ہم زندہ قوم ہیں- سجاد میر

سوچتا ہوں سچ دیکھوں یا کالم لکھوں۔ آخر بہت دنوں کے بعد یہ دن نصیب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے‘دہشت گردی میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ ان میں کرکٹ بھی ایک عطیہ خداوندی تھا جو ہم سے چھن گیا۔ ہم تو ان دنوں کو بھولتے جا رہے تھے جب کرکٹ نے اس نوزائیدہ قوم کو عالمی سطح پر روشناس کرایا تھا۔ ٹیم انگلینڈ گئی تو ہمارے پرانے آقائوں نے ازراہ تکلف ہمیں بچہ ٹیم کہا۔ اصل لفظ ہی استعمال کرتے ہیں‘ اس میں مختلف جہت بھی ہے۔ اس بے بی ٹیم نے جب اوول کے میدان میں انگلینڈ کو دھول چٹا دی‘تو دنیا نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ یہ کون ہے۔ یہ فضل محمود کون ہے جس نے 12کھلاڑیوں کو کرکٹ کے اپنے گھر میں پویلین کی راہ دکھائی۔اس زمانے میں ٹی وی تو ہوتا نہیں تھا۔ انگلش پریس نے لکھا England Fazalad۔انگریزی ڈکشنری کو ایک نیا لفظ مل گیا اور پاکستانی قوم کو ایک نیا ہیرو۔ ان دنوں ہمارا انحصار انہی پر ہوتا تھا۔ اس زمانے میں کوئی ٹی وی تو تھا نہیں۔ بس عمر قریشی اور ارجمند مارکر کی ریڈیوکمنٹری تھی وہ بھی کیا لیجنڈ تھے۔ہمارا یہ بائولر ہمارا ہیرو بن گیا۔ سچ مچ کا ہیرو خوبرو‘وجیہہ ‘ سٹائلش وہ ساری خوبیاں تھیں اس میں جو صرف ٹی وی پر نظر آتی ہیں۔ مگر پھر بھی دلوں میں چھا گیا۔ وہ بائولر ایک مہوشوںکے جمگٹھوں میں گھر گیا۔انگلستان کے میدانوں سے لے کر ہندوستان کی گرائونڈوں تک اس کی دھومیں تھیں۔

اس کے ساتھ ایک بلے باز بھی تھا۔ اسے دنیا کے بہترین بلے بازوں میں گنا گیا۔ اس زمانے میں پاکستانی قوم اس کا نام بریڈ مین‘سوبرز‘ہٹن‘ہیمنڈ کے ساتھ لیتی تھی۔ دور دیس ٹیم مشکل میں پھنس گئی۔ حنیف محمد میدان میں اترا اور واپس آنے کا نام نہ لیا۔ تین دن تک ویسٹ انڈیز کی کالی آندھی کا مقابلہ کرتا رہا اور یقینی شکست کوٹال گیا۔حنیف محمد کو لٹل ماسٹر کہا گیا اور آج تک اوریجنل لٹل ماسٹر اس کے نام کے ساتھ لگتا ہے۔ حنیف محمد کی بلے بازی اور فضل کی بائولنگ نے دنیا میں پاکستان کے نام کو روشن کر دیا۔ دل تو کرتا ہے دوسرے کھیلوں کا بھی ذکر کروں۔ کم ازکم ہاکی کا جہاں پہلے ہم سلور میڈل جیتتے رہے پھر گولڈ میڈل پر آ گئے‘ مگر اس وقت تو میں کرکٹ کا جشن منا رہا ہوں۔ اس ٹیم میں اور بھی بہت لوگ تھے۔ ابھی دو چار ہفتے پہلے ان میں سے ایک کا انتقال ہوا ہے۔ اس وقت وہ ایک بڑے بزنس مین تھے مگر ان دنوں کرکٹ کی دنیا کے ہیرو تھے۔ وقار حسن ایک خوبصورت نوجوان جس نے ان دنوں اپنے وقت کی خوبرو اداکارہ جمیلہ رزاق سے شادی کر لی تو بہت شہرہ ہوا۔ ہمارے ہاں تو اب شوبز اور کھیل کا سمبندھ شروع ہوا ہے۔ ان دنوں یہ بڑی بات تھی۔ اس ٹیم میں ایک نہیں کئی ستارے تھے۔ حنیف محمد توقیرحنیف محمد تھے۔

