دشتِ تنہائی میں - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

سمیرا، کاشف کا ہاتھ پکڑے گھر میں داخل ہوئی تو کمرے سے کھٹ پٹ سنائی دی، اس نے چونک کر دہلیز پر دیکھا تو آفتاب صاحب کے جوتوں پر نظر پڑی، یعنی دو ہفتے بعد آج صاحب کو گھر کا رستہ یاد آگیا تھا، کاشف اس سے ہاتھ چھڑا کر اندر بھاگا:

۔ ’’پا پا آگئے ۔۔پاپا آگئے ۔۔ ‘‘۔

آفتاب بچے کے اشتیاق کو نظر انداز کر کے الماری کھنگالنے میں مگن رہے، اور وہ حسرت سے باپ کی طرف دیکھتا رہا، انہوں نے الماری سے نکالے کاغذات بریف کیس میں ڈالے ، اور ایک جانب ہو کر باہر نکلنا چاہا، مگر کاشف پھر ان کے سامنے آگیا تھا:

۔ ’’پاپا ۔۔ پاپا ۔۔ ‘‘۔
انہوں نے بے دلی سے اس کے گال تھپتھپائے، اور لاؤنج میں کھڑی سمیرا کی جانب متوجہ ہوئے۔ ’’میں جا رہا ہوں ۔۔ مصروف ہوں کام میں ۔۔ کچھ روز رابطہ نہیں کر سکوں گا ۔۔ گھر کا سودا سلف لے آیا ہوں ۔۔ تنگ نہ کرنا فون کر کے ۔۔‘‘۔اور وہ کوئی جواب سنے بنا ہی باہر نکل گئے۔سمیرا کے چہرے پر ایک سایہ لہرایا، کئی مہینے سے آفتاب صاحب کے رویے میں اکتاہٹ اور بے زاری وہ محسوس کر رہی تھی، انکے گھر آنے سے جس زندگی کا احساس ابھرتا تھا اب وہ معدوم ہوتی جا رہی تھی۔

آج وہ دو ہفتے بعد گھر میں آئے تھے، مگر اس طرح کہ انہیں بیوی بچوں کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش تھی نہ اپنا حال بیان کرنے کی، ہاں کنبے کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے مہینے بھر کا راشن فراہم کر دیا تھا، سمیرا اٹھی اور کاشف کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی، اس کا یونیفارم تبدیل کروایا، منہ ہاتھ دھلا کر کھانا اس کے سامنے رکھا، مگر وہ بسورے بیٹھا رہا، اور وہ نوالے بنا کر بڑی چاہ سے اس کو کھلاتی رہی، تھوڑی سی کوشش سے کاشف بہل گیا اور کھیل میں لگ گیا۔ثاقب، عاقب اور وجیہہ سکول سے لوٹے تو اس نے بڑے شوق سے بتایا:

۔ ’’پاپا آئے تھے آج ۔۔ ‘‘۔
’’کہاں ہیں وہ؟‘‘۔ تینوں ان کے کمرے کی جانب بھاگے، ان کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے تھے، انہوں نے غور ہی نہ کیا کہ کاشف نے آئے ہیں نہیں کہا تھا، آئے تھے کہا تھا، مگر وہ اتنے اداس تھے کہ پاپا کا نام سنتے ہی اندر کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ اور جب ماما نے انہیں بقیہ تفصیل بتائی تو وہ افسردہ ہو گئے، اب انہیں مزید دو ہفتے ان کا انتظار کرنا ہو گا، اور یہ دو ہفتے ایک پہاڑ تھے ان معصوموں کے لئے۔ اگرچہ آفتاب صاحب کام کے سلسلے میں کئی دن گھر سے دور رہتے مگر بچوں اور سمیرا کو انتظار رہتا، باوجودیکہ زندگی سمیرا کے لئے بہت خوشگوار نہیں رہی تھی۔

اس روز وہ بچوں کو سکول بھیج کر گھر کے کام نمٹا رہی تھیں کہ وہ اچانک آ گئے، چہرے پر تازگی تھی، اور حلیہ بھی قدرے مختلف! سر سے پاؤں تک سب کچھ ہی نیا تھا، وہ ان کے لئے پانی لینے کچن کی جانب بڑھی تو آفتاب نے اسے روک دیا:

’’ادھر بیٹھو، ضروری بات کرنی ہے تم سے ۔۔ ‘‘۔وہ ہک دھک رہ گئی، دھڑکتے دل کے ساتھ قریب پڑے صوفے کے کنارے ٹک گئی، آفتاب صاحب کے الفاظ اس کے لئے کسی بم سے کم نہ تھے۔ ’’سنو سمیرا ۔۔ میرا تمہارا گذارا اب مشکل ہو گیا ہے، خاندان کے بڑوں کے فیصلے کو میں کبھی دل سے قبول نہیں کر سکا، زندگی ایک ہی بار ملتی ہے، میں اسے بد دلی سے نہیں گزارنا چاہتا ۔۔‘‘۔ انہوں نے مختصر الفاظ میں عندیہ بیان کر دیا۔

