کراچی میں پُر اسرار گیس - حبیب الرحمن

لگتا ہے کہ اب پاکستان میں نہ تو کوئی پاکستان کے ساتھ مخلص رہا ہے اور نہ ہی پاکستان کے عوام کی کسی کو پرواہ رہی ہے۔ کسی کا مرجانا یا ماردیا جانا بھی ایسا ہی ہے جیسے "خس کم جہاں پاک" والا معاملہ۔

جان ایک بھی چلی جائے تو جان سے جانے والے کا جہان تو اجڑ ہی جاتا ہے ساتھ میں اس کے لواحقین کی دنیا بھی برباد ہو کر رہ جاتی ہے لیکن پاکستان میں تو پندرہ بیس یا سو پچاس افراد بھی بیک وقت مر جائیں یا ماردیئے جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے حشرات الارض تھے جن کا خاتمہ ہو گیا۔ کراچی میں پُر اسرار گیس کا حملہ ہوئے آج 5 واں دن ہونے کو آیا ہے لیکن اب تک اس بات کا تعین تک نہیں ہو پایا ہے کہ یہ گیس کس نوعیت کی ہے۔ کسی بھی لیبارٹری کی کوئی ایک رپورٹ بھی ایک دوسرے کی تصدیق کرتی نظر نہیں آ رہی اور پورے پاکستان کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ہر پاکستان ہر دوسرے پاکستان کو اس واقعے کا ذمے دار قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ آج کے اخبارجسارت میں شائع ہونے والی خبر نے تو دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شائع ہونے والی خبر کیا ہے ایک پورا کالم ہے جس کو اگر من و عن بھی نقل کر دیا جائے تو یہ کسی کالم نویس کا ایک پُر تفکر کالم ہی محسوس ہوگا۔ جسارت کی اسی خبر کے مطابق اس بات پر اظہار افسوس کیا گیا ہے کہ "کیماڑی میں پھیلنے والی پراسرار زہریلی گیس کا معمہ 4 روز بعد بھی حل نہ ہو سکا۔ زہریلی گیس، لنڈا کے کپڑے، سویا بین یا کوئلے کے ذرات‘ 14 انسانی جانیں کس نے لیں؟

4 روز گزر جانے کے باوجود تفتیشی ادارے، ماہرین ماحولیات اور ڈاکٹرز بھی اصل وجہ معلوم نہ کر سکے"۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی لیبارٹری یا ادارے کے پاس ایسے آلات ہی میسر نہیں جو معاملے کی اصل تہہ تک پہنچ کر اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ پھیلنے والی گیس ہے کونسی۔ جیسا کہ شروع میں یہ کہا جارہا تھا کہ یہ سویابین کی ڈسٹ ہے تو اخبار کی اسی خبر میں شائع ہونے والا یہ سوال کہ "اگر جہاز سے غیر محفوظ انداز میں سویا بین آف لوڈ کرتے ہوئے ذرات فضا میں پھیلے تو جہاز کا عملہ اور موقع پر موجود دیگر مزدور متاثر کیوں نہ ہوئے"، کا کیا جواب دیا جاسکے گا۔ بات تو سچ ہے کہ اگر سارا قصور بحری جہاز سے آف لوڈ ہونے والی سویابین کا ہی تھا تو پھر سب سے پہلے جہاز کا عملہ اور آس پاس موجود مزدور اور دیگر افراد کو لازماً متاثر ہونا چاہیے تھا۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ "متضاد رپورٹس اور اداروں کی ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کے عمل نے عوام کو خوف زدہ کر رکھا ہے، طبی ماہرین کے مطابق سویا بین اور کوئلے کے ذرات جان لیوا نہیں ہوا کرتے"۔

