکرز سے بچاؤ کے لیے فائر وال قائم کی جاتی ہے اسی طرح کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فائر وال بنانی ہو گی۔ اس کے لیے شریعت اسلامیہ میں چودہ سو برس پہلے سے رہنمائی موجود ہے۔ فللہ الحمد۔۔ باوضو رہنا، صبح و شام کے اذکار، آخری تین قل، آیت الکرسی، سورة البقرة کی آخری دو آیات، درود شریف کی کثرت، دعاؤں، صدقات، خیرات اور توبہ و استغفار کا باقاعدگی سے اہتمام کر کے بہترین فائر وال قائم کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جیتنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، ٹرمپ کا کورونا سے اعلان جنگ

اللہ تعالی ساری دنیا کے انسانوں پر رحم فرمائے۔ بالخصوص امت محمدیہ علیہ الصلوة والسلام پر۔ اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اولو الامر کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالی اس وباء کو ہم سے اور ہمیں اس وباء سے دور فرمائے۔ اللہ تعالی خوف کو دور فرما کر ہمیں ہر سمت ہر جہت سے امن و سلامتی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ہمارے شہروں گلیوں مسجدوں اور خاص کر حرمین شریفین کی رونقوں کو بحال فرمائے۔ آمین۔

وصلی اللہ علی النبی الکریم