سمیرا کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں، سارے جسم کا خون چہرے میں آکر رک سا گیا، نجانے توہین کا احساس ہوا تھا اسے یا اتنی قربانیوں کے رائیگاں جانے کا! کیا کچھ نہ کیا تھا اس نے آفتاب کو خوش کرنے کے لئے،اپنی ہستی ہی بدل دی تھی، اس نے ہمیشہ انکے آرام کا خیال رکھا تھا، انکی ہر آواز پر لبیک کہا تھا، شادی کے بعد کچھ عرصے تک کوئی ڈھنگ کا کام تک نہ تھا ان کے پاس، اور جب سمیرا کو اپنے باپ کی وراثت کا پیسہ ملا تو اس نے بلا تردد اسے آفتاب کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا، ان دونوں کا سب کچھ مشترک ہی تو تھا، وہیں سے انہوں نے کاروبار کی ابتدا کی تھی، جو سات آٹھ سالوں میں کافی پھیل گیا تھا، شہر کے درمیانے درجے کے سیکٹر میں انہوں نے دو منزلہ مکان بھی خرید لیا تھا۔

جس کے نچلے حصّے میں رہائش کے ساتھ اوپر والے حصّے کو کرایے پر اٹھا دیا تھا، اس مکان میں آنے کے بعد آفتاب کی باہر کی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں، اب انہیں اطمینان بھی تھا کہ ان کے بیوی بچے اب تنہا نہیں ہیں، اس لئے وہ کئی کئی دن کاروبار کے سلسلے میں بیرون شہر بھی چلے جاتے، لیکن ان کی زندگی میں بد دلی اور بے زاری تو نہ تھی، یعنی سمیرا جسے کاروباری مصروفیت سمجھ رہی تھیں وہ گھر اور گھر والی سے فرار تھا! سمیرا نے بے یقینی کے عالم میں شوہر کی جانب دیکھا، اس کے چہرے پر کتنی سفاکیت تھی، اور زبان تیر برسانے کو تیار! وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔

’’اگر تم مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دو تو میں تمہارا اور بچوں کا پورا خیال رکھوں گا ۔۔‘‘۔اس نے سوالیہ انداز میں سامنے کھڑے شخص کی جانب دیکھا، جس کی آنکھوں میں ہی نہیں پورے وجود میںبے گانگی ہی بے گانگی تھی۔ ’’میں فارغ کر سکتا تھا تمہیں ۔۔ بس بچوں کا خیال آگیامجھے ۔ انہوں نے اجازت نامہ آگے بڑھاتے ہوئے گویا ترکش کا ایک اور تیر پھینک دیا، جو ٹھیک نشانے پر لگا، سمیرا کا دل چاہا کہ وہ چیخ کر کہے، کہ کر دو فارغ، تم نے کب سے فارغ ہی کر رکھا ہے، مگر اسے بھی بچوں ہی کا خیال آگیا، اگر یہ کٹھور شخص اپنے کہے کو پورا کر دکھائے تو کہاں جاؤں گی؟

اس نے ایک ایک کر کے سب بہن بھائیوں کے بارے میں سوچا، ان سے اچھے تعلقات استوار تھے، مگر شاید کسی کے گھر میں بھی میری اور بچوں کی جگہ نہ ہو گی، اس نے اپنی کنپٹیوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سہلایا، اور کاغذ تھام کر مطلوبہ جگہ دستخط کر دیے، آنسؤوں کا سمندر بہہ نکلنے کو بے تاب تھا، وہ اندر کمرے کی جانب بھاگی، اور آفتاب صاحب کاغذ اٹھا کا جھٹ باہر نکل گئے، انکے راستے کی کیل کتنی آسانی سے نکل گئی تھی۔سمیرا نے ہولے ہولے زندگی سے سمجھوتا کر لیا، وہ بچپن سے ہی خاموش طبع تھیں، اب اس غم کو بھی اس نے اپنے اندر اتار لیا، بچے ابھی اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں کچھ بتانا انکے ذہن منتشر کرنے کے مترادف تھا۔

وہ پوری دلجمعی سے بچوں کی تعلیم اور تربیت میں مگن ہو گئی، اگرچہ اس کا گھروندا اندھیوں کی زد میں رہا، آفتاب نے جس ذمہ داری کے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، اب وہ ان کے لئے ناقابل ِ برداشت بوجھ بن رہی تھی، نئی شادی کے پہلے چھ ماہ وہ مکان کا کرایہ سمیرا کو بھجواتے رہے، اور پھر آہستہ آہستہ اس میں بھی کمی اور کٹوتی ہوتی چلی گئی، وہ فون پر ہی اس سے اخراجات کے اضافے کا رونا روتے اور اگلا چیک اس سے بھی کم رقم کا ہوتا، جوں جوں چادر سکڑ رہی تھی۔

