اے وجود زن تیرے کتنے روپ - عالیہ عثمان

اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق جوڑے کی شکل میں اس لیے فرمائی کہ وہ دونوں مل کر زندگی کا نظام چلائیں اور باہمی ملاپ سے معاشرتی زندگی اور خاندانی نظام کی بنیاد رکھیں۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت اور مرد انسان ہونے کے لحاظ سے بالکل برابر ہیں اوربہ لحاظ انسانیت یکساں عزت و احترام کے قابل ہیں .

لیکن صلاحیتوں اور قوت کے لحاظ سے ان کا دائرہ کار ایک جیسا نہیں ہے ، دونوں کا جسمانی نظام اور نفسیاتی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ صدیوں سے معاشرے میں تقسیم کار کچھ ایسی رہی کہ باہر کے کام مردوں کے اور گھر کے کام عورتوں کی ذمہ داری سمجھے گئے ، حالانکہ عام عورت شروع سے زرعی کاموں میں شریک رہی خوشی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کامیاب تجربات کے پیچھے عورت ہی کھڑی نظر آتی ہے ۔ دور حاضر میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو خواتین کوکمزور اور کمتر سمجھتے ہیں ، دین اسلام نے خواتین کو مردوں کے لیے بہرصورت محترم بنایا اور ہر حیثیت میں انہیں مردوں کی ذمہ داری قرار دیا ہے .گھر اس دنیا میں آرام و سکون کا مرکز اور تہذیب کی بنیاد ہے انسان گھروں کو آباد کرتے ہیں اور گھر انسان کو چھت فراہم کرتے ہیں لیکن گھر کو سکون کا گہوارہ بنانے میں مرد سے زیادہ عورت کا کردار اہم ہوتا ہے ذمہ داریوں میں گھری اس عورت کے نہ جانے کتنے روپ ہیں پہلے بیٹی بن کر ماں باپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیتی ہے .

خود چھوٹی ہوتی ہے تو اپنے ناز اٹھواتی ہے اور جب ککڑی کی بیل کی طرح بڑھتی ہے تو گھر والوں کے نازاٹھاتی ہے ،جس گھر میں بچپن میں چیزیں پھیلاتی ہے شعورسنبھالنے پر گھر کی بکھری چیزیں سمیٹتی بھی ہے، گھر کے کسی فرد کو رات گئے چائے بنا کر دینا کسی کو علی الصبح وضو کا پانی دینا تو کبھی ماں کاباورچی خانے میں ہاتھ بٹاناابا کی فائلز سنبھال کر رکھنا پھر پیا دیس ایک نئے سفر پر روانہ ہوتے ہوے ماں باپ کی آنکھوں کو گیلا کر جانا اسی عورت کا ایک رنگ ہے، بہن کے روپ میں بھائیوں کا مان رکھنا، کسی کے مکان کو گھر بنانا اور ہنستے مسکراتے زندگی کے سب اتارچڑھاؤ دیکھنا عورت ہی کا ظرف ہے۔ مشرق ہو یا مغرب اعلی تعلیم یافتہ ہو یا دو چار جماعتیں پڑھی ہوئی انسانی تہذیب کو ہمیشہ عورت کے انہیں کرداروں کی ضرورت رہی ہے، جہاں وقت بدلا اس کے ساتھ ہی خود عورت کا اپنا کردار بھی بدلا ہے اس پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں مختلف میدانوں میں بے شمار کارنامے انجام دیئے۔ اس نے خلاء کا سفر بھی کیا اور چاند پر قدم بھی رکھا علم کی دنیا میں سکہ بھی منوایا

یہ بھی پڑھیں:   ممتاز مع اشرف - لطیف النساء

اور سائنس، طب اور جراحی کے میدان میں بھی خود کو منوایا نوبل پرائز بھی حاصل کیا اور حکومتوں کی سربراہی کا تاج بھی پہنا تاریخ عورت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ عورت اور مرد کو گاڑی کے دو پہیوں کی مانند قراردیا جاتا ہے اردو کی ایک افسانہ نگار نے کتنا صحیح لکھا ہے۔ ، : مجھے یقین ہے عورت جب چاند سے واپس آئی ہوگی تو اس کے شوہر نے پوچھا ہوگا تمہیں پتا ہے میرے موزے کہاں رکھے ہیں؟ تو اس سوال کا جواب عورت کوکل بھی دینا تھا اور آج بھی دینا ہے، یعنی یہ سب کچھ تو عورت کر رہی ہے لیکن آج کے دور میں دشمنان اسلام بلکہ دشمنان انسانیت کو اسلام میں خواتین کو ملی ہوئی عزت و شرافت اور تحفظ سخت ناگوارلگ رہا ہے وہ عورتوں کو تباہی اور بربادی اور ہلاکت کے ایک ایسے وسیلے اور ایسے جال کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے وہ کمزور ایمان، بے قابو خواہشات و ہوس سے مغلوب لوگوں کو اپنے پھندے میں گرفتار کر سکیں، اللہ رب العزت ایسے لوگوں کے حق میں ارشاد فرماتا ہے۔" اور جو لوگ خواہشات نفس کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس راہ راست سے ہٹ جاؤ"۔النساء27۔

یعنی بیمار اور کمزور عقیدے کے مسلمان ، خواتین کے تعلق سے یہی چاہتے ہیں کہ شیطانی خواہشات رکھنے والے تاجروں کے شوروم میں ان کو سستے سامانوں کی طرح رکھا جائے جو خریداروں کے سامنے بلکل کھلے رکھے جاتے ہیں۔ تاکہ ان کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں اور خواتین اپنے گھروں کی چار دیواری سے نکل کر مردوں کے دوش بدوش ان کے کاموں میں ہاتھ بٹایں یا مختلف ذرائع ابلاغ میں بحیثیت اناؤنسر کا کام کریں جہاں وہ اپنی صورتوں اور آواز سے لوگوں کے فتنے جگائیں، اس طرح بعض تاجروں اور صنعتی کمپنیوں نے فحش تصویروں کو اپنے سامان کی تجارت اور اپنے پروڈکٹ پر آویزاں کرکے انہیں فروغ دینے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ضرورت کے تحت عورت کو گھر کے باہر مجبوری کے تحت سروس یا دیگرجائز کام کرنے کی تواسلام میں بھی جھوٹ ہے لیکن گھریلو ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بعد ہی وہ گھر کے باہر سروس کر سکتی ہے کیونکہ گھریلو ذمہ داریوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ارشاد نبوی ہے " یعنی عورت اپنے شوہر کے گھر کی محافظ و نگہبان ہیں اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔"بخاری و مسلم_. . عورت،چراغ خانہ یا شمع محفل نہیں ہے وہ آب دار موتی ہے جس کی روشنی سارے عالم کو منور کرتی ہے ۔. . .