کرونا، مجھے نہ ہونا - ذیشان نور خیلجی

آج کافی دنوں بعد کالم لے کے حاضر ہوا ہوں۔ دراصل فلو کا شکار ہو گیا تھا اور آپ تو جانتے ہیں آدمی اپنے آپ میں مقید سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ قید و بند والی صعبتیں آج کل کرونا وائرس کی مرہون منت ہیں۔ لیکن حوصلہ رکھیے، مجھے عام موسمی فلو ہی ہوا تھا، کرونا نہیں۔

اور ویسے بھی میں اتنا چنیدہ کہاں، کہ بائیس کروڑ کے پاکستان میں جہاں ابھی تک صرف ساٹھ ستر لوگوں کا ہی اس سے واسطہ پڑا ہے، میرا نام نامی بھی ان میں شامل ہو۔گو یار لوگ بضد تھے کہ ٹیسٹ کرواؤں۔ لیکن میرا ماننا تھا کہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہے ایسے میں بے تکے پیسے خرچنے کا فائدہ۔گو صرف ستر کے قریب ہی لوگ ہیں جنھیں اس وائرس کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جیسا کہ آج ہی کی بات ہے ہمارا پرانا ملازم دروازے پہ آیا۔

مجھے حیرانی ہوئی کہ شادی کی چھٹیاں لے کے گیا تھا اور ابھی بیل منڈھے بھی نہ چڑھی کہ یہ واپس ٹپک پڑا۔ کہنے لگا باؤ جی ! آنے والے اتوار شادی طے پائی ہے اور شادی ہال والوں کو پیشگی ادائیگی بھی کر دی ہے۔ لیکن اب سنا ہے کہ لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہے لہذا، آج شام کا وقت نکالیں تاکہ شادی ہال والوں سے معاملات نمٹائے جا سکیں۔ میں نے کہا چھوڑو یار ! بعد میں شادی کر لینا، جب حالات ٹھیک ہوں گے، اتنی بھی کیا جلدی ہے۔ کہنے لگا آپ کی شادی تو ہونی نہیں اور آپ کا دل ہے کسی اور کی بھی نہ ہو۔

کیسی نفسا نفسی کا عالم ہے۔ نوکر مالک کا نہیں مالک نوکر کا نہیں رہا اور یہ سب کارستانیاں اسی موئے کرونے کی ہیں۔ اور جسے دیکھو بس اسی کا رونا لئے بیٹھا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے میں الیکٹریشن سے بجلی ٹھیک کروا رہا تھا۔ کہنے لگا یہ کرونا بہت خطرناک قسم کی بیماری ہے اور انسان موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ ویسے موت بھی ایک حقیقت ہے اور آپ کو پتہ ہے روح قبض کرنے کے لئے اللہ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ مجھے خدشہ گزرا، کہیں اب یہ نہ کہہ دے کہ اس فرشتے کا نام کرونا ہے۔خیر ! وہ کہنے لگا حکیم لقمان کی دانائی بہت مشہور ہے جس کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے۔ انہوں نے بھی کوشش کی تھی موت سے بچنے کی۔ اور اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنی صورت جیسے چند مجسمے بھی بنا ڈالے۔ لیکن پھر بھی فرشتے کو چکما نہ دے سکے اور پکڑے گئے۔

ویسے قارئین ! آپس کی بات ہے اگر وہ مادام تساؤ میوزیم میں خدمات انجام دینے والے مجسمہ ساز سے رابطہ کر لیتے تو شاید زندہ ہوتے اور پھر ہماری طرح کرونا وائرس کے متاثرین میں شمار ہوتے۔ متاثرین سے یاد آیا یہ جن کو سکول اور کالجز سے چھٹیاں ہوئی ہیں کسی سطح پر وہ بھی تو اس سے متاثر ہی ہوئے ہیں اور جو میری طرح ان چھٹیوں پہ بے تکی خوشیاں منا رہے ہیں وہ بھی متاثرین میں ہی شمار ہوں گے۔ اسی خوشی کو دو چند کرنے کے لئے میں تالے لگے سکولز دیکھنے علی الصبح گھر سے نکلا کہ راستے میں قریبی مسجد کے پیش امام سے واسطہ پڑ گیا۔ کہنے لگے کہ آج صبح ہی مجھے گھر والی کا فون آیا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ سنا ہے ایک پہنچے ہوئے بزرگ کو خواب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ سب لوگ مصحف مبارک کے صفحات کھولیں ان میں سے میرے بال برآمد ہوں گے۔ انہیں پانی میں بھگو کر پانی پی لیں، کرونا پاس بھی نہ پھٹکے گا۔ لیکن مجھے کون سا کرونا وائرس ہوا تھا لہذا ان کی باتوں پہ کان نہ دھرے اور اپنا راستہ لیا۔

شہر کا چکر لگا کے واپس آ رہا تھا کہ پھر سے انہی حضرت کا دیدار پرانوار ہو گیا۔ فرمانے لگے کہ پوری بات تو سنتے جائیں۔ پھر میں (امام صاحب) نے فون پہ اپنی زوجہ محترمہ کو ڈپٹا کہ تم نے اس پہ عمل کیوں نہیں کیا۔ لہذا اس نے گھر میں رکھے قرآن پاک کو کھولا اور اس میں موجود موئے مبارک کو پانی میں بھگو کے خود بھی پیا اور بچوں کو بھی پلایا۔ اس کے بعد میں نے بھی فجر کے وقت بچوں کو قرآن شریف پڑھاتے ہوئے یہ با برکت عمل انجام دیا ہے۔

ویسے کل میں نے ہو بہو یہی بات میڈیا پہ بھی سنی ہے۔ بس اس کا راوی چونکہ اہل تشیع فرقہ سے تعلق رکھتا تھا لہذا ان پہنچے ہوئے بزرگ کی جگہ ایک ایرانی عالم نے لے لی اور خواب میں زیارت کے لئے جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے امام معصوم علیہ السلام کی ذات ٹھہری۔قارئین ! مجھے نہیں علم، سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ لیکن حقائق یہ ہیں کہ حرم ہو کہ دیر، کلیسا ہو کہ کنیسہ، سب ہی اس نگھوڑے کرونے کی وجہ سے بند ہوئے پڑے ہیں۔ اور اب بے اختیار ہی پکار اٹھنے کو جی چاہتا ہے۔
یا کرونا ! ہن تیرا ای آسرا اے۔