وہ پاؤں سمیٹتی چلی جا رہی تھی، مگر کہاں تک؟! دوسری بیوی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، آفتاب صاحب نے کسی عدل اور برابری کا تو وعدہ بھی نہ کیا تھا مگر سمیرا کو وہ یوں معلق اور فضا میں لٹکتا چھوڑ دیں گے، یہ اس نے سوچا بھی نہ تھا، ان کی جیب کے روزن سے نکلے کچھ سکّے تو اسے مل جاتے مگر اس کی تنہائی کا مداوا کرنے کا خیال انہیں کبھی نہ آیا تھا، وہ دنیا کے ریکارڈ میں بیوی تھی، مگر بیواؤں سے بدتر ۔

اس روز وہ اتوار بازار سے خریداری کرنے گئی تو ایک کاروباری خیال اس کے ذہن میں آیا، اس نے کچھ رقم سے ٹافیاں، بسکٹ اور چپس کے کچھ ڈبے خرید لئے، عصر کے وقت گھر کے سامنے چٹائی بچھا کر اس نے انہیں ترتیب سے رکھا، اور بچوں کو ہوم ورک کروانے وہیں بٹھا دیا، بچے سکول کا کام بھی کرتے رہے اور آنے والے بچوں کو چیزیں بھی فروخت کرتے رہے، مغرب سے پہلے سارا سامان سمیٹ کر اندر رکھا ، اور بڑے بیٹے ثاقب نے حاصل شدہ رقم اس کے حوالے کی، اس نے نفع کا حساب لگا کر اسی کو دے دیا، جاؤ بیٹا ، سکول کے لئے جس شے کی ضرورت ہے ، کل ان پیسوں سے خرید لینا اور بہن بھائیوں کو بھی دلا دینا۔اللہ تعالی نے مفلسی میں ایک تدبیر اسے سجھا دی تھی۔

صبح بچوں کو ناشتا دینے کے لئے اس نے بند کا پیکٹ کھول کر ایک ایک بن بچوں کو دے دیا، اور ابھی اس نے چائے کا خالی گھونٹ بھرا ہی تھا کہ وجیہہ آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔ ’’ما ما، آپ کیا کھائیں گی؟‘‘۔وہ مسکرائی، کتنا خیال تھا اس کی بیٹی رانی کو اس کا۔ ’’تم سب مجھے اپنے بن سے ایک ایک نوالہ دے دو ۔۔‘‘۔ سب نے باری باری اسے اپنا بن دیا، اور یوں سب کا ناشتا ہو گیا، اور پھر تو اسے عادت ہی ہو گئی، بچوں سے نوالہ لے کر پیٹ کی آگ بجھانے کی!! اور بچے بھی اس کے منہ میں نوالہ ڈال کر ہی کچھ کھاتے۔

سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو اس نے بچوں کے ساتھ مل کر کئی کام کئے، جن سے کوئی بڑی آمدنی تو نہ ہوئی، مگر ان کی دال روٹی چلنے لگی، آفتاب صاحب کی بھی گھریلو ضروریات بڑھ رہی تھیں، اس روز بھی وہ جلدی میں گھر آئے تھے، بچے تیزی سے ان کی جانب بڑھے تھے، مگر ان کی نگاہوں کے اجنبی پن نے انہیں سہما دیا تھا، وہ ماں کے پیچھے جا کھڑے ہوئے تھے، اور انہوں نے اپنے کانوں سے سن لیا تھا کہ اب والد کی جانب سے انہیں ماہانہ خرچ (جو پہلے ہی کافی سکڑ چکا تھا) نہیں ملے گا۔

’’بچے اب بڑے ہو گئے ہیں، کچھ کر سکتے ہیں، اپنے اور تمہارے لئے، ثاقب میٹرک میں تو پہنچ چکا ہے نا ۔’جی پا پا ‘۔ وہ مخاطب نہیں تھا، مگر اس نے بے ساختہ ہی جواب دیا۔اور وہ سارے سوال اور جواب جو اس کے اندر کتنے عرصے سے کلبلا رہے تھے، اس نے دل کے دبیز خانوں میں دفن کر دیے، ان کا باپ لمبے ڈگ بھرتا جا چکا تھا، اور وہ سب ماں سے لپٹ کر رو رہے تھے، اور آج تو وہ بھی رو رہی تھی، سب کو اپنی آغوش میں بھر کر، ان کے گھر صف ِ ماتم بچھی تھی، مگر جب وہ خاموش ہوئے تو اپنی مدد آپ کا جذبہ سب پر حاوی تھا۔

