بے شک میں ظالموں میں سے ہوں - افشاں نوید

سانسیں کچھ بے ترتیب ۔فون پر کئی دن بعد آواز سنی۔۔خیریت تو ہے؟میں نے دریافت کیا۔ بولیں۔۔خیریت کہاں؟تین سپر اسٹورز پر گئی اتنا رش ہے کہ قیامت۔جو ملا لے آئی۔شوہر نے آفس جاتے ہوئے کہا تھا آج تین ماہ کا راشن لے آنا۔بہت رش ہے بھائی!میدان جنگ کا سا سماں ہے۔

میں نے کہا واقعی ہم حالت جنگ میں ہیں ایسے میں طلب اگر رسد سے بڑھ جائے تو مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر غریب کا خون چوسا جاتا ہے۔اگر ایک کی جگہ درجن بھر سینیٹائزر خریدوگی تو قیمت خود ستر سے بڑھ کر ڈھائی سو ہوجائیگی۔۔یہ میری فرسٹ کزن ہے۔۔بولی۔۔میں نے یہ پوچھنا تھا کہ آیت کریمہ کی تسبیح صبح شام پڑھ رہی ہوں کیا پانچوں نمازوں میں پڑھ سکتی ہوں؟؟بہت ڈر لگا ہوا ہے۔یوں لگ رہا ھے ساحل پر کھڑے ہیں اور غضب ناک طوفان برابر بڑھ رہا ہے ہماری سمت۔بیٹے بھی بیرون ملک۔ایک پل چین نہیں۔ ہاں!کوئی اور بھی وظیفہ ہوتو بتاؤ۔ میں نے کہا آیت کریمہ کا مطلب پتہ ہے ناں؟بولی ہاں ہاں اور فرفر سنادیا کہ۔
۔اے اللہ ترے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تو، میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔۔۔ میں نے کہا یہ پیغمبروں کی دعائیں ہیں۔وہ دنیا کی سب سے برگزیدہ ہستیاں ہوتے تھے،بہت گہری بات کرتے تھے۔گہرے شعور کے ساتھ لفظ ادا کرتے تھے ہمیں ان دعاؤں کو محض زبانی مشق نہیں بنانا چاھئے۔
جب کوئی کہہ رہا ہے میں نے ظلم کیا ہے تو لمحہ بھر تو ٹہرے،تصور میں اپنے ظلم یاد کرے ۔ کوئی ایک ظلم ہوا ہے ہم سے!!!

تم ہی جانو ایک ناجائز منافع خور،چغل خور، دن میں دس تسبیح پڑھ لے یا والدین کا نافرمان یہ پڑھ کر دم کرتا رھے تو یہ قومی ترانہ تو نہیں کہ ایک لفظ کا بھی مطلب نہیں پتہ مگر ہاتھ سینے پر رکھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔پھر بھی اچھے لگتے ہیں۔ یہاں تو رب سے مکالمہ ہے۔مولا ظلم ہوگیا ہے،میں نے شعوری اقرار کر لیا کہ ظالم میری ذات تھی،یہ شیطان تھا یا میرا نفس جو تمام عمر مجھے یہی بتاتا رہا کہ تم مظلوم ہو، دنیا ظالم ہے،حق پر تم ہو،غلط دوسرے ہیں۔ مولا گناہ ہی گناہ،ناشکری ہی ناشکری۔دل شکوے کا گھر بنا رہا۔دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں سے زندگی بھر اپنا موازنہ کیا۔گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں۔جانے کتنے نیک عمل جو لوگوں کی نظر میں معتبر بناتے تھے،روز حشر پتہ چلا کہ ان پر ریاکاری کا ملمع تھا ، مولا پھر تو ....... " ہم تاریک راہوں میں مارے گئے "
اب بتا دے مولا تیری رحمت تیرے عذاب پر بھاری ہے بتا، کیا کریں کہ معافی ملے؟؟ ایک بہن کی وراثت کھانے والا،پڑوسی کو ایذا دینے والا،رحم کے رشتوں سے کینہ رکھنے والا،آیت کریمہ پڑھتا رھے خود پر دم کرتا رہے۔۔۔کیا طبیب کا نسخہ گھول کر پینے یا جلا کر دھونی دینے سے شفاء نصیب ہو سکتی ہے؟؟

یہ بھی پڑھیں:   کرونا سے مذاکرات - بلال شیخ

ظلم کا ادراک تو کریں،کسی کو نہ بتائیں صرف خود کو بتائیں کہ ظالم میں ہی ہوں۔اگرظلم کی تلافی کی فکر ہی نہیں تو زبان سے جپنے کا کیا حاصل؟؟۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(مفہوم) گرد آلود کپڑوں ، بکھرے بالوں کے ساتھ میدان عرفات میں آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کر گڑگڑانے والے پر نظر بھی نہ کی جائیگی اگر حرام کا لقمہ بھی پیٹ میں گیا ہوگا۔ بات لقمہ کی ہے یہاں تو زندگیاں گزر گئیں بن سوچے کہ مال جائز ہے کہ ناجائز۔مال۔جائز مال بھی جائز نہیں رھتا اگر حقداروں کے حق مار لیے جائیں۔ سنو!تم جٹھانی سے اختلاف ختم کردو ۔کتنا عرصہ ہوا بھتیجے چوکھٹ نہیں چڑھتے تمہاری . اسے براہ راست حملہ کی امید نہ تھی تنک کر بولی کیا سب قصور میرا ہے؟ اللہ بھی جانتا ہے دلوں کے حال۔یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔میں نے کہا یہی تو وقت ہے توبہ کا۔تم معاف کردو اس لیے کہ جب معاف کروگی تو معاف کی جاؤگی۔ چند لمحہ کی خامشی۔۔اچھا دیکھتی ہوں۔۔کہہ کر فون بند کردیا۔ میں نے ٹھنڈی آہ بھر کے کھڑکی سے باہر دیکھا زیرلب آیت کریمہ پڑھی۔گلی سے مچھلی والا آواز لگاتا گزر رہا تھا۔۔تازہ مچھلی،عمدہ مچھلی۔ روز ہی دروازے سے گزرتا ہے آج سوچا کہ۔۔۔ کوئی مچھلی کا پیٹ ہی تھا جہاں وقت کے پیغمبر کو وہ معرفت ملی جو آیت کریمہ کے عمیق جزبوں میں ڈھک گئی۔سچی توبہ ، توبۃ النصوح

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.