پہلے تو یہ بات ہی طے نہیں ہے کہ یہ فساد کوئلہ آف لوڈ ہونے کی وجہ سے پھیلا ہے یا سویا بین کی غیر محتاط آف لوڈنگ سے، پھر اس پر انسانی جانوں کا ضیاع اس لئے بھی قابل تشویش ہے کہ اب تک کی رپورٹوں کے مطابق ان دونوں کے مضر اثرات اتنے خطرناک نہیں ہوتے کہ جان جانے کا ذرہ بربر بھی امکان ہو۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پُر اسرار گیس، 14 افراد کی ہلاکت اور 500 سے زائد افراد کے متاثر ہونے کی مختلف اداروں کی جانب سے مختلف وجوہ سامنے آ رہی ہیں۔ جامعہ کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سویابین کے ذرات کے فضا میں پھیلنے کی وجہ سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے جن میں سے 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس ضمن میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد کا "جسارت" سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سویا بین یا کوئلے کے ذرات اتنے مہلک نہیں ہیں کہ جن کی وجہ سے اموات واقع ہوسکیں سوائے اس کے کہ ان میں کوئی اور کیمیکل بھی ملا ہوا ہو۔
ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے جامعہ کراچی کے شعبہ تحقیقاتی کیمیا و حیاتیاتی سائنس کی رپورٹ کو بکواس قرار دے دیا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں کسی بھی ایشو پر سنجیدگی دکھانے کے بجائے تمام ادارے اور حکومتیں ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور حسب روایت مل بیٹھ کر ایشو کے بارے میں جاننے اور سنجیدہ تحقیق کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کر تے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غیر ذمے داری اور اداروں کی جانب سے پُر اسرار خاموشی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان خدشات کا اظہار عوام کیلئے اور بھی سوہانِ روح بنا ہوا ہے کہ یہ کسی ری ایکٹر سے خارج ہونے والی گیس یا تابکاری اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ جب ادارے خاموش ہوجائیں اور حکومتیں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے لگیں تو پھر افواہیں پھیلانے والے عناصر کی چاندی ہو جایا کرتی ہے اس لئے ہر وہ ادارہ جو اس معاملے کے متعلق یا تو معلومات رکھتا ہو یا مضر گیس کے اخراج کے اصل منبع کی کھوج لگانے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ عوام تک حقائق کو پہنچائے تا کہ فضاؤں میں پھیلنے والے افواہوں کے زہر کا خاتمہ ہو سکے جو مضر صحت گیس سے کہیں زیادہ زہریلے انداز میں کراچی میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ اخبار اسی سلسلے میں مزید لکھتا ہے کہ متضاد رپورٹس اور بیانات نے عام آدمی کوپریشان کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ مخصوص اوقات میں پراسرار گیس کا پھیلنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ معاملہ سویا بین یا کوئلے کے ذرات کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے یا تو وہاں کسی کیمیکل کی مکسنگ کا کام ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ زہریلی گیس پھیل رہی ہے یا پھر کوئی گیس کہیں سے خارج ہو رہی ہے جس کا کچھ لوگوں کو علم ہے، جب یہ کام بند ہوتا ہے یا لیکیج بند کی جاتی ہے تو فضا میں اثرات میں کمی آ جاتی ہے، ورنہ فضا کو مزید آلودہ کردیتی ہے۔ ڈاکٹر ایس ایم سجاد کی بات میں کافی وزن ہے اور انھوں نے جس خدشے کے اظہار کی دلیل کے طور پر جو حوالہ دیا ہے، اعلیٰ حکام کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سجاد نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ یہ کوئی ہائیڈروجن سلفائیڈ جیسی ہیوی گیس ہے جو آکسیجن سے بھاری گیس ہے جو نیچے ہی رہتی ہے۔ ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس میں بوُ ہوتی ہے جب کہ متاثرہ افراد کے مطابق وہاں پھیلنے والی گیس میں بُو نہیں ہے لیکن اتنی زہریلی ضرور ہے جو لوگوں کے لیے مہلک ثابت ہو رہی ہے۔

جسارت کی اسی خبر کے مطابق معروف فیملی فزیشن اور پی ایم اے کراچی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالغفور شورو کا کہنا ہے کہ کوئلے کے ذرات کے اثرات فوری طور پر متاثر نہیں کرتے، ان سے کسی بھی فرد کے متاثر ہونے میں وقت لگتا ہے جب کہ سویا بین کے ذرات بھی متاثر تو کرتے ہیں مگر جان لیوا نہیں ہیں۔ سویابین کے ذرات پھیلنے کی جگہ سے انتہائی قریب لوگوں کو تو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ان کی سانس کی نالی یا پھیپھڑوں میں جم کر اسے بند کر سکتے ہیں اور موت کا سبب بن سکتے ہیں لیکن متاثرہ فراد کے دور ہونے کی صورت میں جان لیوا نہیں ہوتے۔
جسارت میں شائع ہونے والی خبر تمام ذمے دار اداروں اور اور اربابِ حکومت و اختیار کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور دعوت دے رہی ہے کہ بجائے بندر کی بلا تویلے کے سر تھوپنے کے، ہر ادارہ اور تمام حکومتیں مل بیٹھ کے معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ بجائے اس سنجیدہ معاملے کو ایک دوسرے کے سر منڈھنے کے، اس بات کا کھوج لگائیں کہ اگر یہ گیس کی لیکیج ہے تو آخر کہاں سے ہے اور جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کہیں آس پاس مختلف کیمیکلوں کی مکسنگ کی جارہی ہے تو وہ کون لوگ، کارخانے یا ادارے ہیں جو ایسا کر رہے ہیں۔

حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ اگر غیر ذے دار افراد، اداروں یا خارکانے داروں کے متعلق کوئی ادارہ یا خود حکومت کوئی علم رکھتی ہو تو ان کے نام کو عوام کے سامنے نہ صرف ظاہر کرے بلکہ ان کو قانون کے مطابق سزا دینے کے علاوہ انسانی جانوں کے زیاں اور متاثرین کی دادرسی کے طور پر مناسب ہرجانہ بھی ان پر عائد کیا جائے۔
یاد رہے کہ آج سے چند برس پہلے بھی کراچی میں صرف تین دنوں کے اندر اندر 500 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کا سبب "ہیٹ اسٹروک" کو قرار دیا گیا تھا۔ کراچی میں پڑنے والی اس نوعیت کی یہ کوئی پہلی گرمی نہ تھی اس سے قبل بھی کراچی کئی مرتبہ شدید گرمی کی زد میں آتا رہا تھا۔ 500 سے زائد افراد کا صرف 3 دنوں کے اندر اندر مر جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس بات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے تھیں لیکن آج تک نہ صرف یہ کہ تحقیقات نہیں کی گئیں بلکہ خبروں کو بھی ہر سطح پر دبایا گیا۔ جس شہر کے 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہوجانے کے معاملے پر بھی کسی فرد و بشر کے کان پر جوں تک نہ رینگی ہو وہاں "صرف" 14 ہلاکتوں پر خون جوش مار جائے گا، کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے اس لئے عوام کو چاہیے کہ حوریں دکھانے والے انجکشن لگا کر زندگی کے مزے لیں اور سکون کی نیند سوجانے کی دعا و تیاری کریں اس لئے کہ حقیقی سکون تو قبر میں جانے کے بعد ہی مل سکے گا (قولِ مفکرِ اعظم)۔