ثاقب نے گھر ہی کے ڈرائینگ روم میں پرائمری کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی شروع کر دی، سمیرا نے گھر میں تھوڑے سے سرمائے سے خواتین کی ضرورت کی اشیاء رکھ لیں، اور بچوں کے سکول کے ذریعے اس کا تعارف کروایا اور یوں گھریلو کاروبار کی بنیاد رکھ دی، میل ملاقات بڑھا تو فروزن اشیاء بھی تیار کرنا شروع کر دیں، اس کے ہاتھ کے بنے کھانوں کا ذائقہ بھی لاجواب تھا اور یوں اس کے کام کا دائرہ پھیلتا چلا گیا اور گھر کا نظام چلنے لگا۔

ثاقب کے بعد عاقب بھی اس کا مدد گار بن گیا، اور وجیہہ کا کام تو سب کے جانے کے بعد شروع ہوتا جب اگلے دن کے لئے کمرہ صاف کرنے کے بعد اسے بھائیوں کو چائے بھی دینا پڑتی۔
ثاقب یونیورسٹی پہنچا تو مزید اخراجات کا بوجھ کندھوں پر آگیا، وہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ کو گھر جا کر پڑھانے لگا، اور وہیں سے اسے برطانیہ کے مختلف پروفیشنل امتحانات کی معلومات تک رسائی ملی، جن کی فیس بھی پونڈز کی کرنسی میں تھی، مگر اسے ایک ہی لگن تھی۔

تعلیم اعلی درجے کی حاصل کرنا ہے، اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا، وہ دن کا محنت کش اور رات کا شب بیدار تھا، جب سمیرا اس کا کندھا تھپکتی تو وہ حسرت سے کہتا، کون سی شب بیداری ماما؟! میں تو پڑھنے کے لئے جاگتا ہوں، بس فرض نماز ہی ادا کر پاتا ہوں، تو وہ بڑے مان سے کہتی، نفل میں پڑھتی ہوں نا تیرے لئے۔۔اللہ مدد کرے گا تیری۔اس کے امتحانات قریب ہی تھے جب اس کے باپ نے بے گانگی کا آخری وار کیا، اب اس کی بیوی نے اس مکان کو بیچنے کا ارادہ کر لیا تھا جو ان بے کس و مجبور ماں بچوں کی پناہ گاہ تھا، آفتاب نے فون پر ہی سمیرا کو بتایا تھا۔ ’’میں مکان بیچ رہا ہوں، اس کی آدھی رقم تمہیں دوں گا، یہ میرا وعدہ ہے، بس تمہیں یہ گھر خالی کرنا ہوگا ، ایک ماہ میں ۔ ’’مگر بچوں کے امتحانات سر پر ہیں، کہاں سے تلاش کروں اتنی جلدی مکان؟‘‘۔

یہاں تو جما جمایا نظام تھا، بچوں کی ٹیوشن کا سینٹر، سمیرا کے گھریلو کاروبار کے گاہک؟ وہ اتنی جلدی کہاں جائے؟ گھر کیسے تلاش کرے؟ لیکن یہ سب سمیرا اور بچوں کے سوچنے کے کام تھے، آفتاب تو اپنا فیصلہ سنا چکا تھا۔اس نے اپنی سب سے قریبی سہیلی کو فون کر کے ساری صورتِ حال بتائی، اور کچھ ہی دنوں میں ایک نئی آبادی میں اسے ایک زیر ِ تعمیر گھر کے ایک حصّے میں رہائش مل گئی، بنیادی ضرورتیں موجود تھیں، بس شہر سے دور ہونے کی بنا پر بچوں کے تعلیمی ادارے دور ہو گئے تھے۔

اس نے جس روز آفتاب کو چابی دینے کے لئے بلایا، اس نے دو لفافے اس کے حوالے کر دیے، ایک میں مکان کی قیمت کا نصف تھا، ایک چیک کی صورت میں، اور دوسرے میں کیا تھا؟ سمیرا کے ہاتھ اسے اٹھاتے ہوئے لرز اٹھے، یہ آفتاب کی جانب سے آخری تحفہ تھا، انکے ازدواجی تعلق کے خاتمے کی قانونی دستاویز!

برسوں پہلے لئے گئے اس کے مال ِ وراثت کی رقم کے قرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اس نے سارے ہی قرض چکا دیے تھے، طلاق کے کاغذات کی دستاویز اس کے ہاتھ میں دے کر اس کے سر سے وہ لفظی سائبان بھی چھین لیا تھا، جو اتنے برس کی لا تعلقی کے باوجود دنیا کی نگاہوں میں موجود تھا!!