ایک اور بیٹسمین سعید احمد تھے۔ ون ڈائون کھیلتے تھے۔ ایسا نام تھا کہ پورے ملک میں عورتیں انہیں رشک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ جہاز میں بیٹھے تو ساتھ کی نشست پر ایک خاتون آن بیٹھیں۔ کس ریاست کے وارثوں میں تھی۔ یاد نہیں آ رہا اس کا چہرہ اور انداز یاد آ رہا ہے۔ اس نے سعید کو شادی کی آفر کی اور شادی کر لی۔ سعید احمد ایسا بلے باز تھا کہ جب ان کی جگہ نوجوان ظہیر عباس نے لی تو لوگ کہتے تھے کرکٹ بورڈ زیادتی کر گیا ہے۔ برے دن آئے تو یہ شہزادی اسے چھوڑ گئی۔ وہ کراچی کے سپورٹس کمپلیکس میں پڑا رہتا تھا۔ داڑھی رکھ لی تھی اور یہ خاتون سلمیٰ احمد سیاست میں آ گئی تھیں۔ سیاست میں بھی اس کا اپنا انداز تھا۔ یادیں آئی ہیں تو آتی چلی گئی ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان بھی نمودار ہو چکا ہے۔ کرکٹ‘ہاکی اور سکوائش۔یاد آیا جہانگیر اور جان شیر سے بہت پہلے ان کے بڑوں ہاشم خاں‘ اعظم خاں‘ روشن خاں نے بھی دنیا کو مسخر کر رکھا تھا۔ خیر آج بات کرکٹ کی ہو رہی ہے۔ سچ کہوںمیں کرکٹ کا میچ دیکھ رہا ہوں او رساتھ پرانی یادیں تازہ کرتا جا رہا ہوں۔ میں بتا رہا تھا اس پہلی ٹیم میں اور کون کون تھا۔ حنیف اور سعید کے علاوہ امتیاز احمد ہوتے تھے۔ ہمارے وکٹ کیپر اور تیز رفتاری سے بیٹنگ کرنے والے۔ اس لئے مقبول بھی بہت تھے۔ ایک ڈبل سنچری بھی کر رکھی تھی۔ تیز رفتاری سے یاد آیا کہ ایک مقصود احمد تھے جو تماشائیوں کو اتنا خوش کرتے ہوں گے کہ عالمی سطح پر اصل نام کے بجائے میری میکس کے نام سے مشہور تھے۔ نذر محمد‘وزیر محمد‘علیم الدین کیا کیا یاد آ رہا ہے۔ ہاں ہمارے ہاں بائولر بھی کم نہ تھے۔

فضل محمود کے ساتھ خان محمد تھے۔ اس زمانے میں سب سے تیز رفتار۔ مگر کیریئر لمبا نہ تھا۔ فضل کا ساتھ دینے والے ایک اور بائولر محمود حسین تھے۔ ہم نے ایسے کرکٹر پیدا کئے ہیں اب ان کا نام بھی کوئی یاد نہیں کرتا۔ ان دنوں ٹیسٹ کرکٹ اتنی نہ ہوتی تھی۔ فضل نے 134وکٹ میں تو ایک لمبے عرصے یہی ریکارڈ رہا۔ انتخاب عالم آئے تو وہ بھی 125وکٹ لے پائے۔ انہیں ایک طویل عرصے تک ہماری تاریخ کا سب سے کامیاب اور بہترین لیگ سپنر سمجھا گیا اور بھی کئی سپنر تھے۔ ہم ایک لمبے عرصے تک کرکٹ کی دنیا کا ستارا تھے۔ ہم جس سافٹ امیج کی تلاش میں ہیں ان دنوں ہمارا یہ امیج تھا جو انہی لیجنڈری لوگوں کی وجہ سے بنا تھا۔ ہمارے اتھلیٹ بھی میدان مار کر آئے۔عبدالخالق ‘ عبدالرزاق‘محمد یونس‘ ہمارے نیزے باز پھر میدان میں ہم کچھ نہ کچھ تھے۔جب سے ہم نے کھیل کی دنیا کو چھوڑا ہے۔ ہمارے ہاں زوال ہی زوال آیا ہے۔ کھیل کے بارے میں بہت عمدہ انداز میں شیکسپئر نے کہہ لکھا ہے کہ جسے کھیلوں سے دلچسپی نہیں اور جو موسیقی سے پیار نہیں کرتا وہ خطرناک آدمی ہے۔

مراد کچھ یہ ہے کہ ہم نے کھیل میں تو سیاست کر کے یا اسے کاروبار بنا کر تباہ کیا۔ موسیقی کا بھی جنازہ نکال دیا۔ پھر بھی اس شعبے میں جب جھلک نظر آتی ہے تو تسلی ہوتی ہے کہ یہ قوم ابھی تک زندہ ہے۔ میں کھیل کا آدمی نہیں مگر یہ سمجھتا ہوں کہ کسی قوم کے لئے جتنی ضرورت لائبریریوں کے آباد رہنے کی ہے‘ اتنی ہی کھیل کے میدانوں کی۔ کسی قوم کے مزاج کا اندازہ بھی اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ کس کھیل کو پسند کرتی ہے اور اس کے کس انداز سے متاثر ہیں۔ ایک بات اور کہہ دوں‘ ان دنوں جب کہ آئی ٹی کی اہمیت نے ان ڈور سرگرمیوں کو بڑھا دیا ہے‘ مجھے کہنے دیجیے لائبریریوں سے بھی زیادہ قوم کو ذہنی صحت کے لئے کھیل کے میدانوں کی ضرورت ہے اور خدا نے جو کھیل ہمیں عطا کئے ہیں وہ اس کا ہم پر ایک اور احسان ہے۔ ہماری تربیت کے لئے بہت اہم ہیں۔ کرکٹ ‘ہاکی اور سکوائش ہی نہیں‘ کبڈی بھی۔ کیا خیال ہے قوم کی پوری تصویر دیکھنا ہو تو ان سب کو یکساں کر کے دیکھنا ہو گا۔