مارچ کا یادگار مہینہ - شبانہ منصور

جب میرے دادا پاکستان کی کہانی جوش و جذبے سے سناتے تو انکے رونگٹھے کھڑے اور آواز بھرائی ہو ئی آنکھوں میں آنسو ہوتے ۔ وہ کہتے تھے اپنی ہر چیز چھوڑ کر اپنی جان بچاتے پھرتے تھے ۔ کئی کئی دن بھوکے رہتے ۔ پتے کھاتے جھاڑیوں میں چھپے رہتے اور خاندان کی لڑکیوں کا ندیوں میں منہ دے کر سانس روک کر بے حس و حرکت کیا اور کہا اب محفوظ جگہ پر ہیں ۔بچپن میں یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی تھی ۔

کوئی اپنی اولاد کو مار سکتا ہے ۔ کتنے جاہل ہیں کتنے ظالم ہیں ۔ مگر آج شعور میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ آزادی کے لئے 90لاکھ عورتوں کی عصمت دری ہوئی ۔ جب دادا کے دوست واہگہ بارڈر پر آئے پوچھا کہ یہ پاکستان ہے۔ تو وہیں گر کر وفات پا گئے ۔ دادا کہتے ہیں کہ سب جائیداد، کاروبار مال و دولت سب پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔ اس لئے اتنے حالات خراب ہو گئے تھے۔ جس دن دال پکتی تو امی سے کہتا

تیرن لئی کچھا دے دیو

دل ددا دانہ لجھنا ائے

قمیض لمبی پہنا کے شلوار کا کام لیا جا تا ۔ کیونکہ آزادی کے لئے سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔ تم کیا جا نو آزادی کی قیمت ۔ 1600؁ء انگریز آئے ساڑھے تین صدیاں ہم نے ظلم سہے ۔ صرف 1940؁ء کی قرار داد سے صرف 5دن پہلے کی کہانی سناتے تھے۔ انگریزوں نے خا کساروں کے جلوس پر پابندی لگادی ۔ مگر قا ئد اعظم نہ رکے ۔ خاکساروں کے جلوس پر پابندی لگادی ۔ مگر قا ئد اعظم نہ رکے ۔ خاکساروں نے 19مارچ کو جلوس نکالا بیلچے لئے ۔ انگریزوں نے گو لی چلا دی ۔ بہت سے خاکسار زخمی و شہید ہوئے ۔ مگر منٹو پارک میں پنڈال سج گیا ۔80سال پہلے اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس خوف سے کہ ہنگامے نے پھوٹ پڑے۔ شعلہ بیاں مقرروں سے حکومت پر لرزہ طاری تھا۔21مارچ کی شام کو قا ئد اعظم دلی سے ٹرین پر سوار ہوئے ۔ راستے میں ایک ہندو مسلمان ہوا۔ بہادر یار جنگ نے کلمہ پڑھایا ۔ ٹکٹ تھی پنڈال کے اندر جانے کی ۔ لاہور سے قصور تک پھول ختم ہوگئے ۔ دادا جو طالب علم تھے ۔ انہوں نے کہا قا ئد ، قائد اندر جانا ہے۔ What's the matter اندر جانا ہے ۔ ٹکٹ ختم ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے فوری حکم دیا سب کو ایسے ہی آنے دو ۔ شاہنواز نے استقبا لیہ پڑھا ۔ قائد زخمیوں کو دیکھنے میو ہسپتال گئے ۔ فضل الحق بنگا ل کے وزیر اعلیٰ مصروفیت کی وجہ سے 22کو نہ آسکے تو 23کو آئے۔ لوگوں نے شیرِ بنگال کے نعرے لگائے تو قائد نے مذاقاً کہا اب مہینے کو چھپ جانا چاہئے ۔ 3:30 بجے ڈائس پھر آکر قرار داد پڑھی ۔ ہندو پریس نے اسے چوہدری رحمت علی کی سکیم پاکستان کہا ۔ یہ صرف پانچ دن دادا کی زبانی سنے ۔ میرے بچوں تم کیا جا نو آزادی کی قیت ۔

کیا آج مدینہ کا مماثل پاک شہر، پاک لوگوں کے دینے کی جگہ یہ وہی پاکستان ہے ۔ جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا جس کے لئے اتنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ آج انسان اتنا گر چکا ہے کہ وہ مرے ہو ئے گدھے اور کتے کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ دودھ زہر ، مرغی انڈے ، بیماریوں کا گھر ، ڈاکٹر، ڈاکو ، وکیل لٹیرے ، سبزیاں کیمیکل زدہ ، ہر چیز میں ملاوٹ ، سڑک پر پڑے زخمی کے ہاتھ سے گھڑی ، پرس اور موبائل چھین لیا جا تا ہے ۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جسے اتنی جدوجہد سے حاصل کیا تھا ۔ یہ وہ جگہ جہاں ماسک 10روپے کا 300روپے میں بیچا جاتا ہے ۔ رمضان آتے ہی ہر چیز غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہے۔ غریب قبرستان میں جا کر خودسوزی کر لیتا ہے ۔ امیر اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے ۔ غریب روزمری کی ضروریا ت مہنگائی کے ہاتھوں پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ۔ ہمیں ضمیر کی آواز پر قر آن و سنت کو سنگ میل میں بنانا ہوگا ۔ سادگی ، صبر و قناعت کو شعار بنا کر اخلاقی فیصلے پر عمل کر کے تقویٰ کا راستہ اختیار کر نا ہو گا ۔

تاکہ پاکستان کو دہشت گرد کہنے کے بجائے اقبال کا مومن کہا جا ئے ۔ حقوق العباد کی ادائیگی کرتے ہوئے انصاف کا دامن تھامنا ہو گا ۔ اپنی جڑوں کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا تا کہ اسلاف کے کارناموں کو نشاز ثانیہ کے دہرائے جائیں اور ٹیپو سلطان ، عبد الستار ، خواجہ ناظم الدین اوراق پارینہ کے بجائے نئی نسل کی شاہرہ بن سکیں ۔ ہم کچھ تو قرض اتار سکیں اپنے قائد کا ۔ کچھ آزادی کی قیمت ادا کرسکیں اور دادا کو میں کہہ سکوں آپکی قربانیاں را ئیگاں نہیں گئیں ۔ (جب وہ خواب میں آئیں گے)